اقوام بگٹی نے میر سرفراز بگٹی کو باضابطہ طور پر چیف آف بگٹی قبائل مقرر کر دیا
کوئٹہ: اقوام بگٹی کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کو باضابطہ طور پر دستار باندھ کر چیف آف بگٹی قبائل کے منصب سے نوازا گیا۔ دستار بندی کی رسم نواب میر عالی خان بگٹی کے بھائی نوابزادہ زامران سلیم اکبر خان بگٹی اور بگٹی قبیلے کے مختلف طائفوں کے چیفس نے ادا کی۔ تقریب میں اراکین صوبائی و قومی اسمبلی، صوبائی وزراء اور اقوام بگٹی کے عمائدین و معززین کی بڑی تعداد شریک تھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے اقوام بگٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج جو دستار ان کے سر پر رکھی گئی ہے وہ ایک امانت ہے جو انصاف، بہادری، بھائی چارے، محبت اور اخلاص کا تقاضا کرتی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ پوری ایمانداری، محنت اور جذبے کے ساتھ اقوام بگٹی کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے اور قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم بگٹی قبائل کی ترقی کی کنجی ہے، اس مقصد کے لیے ماضی میں بگٹی بچوں کو ملک کے معیاری تعلیمی اداروں میں داخلے دلوائے گئے۔ وزیراعظم پاکستان کے تعاون سے علاقے میں دانش اسکول کی منظوری اور ٹینڈر مکمل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ جلد مکمل ہوگا۔ اس کے علاوہ زیرِ تعمیر عظیم الشان عمارت میں 300 بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ امریکن اسکول کے انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے مقامی بچوں کو معیاری تعلیم دی جائے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہوں نے چیف آف بگٹیز کی ذمہ داری قوم کے اعتماد کی بنیاد پر قبول کی ہے اور وہ دن رات بگٹی قبائل کی خدمت کریں گے۔ قبائلی و ہمسایہ تنازعات کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرنے اور ہر معاملے میں خیر کی راہ اپنانے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ انہوں نے بلوچ قوم کو پیغام دیتے ہوئے تشدد کی راہ کو لاحاصل قرار دیا اور کہا کہ بلوچ قوم تشدد سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ وفاداری غیر متزلزل ہے اور ریاست کی رٹ قائم رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے نہتے عوام، مزدوروں، خواتین، انجینیئرز اور ڈاکٹروں کے خلاف تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ تقریب سے قبل وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اقوام بگٹی اور شرکاء سے بلوچی زبان میں بھی خطاب کیا۔
اقوام بگٹی نے میر سرفراز بگٹی کو باضابطہ طور پر چیف آف بگٹی قبائل مقرر کر دیا
کوئٹہ: اقوام بگٹی کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کو باضابطہ طور پر دستار باندھ کر چیف آف بگٹی قبائل کے منصب سے نوازا گیا۔ دستار بندی کی رسم نواب میر عالی خان بگٹی کے بھائی نوابزادہ زامران سلیم اکبر خان بگٹی اور بگٹی قبیلے کے مختلف طائفوں کے چیفس نے ادا کی۔ تقریب میں اراکین صوبائی و قومی اسمبلی، صوبائی وزراء اور اقوام بگٹی کے عمائدین و معززین کی بڑی تعداد شریک تھی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے اقوام بگٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج جو دستار ان کے سر پر رکھی گئی ہے وہ ایک امانت ہے جو انصاف، بہادری، بھائی چارے، محبت اور اخلاص کا تقاضا کرتی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ پوری ایمانداری، محنت اور جذبے کے ساتھ اقوام بگٹی کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے اور قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم بگٹی قبائل کی ترقی کی کنجی ہے، اس مقصد کے لیے ماضی میں بگٹی بچوں کو ملک کے معیاری تعلیمی اداروں میں داخلے دلوائے گئے۔ وزیراعظم پاکستان کے تعاون سے علاقے میں دانش اسکول کی منظوری اور ٹینڈر مکمل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ جلد مکمل ہوگا۔ اس کے علاوہ زیرِ تعمیر عظیم الشان عمارت میں 300 بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ امریکن اسکول کے انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے مقامی بچوں کو معیاری تعلیم دی جائے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہوں نے چیف آف بگٹیز کی ذمہ داری قوم کے اعتماد کی بنیاد پر قبول کی ہے اور وہ دن رات بگٹی قبائل کی خدمت کریں گے۔ قبائلی و ہمسایہ تنازعات کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرنے اور ہر معاملے میں خیر کی راہ اپنانے کا عزم بھی ظاہر کیا۔
انہوں نے بلوچ قوم کو پیغام دیتے ہوئے تشدد کی راہ کو لاحاصل قرار دیا اور کہا کہ بلوچ قوم تشدد سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ وفاداری غیر متزلزل ہے اور ریاست کی رٹ قائم رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے نہتے عوام، مزدوروں، خواتین، انجینیئرز اور ڈاکٹروں کے خلاف تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلوچ روایات کے خلاف ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ تقریب سے قبل وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اقوام بگٹی اور شرکاء سے بلوچی زبان میں بھی خطاب کیا۔