وزیراعلیٰ بلوچستان کا دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا اعلان، شہداء کو خراجِ تحسین

وزیراعلیٰ بلوچستان کا دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا اعلان، شہداء کو خراجِ تحسین

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 40 گھنٹوں میں 145 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بدستور جاری ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور بلوچستان کے نوجوانوں کو ریاست سے دور کرنے کی سازشیں ناکام بنائی جائیں گی۔

رپورٹ: سیدہ نتاشا

 وزیراعلیٰ بلوچستان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے غازیوں کو بھی سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔


وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کو واقعے کا پہلے سے علم تھا جس کے باعث ایک دن قبل ہی ہرنائی اور شعبان کے علاقوں میں آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف 40 گھنٹوں میں 145 دہشت گردوں کو ہلاک کرنا ایک بڑی کامیابی ہے جبکہ دہشت گردوں کے تعاقب کا عمل تاحال جاری ہے اور کسی کو نہیں بخشا جائے گا۔
انہوں نے گوادر میں ایک خاندان کے ساتھ پیش آنے والے دلخراش واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم لوگوں پر بھی رحم نہیں کیا، اس کے باوجود وہ بلوچیت کا نعرہ لگاتے ہیں، حالانکہ ان کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ قوم۔ وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ یہ عناصر بھارت کے لیے بلوچوں کا خون بہا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ ان دہشت گردوں سے ڈائیلاگ کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ ماضی میں بات چیت کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عناصر ریاست کو سرینڈر کرانا چاہتے ہیں، مگر ہم ایک ہزار سال تک بھی یہ جنگ لڑیں گے اور کبھی ہار نہیں مانیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی وائلنس کو جواز فراہم کرنا دراصل پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا اور نام نہاد ٹویٹر سرداروں کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کو ریاست سے دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم حکومت اس پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ صوبے کے نوجوانوں کو اسکالرشپس پر بیرونِ ملک بھیجا جا رہا ہے تاکہ انہیں مثبت مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ 1500 دہشت گردوں کا مارا جانا ایک بڑی کامیابی ہے اور یہ حکومت کے عزم اور سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا ثبوت ہے۔
آخر میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچیت کے نام پر خواتین اور بچوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے والوں پر لعنت ہے، اور حکومت دہشت گردی کے خلاف آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ جاری رکھے گی۔


Related News

زیارت حملے کے شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک
زیارت حملے کے شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک
زیارت دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں ادا کی گئی، جس کے...
بلوچستان کے آبی حصے کی فراہمی کے لیے اعلیٰ سطحی وفد کا سکھر بیراج کا ہنگامی دورہ
بلوچستان کے آبی حصے کی فراہمی کے لیے اعلیٰ سطحی وفد کا سکھر بیراج کا ہنگامی دورہ
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صوبائی وفد نے سکھر بیراج کا دورہ کیا، جہاں سندھ ایریگیشن حکام نے 24 سے 48 گھنٹو...
زیارت : دو سرکاری صحت مراکز شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ
زیارت : دو سرکاری صحت مراکز شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر زیارت میں رورل ہیلتھ سینٹر احمدون اور بی ایچ یو کاوس غربی کے نام شہدائے پولیس ک...
کوئلہ پھاٹک چوک کا نام تبدیل، "شہدائے زیارت چوک" رکھ دیا گیا
کوئلہ پھاٹک چوک کا نام تبدیل، "شہدائے زیارت چوک" رکھ دیا گیا
زیارت پولیس کے شہداء کی قربانیوں کے اعتراف میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے کوئلہ پھاٹک چوک کا نام تبدیل کرک...
بلوچستان میں 23 جولائی تک بارشوں اور فلیش فلڈ کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
بلوچستان میں 23 جولائی تک بارشوں اور فلیش فلڈ کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
پی ڈی ایم اے نے 17 سے 23 جولائی تک بلوچستان کے متعدد اضلاع میں بارشوں، آندھی، گرج چمک اور فلیش فلڈ کے خدشے کے...
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ، شہدائے زیارت کے مطالبات پر عملدرآمد اور جوڈیشل کمیشن پر اتفاق
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ، شہدائے زیارت کے مطالبات پر عملدرآمد اور جوڈیشل کمیشن پر اتفاق
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد تحریری معاہدہ طے پا گیا، جس میں شہدائے زیارت کے...