وزیر اعلیٰ بلوچستان کا اٹھارویں بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب

وزیر اعلیٰ بلوچستان کا اٹھارویں بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اٹھارویں بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل اور قوم کا اصل سرمایہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں کبھی اندھا دھند طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا، جبکہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے منظم منفی بیانیوں سے گمراہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے تعلیم، صحت اور حکمرانی میں اصلاحات، بند اسکولوں کی بحالی اور بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام سمیت مختلف ترقیاتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔

رپورٹ: سیدہ نتاشا

 وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اٹھارویں بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل اور قوم کا اصل سرمایہ ہیں، جنہیں درست تاریخی حقائق اور قومی بیانیے سے آگاہ کرنا ناگزیر ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں ریاست نے کبھی اندھا دھند طاقت کے استعمال کی پالیسی اختیار نہیں کی، جبکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کو ریاستی آپریشن قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے متعلق پھیلائے گئے تصورات اور زمینی حقائق میں واضح فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے منظم جھوٹے بیانیے پھیلا کر نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے پیدا کیے گئے، تاہم تشدد اور انتشار کے ذریعے ریاست کو کمزور کرنے کے خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ پاکستان ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ریاست ہے اور ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔


میر سرفراز بگٹی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ بغیر تحقیق منفی بیانیوں کی اندھی تقلید کے بجائے مثبت اور سچ پر مبنی سوچ اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نوجوانوں کے سخت سے سخت سوالات کے جوابات دلیل، مکالمے اور حقائق کی بنیاد پر دینے کے لیے ہر تعلیمی ادارے اور قومی فورم پر مکالمے کے لیے تیار ہیں۔
خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان میں مؤثر طرزِ حکمرانی کا عملی ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے، کیونکہ ناقص حکمرانی ریاست مخالف جبکہ بہتر حکمرانی ریاستی استحکام کی ضامن ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں 3200 سے زائد بند اسکول دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں اور کئی پسماندہ علاقوں میں قیامِ پاکستان کے بعد پہلی بار بنیادی طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام کو بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تعلیمی اسکالرشپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت سویلین شہداء کے بچوں، اقلیتوں اور خواجہ سرا افراد کو بھی اسکالرشپس دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان کے طلبہ کے لیے دنیا کی دو سو سے زائد عالمی جامعات میں سائنسی مضامین اور پی ایچ ڈی کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
آخر میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بلوچستان کی بہتری کے لیے آخری دن، آخری گھڑی اور آخری لمحے تک کام کرتے رہیں گے۔


Related News

زیارت حملے کے شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک
زیارت حملے کے شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک
زیارت دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں ادا کی گئی، جس کے...
بلوچستان کے آبی حصے کی فراہمی کے لیے اعلیٰ سطحی وفد کا سکھر بیراج کا ہنگامی دورہ
بلوچستان کے آبی حصے کی فراہمی کے لیے اعلیٰ سطحی وفد کا سکھر بیراج کا ہنگامی دورہ
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صوبائی وفد نے سکھر بیراج کا دورہ کیا، جہاں سندھ ایریگیشن حکام نے 24 سے 48 گھنٹو...
زیارت : دو سرکاری صحت مراکز شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ
زیارت : دو سرکاری صحت مراکز شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر زیارت میں رورل ہیلتھ سینٹر احمدون اور بی ایچ یو کاوس غربی کے نام شہدائے پولیس ک...
کوئلہ پھاٹک چوک کا نام تبدیل، "شہدائے زیارت چوک" رکھ دیا گیا
کوئلہ پھاٹک چوک کا نام تبدیل، "شہدائے زیارت چوک" رکھ دیا گیا
زیارت پولیس کے شہداء کی قربانیوں کے اعتراف میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے کوئلہ پھاٹک چوک کا نام تبدیل کرک...
بلوچستان میں 23 جولائی تک بارشوں اور فلیش فلڈ کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
بلوچستان میں 23 جولائی تک بارشوں اور فلیش فلڈ کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
پی ڈی ایم اے نے 17 سے 23 جولائی تک بلوچستان کے متعدد اضلاع میں بارشوں، آندھی، گرج چمک اور فلیش فلڈ کے خدشے کے...
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ، شہدائے زیارت کے مطالبات پر عملدرآمد اور جوڈیشل کمیشن پر اتفاق
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ، شہدائے زیارت کے مطالبات پر عملدرآمد اور جوڈیشل کمیشن پر اتفاق
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد تحریری معاہدہ طے پا گیا، جس میں شہدائے زیارت کے...