GOB

کوئٹہ میں ائیرپورٹ روڈ پر تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن، 22 افراد گرفتار

کوئٹہ میں ائیرپورٹ روڈ پر تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن، 22 افراد گرفتار

کوئٹہ: ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات کی روشنی میں ائیرپورٹ روڈ پر نالے کے اوپر قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کیا، جس کے دوران نالے پر قبضہ کرنے والے 22 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق تجاوزات کے باعث نالے کا پانی بند ہو کر سڑک پر بہہ رہا تھا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات اور آمد و رفت میں رکاوٹ کا سامنا تھا۔ کارروائی کے دوران اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے قانونی اقدامات کرتے ہوئے نالے پر قبضہ کرنے والوں کو گرفتار کر کے جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ائیرپورٹ روڈ یا شہر کے کسی بھی حصے میں تجاوزات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ نالوں پر قبضہ کر کے پانی کے قدرتی راستے بند کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز اور سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کی سہولت، نکاسیٔ آب کی بحالی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ایسے آپریشنز آئندہ بھی جاری رہیں گے۔

سبی اور لورالائی ڈویژن کو مکمل طور پر اے - ایریا قرار دے دیا گیا، لیویز فورس بلوچستان پولیس میں ضم

سبی اور لورالائی ڈویژن کو مکمل طور پر اے - ایریا قرار دے دیا گیا، لیویز فورس بلوچستان پولیس میں ضم

کوئٹہ: حکومتِ بلوچستان نے ایک اہم انتظامی اور سیکیورٹی فیصلہ کرتے ہوئے سبی اور لورالائی ڈویژن کے تمام ریونیو ایریاز کو باضابطہ طور پر اے-  ایریا قرار دے دیا ہے، جس کے بعد ان علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری مکمل طور پر بلوچستان پولیس کے سپرد کر دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ بلوچستان پولیس ایکٹ 2011 اور بلوچستان لیویز فورس ایکٹ 2025 کے تحت کیا گیا ہے، جس کی منظوری صوبائی کابینہ نے دی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سبی اور لورالائی ڈویژن میں خدمات انجام دینے والی صوبائی اور سابق وفاقی لیویز فورس، بشمول سی پیک (CPEC) ونگ کے اہلکاروں کو ان کے موجودہ عہدوں، تنخواہوں، سروس اسٹرکچر اور مراعات کے ساتھ بلوچستان پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لیویز فورس سے متعلق تمام وسائل، جن میں بجٹ، اسلحہ، گولہ بارود، ناکے، چیک پوسٹس، سرکاری گاڑیاں، ریکارڈ، تفتیشی امور، تربیتی ادارے اور دیگر انفراسٹرکچر شامل ہیں، فوری طور پر بلوچستان پولیس کے حوالے کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ اضلاع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر سرکاری اداروں کو مقامی اور خصوصی قوانین کے نفاذ کے لیے پولیس نفری فراہم کر سکیں۔ حکومتِ بلوچستان نے کمشنر سبی اور کمشنر لورالائی کو ہدایت کی ہے کہ نوٹیفکیشن کے اجرا کے 30 دن کے اندر اندر لیویز فورس کی پولیس میں منتقلی اور انضمام کا عمل مکمل کیا جائے۔

سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کے تحت سوئی ٹاؤن میں جامع ترقیاتی و خوبصورتی کے منصوبوں کا آغاز ہوگا، وزیر اعلیٰ بلوچستان

سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کے تحت سوئی ٹاؤن میں جامع ترقیاتی و خوبصورتی کے منصوبوں کا آغاز ہوگا، وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پیر کے روز منعقد ہوا، جس میں سوئی ٹاؤن کی مجموعی ترقی، شہری انفراسٹرکچر کی بہتری اور مستقبل کی پائیدار منصوبہ بندی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) سکندر میمن، رکن قومی اسمبلی میاں خان بگٹی، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی زوہیب الحق، چیئرمین میونسپل کمیٹی عزت امان بگٹی سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کے تحت سوئی ٹاؤن میں انٹرنل ڈویلپمنٹ اور شہری خوبصورتی کے جامع منصوبوں کا آغاز کیا جائے گا، جن کے ذریعے علاقے کو جدید شہری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ منصوبے میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، نکاسیٔ آب کے مؤثر نظام، صاف پانی کی فراہمی، اسپورٹس گراؤنڈ اور جدید سہولیات سے آراستہ بس ٹرمینل کی تعمیر شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کا بنیادی مقصد مقامی آبادی کو معیاری شہری سہولیات فراہم کرنا اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان سوئی کو ایک منظم، خوبصورت اور پائیدار شہر میں تبدیل کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ معاہدے کے مطابق منصوبے کے لیے اپنے حصے کے وسائل بروقت فراہم کرے گی۔ وزیر اعلیٰ نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، اعلیٰ معیار اور بروقت تکمیل پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور منصوبہ بندی کو عوامی ضروریات اور مقامی حقائق سے مکمل طور پر ہم آہنگ رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوئی کی ترقی نہ صرف مقامی معیشت کو مستحکم کرے گی بلکہ علاقے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا اور خطے کی مجموعی سماجی و معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

صوبے میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، 31 جنوری تک پابندیاں برقرار

صوبے میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، 31 جنوری تک پابندیاں برقرار

کوئٹہ: حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے صوبے بھر میں دفعہ 144 کے تحت مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جو 31 جنوری تک نافذ العمل رہیں گے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں اسلحہ کی نمائش، گاڑیوں میں کالے شیشوں کا استعمال، موٹر سائیکل پر ڈبل سواری، نقاب پوشی، چار سے زائد افراد کے اجتماع اور ہر قسم کی ریلیوں، جلوسوں اور جلسوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق یہ اقدام عوام کی جان و مال کے تحفظ اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں سے تعاون کریں اور دفعہ 144 کے نفاذ پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ صوبے میں امن و امان کی فضا برقرار رکھی جا سکے۔

ایمرجنسی ریسپانس سروس 1122 بلوچستان نے سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جو صوبے بھر میں ریسکیو سروسز کی مؤثر اور بروقت خدمات کا واضح ثبوت ہے۔

ایمرجنسی ریسپانس سروس 1122 بلوچستان نے سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جو صوبے بھر میں ریسکیو سروسز کی مؤثر اور بروقت خدمات کا واضح ثبوت ہے۔

رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے اکتیس دسمبر دو ہزار پچیس تک 1122 بلوچستان نے قومی اور بین الصوبائی شاہراہوں پر پچیس ہزار سے زائد حادثات اور طبی ایمرجنسیز پر فوری رسپانس فراہم کیا، جبکہ تیس ہزار سے زائد زخمیوں کو بروقت طبی امداد دے کر قیمتی جانیں بچائی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان بھر میں قائم  1122 مراکز نے مجموعی طور پر 25 ہزار 484 حادثات پر ریسپانس دیا، جن میں 33 ہزار 972 زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان حادثات کے نتیجے میں 430 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 3 ہزار 259 مریضوں کو او پی ڈی سہولیات فراہم کی گئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے جدید سہولیات اور تربیت یافتہ عملے کے ساتھ صوبے کے دور دراز علاقوں تک اپنی خدمات جاری رکھیں۔ خضدار اور ژوب کے ٹراما سینٹرز سمیت مختلف مراکز میں ہزاروں زخمیوں کو فوری طبی سہولت فراہم کی گئی، جس سے اموات کی شرح میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔ قومی شاہراہ این 25، این 50، این 65، این 85 اور این 10 پر قائم ریسکیو مراکز نے دن رات خدمات انجام دیں، جبکہ مکران ڈویژن کے علاقوں میں بھی ریسکیو ٹیموں نے کم وسائل کے باوجود مؤثر کارکردگی دکھائی۔حکام کے مطابق بروقت رسپانس، بہتر کوآرڈینیشن اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث ہزاروں قیمتی جانیں محفوظ بنائی جا سکیں۔ حکام نے مزید بتایا کہ صوبے بھر میں قومی شاہراہوں پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں، جن کی تکمیل کے بعد ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے، اور مستقبل میں ریسکیو نظام کو مزید مضبوط بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

سال 2025 میں بلوچستان پولیس کی نمایاں کارکردگی، منشیات، غیرقانونی اسلحہ اور جرائم کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں

سال 2025 میں بلوچستان پولیس کی نمایاں کارکردگی، منشیات، غیرقانونی اسلحہ اور جرائم کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں

کوئٹہ: رواں سال 2025 میں بلوچستان پولیس نے صوبے بھر میں منشیات، غیرقانونی اسلحہ، جرائم اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پولیس کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق منشیات کےخلاف صوبے بھر میں مجموعی طور پر 1507 مقدمات درج کیے گئ،۔ منشیات کے ان مقدمات میں مجموعی طور پر 1589 افراد کو گرفتار کیا گیا. برآمد ہونے والی منشیات میں چرس، ہیروئن، پوست، شیشہ، کرسٹل اور شراب شامل ہیں۔ غیرقانونی اسلحہ اور بارودی مواد کے خلاف کارروائیوں کے دوران صوبے بھر میں 1438 مقدمات درج کیے گئے، اس سلسلے میں مجموعی طور پر 1447 گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ برآمد اسلحے میں ایس ایم جی، ایل ایم جی، رائفلز، میگزین، گولیوں کے راؤنڈز اور دھماکہ خیز مواد شامل تھا۔دیگر کارروائیوں میں بلوچستان پولیس نے رواں سال 111 گاڑیاں اور 880 موٹر سائیکلیں ریکور کیں، جبکہ 286 موبائل فونز بھی برآمد کیے گئے۔ غیرقانونی پیٹرول کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 121,477 لیٹر پیٹرول اور 234,766 لیٹر ڈیزل ضبط کیا گیا، جبکہ صوبے بھر میں 1110 غیرقانونی پیٹرول پمپس سیل کیے گئے۔ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے لیے رواں سال صوبے بھر میں 249,206 ٹریفک چالان کیے گئے، جبکہ مختلف جرائم میں ملوث مجموعی طور پر 14,344 ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار بلوچستان پولیس کی جرائم کے خاتمے، عوامی تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے جاری بھرپور کوششوں کا عکاس ہیں، اور آئندہ بھی ایسی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔

بلوچستان یوتھ ریسورس سینٹر میں آفیشل ویب سائٹس کے اجرا سے متعلق اہم اجلاس منعقد

بلوچستان یوتھ ریسورس سینٹر میں آفیشل ویب سائٹس کے اجرا سے متعلق اہم اجلاس منعقد

کوئٹہ: بلوچستان یوتھ ریسورس سینٹر میں ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز بلوچستان اور بلوچستان یوتھ ریسورس سینٹر کی آفیشل ویب سائٹس کے اجرا کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت مشیر وزیراعلیٰ برائے کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے کی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر یوتھ افیئرز بلوچستان جناب الیاس بلوچ، سیکشن آفیسر عبدالغفور بلوچ، عدنان خان (چیف آپریٹنگ آفیسر، لائژن کارپوریشن)، کاشف خان (ہیومن کیپیٹل ڈویلپمنٹ اسپیشلسٹ) سمیت بلوچستان یوتھ ریسورس سینٹر کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران کاشف خان نے ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز کی آفیشل ویب سائٹ کے مختلف فیچرز، تکنیکی ساخت اور نوجوانوں کے لیے دستیاب سہولیات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ویب سائٹ کے ذریعے نوجوانوں کو تعلیمی، تربیتی اور روزگار سے متعلق معلومات ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کی جائیں گی۔ اس موقع پر مشیر وزیراعلیٰ محترمہ مینا مجید بلوچ نے کہا کہ یہ ویب سائٹ محض ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم نہیں بلکہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ایک سنہرا موقع ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ویب سائٹ کے ذریعے صوبے کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو بھی یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ محترمہ مینا مجید بلوچ نے ویب سائٹ کے اجرا سے متعلق چند اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تمام ضروری مراحل مکمل کرنے کے بعد اسے جلد از جلد باضابطہ طور پر لانچ کیا جائے گا تاکہ بلوچستان کے نوجوان اس سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔

بلوچستان میں ڈاکٹرز کی بھرتیاں مستقل بنیادوں پر، کنٹریکٹ نوکریاں ختم

بلوچستان میں ڈاکٹرز کی بھرتیاں مستقل بنیادوں پر، کنٹریکٹ نوکریاں ختم

حکومتِ بلوچستان نے صحت کے شعبے میں اہم فیصلہ کرتے ہوئے کنٹریکٹ اور عارضی بھرتیوں پر پابندی عائد کر دی ہے اور اب ڈاکٹرز اور طبی عملہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مستقل بنیادوں پر تعینات ہوں گے۔ محکمہ صحت کے مطابق اسسٹنٹ پروفیسر، سینئر رجسٹرار اور اسپیشلسٹ کی کنٹریکٹ نوکریاں ختم کی جائیں گی اور گریڈ 16 اور 17 کی مجموعی طور پر 1003 خالی اسامیوں پر مستقل بھرتیوں کے لیے درخواست پبلک سروس کمیشن کو بھیج دی گئی ہے۔ ان اسامیوں میں 560 میڈیکل آفیسرز، 346 لیڈی میڈیکل آفیسرز اور 97 ڈینٹل سرجن شامل ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق یہ اقدام صحت کے شعبے میں کام کی روانی اور معیار کی بہتری کا سبب بنے گا۔ جب مستقل بھرتیاں مکمل ہو جائیں گی تو کنٹریکٹ ملازمین کی خدمات ختم کر دی جائیں گی، تاہم ان کے لیے ہمدردانہ بنیادوں پر ایڈجسٹمنٹ پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس فیصلے سے بلوچستان میں صحت کے شعبے میں پائیداری اور بہتر معیار کی توقع کی جا رہی ہے۔

اقوام بگٹی نے میر سرفراز بگٹی کو باضابطہ طور پر چیف آف بگٹی قبائل مقرر کر دیا

اقوام بگٹی نے میر سرفراز بگٹی کو باضابطہ طور پر چیف آف بگٹی قبائل مقرر کر دیا

کوئٹہ: اقوام بگٹی کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کو باضابطہ طور پر دستار باندھ کر چیف آف بگٹی قبائل کے منصب سے نوازا گیا۔ دستار بندی کی رسم نواب میر عالی خان بگٹی کے بھائی نوابزادہ زامران سلیم اکبر خان بگٹی اور بگٹی قبیلے کے مختلف طائفوں کے چیفس نے ادا کی۔ تقریب میں اراکین صوبائی و قومی اسمبلی، صوبائی وزراء اور اقوام بگٹی کے عمائدین و معززین کی بڑی تعداد شریک تھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے اقوام بگٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج جو دستار ان کے سر پر رکھی گئی ہے وہ ایک امانت ہے جو انصاف، بہادری، بھائی چارے، محبت اور اخلاص کا تقاضا کرتی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ پوری ایمانداری، محنت اور جذبے کے ساتھ اقوام بگٹی کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے اور قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم بگٹی قبائل کی ترقی کی کنجی ہے، اس مقصد کے لیے ماضی میں بگٹی بچوں کو ملک کے معیاری تعلیمی اداروں میں داخلے دلوائے گئے۔ وزیراعظم پاکستان کے تعاون سے علاقے میں دانش اسکول کی منظوری اور ٹینڈر مکمل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ جلد مکمل ہوگا۔ اس کے علاوہ زیرِ تعمیر عظیم الشان عمارت میں 300 بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ امریکن اسکول کے انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے مقامی بچوں کو معیاری تعلیم دی جائے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہوں نے چیف آف بگٹیز کی ذمہ داری قوم کے اعتماد کی بنیاد پر قبول کی ہے اور وہ دن رات بگٹی قبائل کی خدمت کریں گے۔ قبائلی و ہمسایہ تنازعات کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرنے اور ہر معاملے میں خیر کی راہ اپنانے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ انہوں نے بلوچ قوم کو پیغام دیتے ہوئے تشدد کی راہ کو لاحاصل قرار دیا اور کہا کہ بلوچ قوم تشدد سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ وفاداری غیر متزلزل ہے اور ریاست کی رٹ قائم رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے نہتے عوام، مزدوروں، خواتین، انجینیئرز اور ڈاکٹروں کے خلاف تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ تقریب سے قبل وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اقوام بگٹی اور شرکاء سے بلوچی زبان میں بھی خطاب کیا۔

چلتن  پہاڑوں میں سیلابی تحفظ کے منصوبوں کا جائزہ

چلتن  پہاڑوں میں سیلابی تحفظ کے منصوبوں کا جائزہ

کوئٹہ : ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے بلوچستان اصغر علی جمالی نے متعلقہ محکموں کے نمائندگان کے ہمراہ چلتن پہاڑوں کا دورہ کیا، جہاں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تعاون سے جاری سیلابی خطرات میں کمی کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ دورے کے دوران محکمہ آبپاشی اور محکمہ جنگلات کی جانب سے تعمیر کیے گئے سیلابی حفاظتی بندوں اور نیچر بیسڈ سلوشنز پر مبنی منصوبوں کا معائنہ کیا گیا۔ اصغر علی جمالی نے منصوبوں کو انسانی آبادی، مویشیوں اور زرعی اراضی کے تحفظ کے لیے مؤثر قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہا اور آئندہ بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

قائداعظمؒ یومِ پیدائش: کوئٹہ میں نوجوانوں کے لیے پروقار اور بامقصد تقریب کا انعقاد

قائداعظمؒ یومِ پیدائش: کوئٹہ میں نوجوانوں کے لیے پروقار اور بامقصد تقریب کا انعقاد

کوئٹہ: بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی یومِ پیدائش کے موقع پر بلوچستان یوتھ ریسورس سینٹر کے زیرِ اہتمام ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو قائداعظمؒ کی زندگی، افکار اور قیادت سے آگاہ کرنا تھا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر یوتھ افیئرز بلوچستان جناب الیاس بلوچ تھے۔ اس موقع پر کوئٹہ کے نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جبکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات بھی تقریب میں شریک ہوئیں۔ تقریب کے دوران کوئز مقابلہ، ملی نغموں کا مقابلہ اور تقریری مقابلے سمیت مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا، جن میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بچوں نے بھی جوش و خروش سے حصہ لیا۔ شرکاء نے قائداعظمؒ کی جدوجہد، اصولوں اور قومی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب کے دوران قائداعظم ڈے کے حوالے سے کیک بھی کاٹا گیا، جبکہ پروگرام کے اختتام پر مہمانِ خصوصی نے مختلف مقابلہ جاتی سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکاء میں انعامات تقسیم کیے۔ منتظمین کے مطابق یہ تقریب بلوچستان یوتھ سوشو اکنامک ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت لیڈر شپ ڈیولپمنٹ کے وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد نوجوانوں میں قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور انہیں بااصول اور درست قیادت کے انتخاب کی پہچان فراہم کرنا ہے۔

قائداعظمؒ کے سنہری اصول آج بھی قومی مستقبل کی ضمانت ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان

قائداعظمؒ کے سنہری اصول آج بھی قومی مستقبل کی ضمانت ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وضع کردہ سنہری اصول، ایمان، اتحاد اور تنظیم—آج بھی پاکستان کے قومی مستقبل کی مضبوط ضمانت ہیں اور ان پر عمل پیرا ہو کر ہی ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے۔ قائداعظمؒ کی 149ویں یومِ پیدائش کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بابائے قومؒ نے دیانت، قانون کی بالادستی اور مساوات پر مبنی ایک ایسی ریاست کا تصور دیا تھا جہاں تمام شہریوں کو بلاامتیاز انصاف اور امن میسر ہو۔ ان کے مطابق، اس وژن پر عمل کرنا وقت کی اہم قومی ضرورت ہے۔ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ قائداعظمؒ کی تعلیمات ہمیں اتحاد و یگانگت کے ساتھ قومی مسائل کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قائداعظمؒ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کی عزت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے متحد ہو کر محنت کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے نئی نسل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو قائداعظمؒ کے افکار اور اصولوں سے روشناس کرانا ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے تاکہ ایک مضبوط، خودمختار اور خوشحال پاکستان کی تعمیر ممکن بنائی جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قائداعظمؒ کا تصورِ پاکستان تمام شہریوں کے لیے امن، برداشت اور انصاف کی علامت ہے اور اسی وژن کے مطابق ملک کی ترقی و استحکام کے لیے حکومت بلوچستان پُرعزم ہے۔

بلوچستان میں ڈیجیٹل گورننس کے فروغ پر پیش رفت، محکمہ بلدیات اور نادرا کے مابین مشاورتی اجلاس

بلوچستان میں ڈیجیٹل گورننس کے فروغ پر پیش رفت، محکمہ بلدیات اور نادرا کے مابین مشاورتی اجلاس

کوئٹہ میں سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ کی زیرِ صدارت محکمہ بلدیات و دیہی ترقی حکومتِ بلوچستان اور نادرا بلوچستان کے مابین مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے میں ڈیجیٹل گورننس کے فروغ، عوامی خدمات کو مؤثر بنانے اور لوکل گورنمنٹ دفاتر کے جغرافیائی و انتظامی ڈیٹا کی فراہمی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں نادرا اور محکمہ بلدیات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اہم شاہراہوں پر نئی تعمیرات پر پابندی، کوئٹہ میں اربن پلاننگ کمیٹی کے اہم فیصلے۔

اہم شاہراہوں پر نئی تعمیرات پر پابندی، کوئٹہ میں اربن پلاننگ کمیٹی کے اہم فیصلے۔

کوئٹہ میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت اربن پلاننگ و ڈیزائن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں شہر کی اہم شاہراہوں پر نئی تعمیرات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں رہائشی علاقوں کو کمرشل ایریاز میں تبدیل کرنے پر پابندی، کمرشل پلازوں میں پارکنگ کی لازمی سہولت اور بلڈنگ کوڈز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات جاری کی گئیں۔

بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے: پانچ اضلاع میں 137 منصوبوں کے لیے پانچ ارب روپے مختص

بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے: پانچ اضلاع میں 137 منصوبوں کے لیے پانچ ارب روپے مختص

کوئٹہ: حکومتِ بلوچستان کے تحت شروع کیا گیا بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) صوبے کے پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک اہم حکومتی پروگرام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت جنوبی بلوچستان کے پانچ اضلاع  کیچ، خاران، واشک، چاغی اور پنجگور  میں مجموعی طور پر 137 ترقیاتی اسکیموں کے لیے پانچ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد دور دراز علاقوں میں صحت، توانائی اور عوامی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 13 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ ضلع خاران کے علاقوں مسکان، قلات اور کلی مبارک شلتاک میں دو جنازہ گاہیں تعمیر کی گئی ہیں، جبکہ ضلع واشک کے رورل ہیلتھ سینٹر ناگ میں جدید سولر سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ اسی ضلع میں 10 رجسٹرڈ مدارس کو بھی سولر توانائی کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس سے مقامی سطح پر توانائی کے مسائل میں کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ واشک میں 40 سولر اسٹریٹ لائٹس نصب کی گئی ہیں، جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عوامی سہولت اور سکیورٹی میں بہتری آئی ہے۔ بلوچستان ترقیاتی پروگرام سے وابستہ حکام کے مطابق بی ایس ڈی آئی کا بنیادی مقصد ایسے علاقوں میں ترقیاتی خلا کو پُر کرنا ہے جہاں ماضی میں بنیادی سہولیات کی کمی رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صوبے میں پائیدار ترقی اور عوامی فلاح کی جانب ایک قدم ہے۔ تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کے طویل المدتی اثرات اور شفافیت کا جائزہ لینا ضروری ہوگا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ اقدامات واقعی مقامی آبادی کی ضروریات کو پورا کر پا رہے ہیں یا نہیں۔

بلوچستان میں جعلی فٹنس سرٹیفکیٹس والے مسافر کوچز کی نشاندہی، وارننگ جاری

بلوچستان میں جعلی فٹنس سرٹیفکیٹس والے مسافر کوچز کی نشاندہی، وارننگ جاری

کوئٹہ :   صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان محمد حیات کاکڑ اور سیکرٹری پی ٹی اے وحید شریف عمرانی کی ہدایت پر طور ناصر کراس پر مسافر کوچز، ٹرالرز اور دیگر گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی۔ کارروائی کے دوران اکثر گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ جعلی پائے گئے۔ حکام نے مالکان کو وارننگ دی اور ہدایت کی کہ وہ اپنی گاڑیوں کے لیے اصلی فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کریں، ورنہ قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ حکام نے کہا کہ تمام مسافر گاڑیوں میں دو ڈرائیور رکھنے، سی سی ٹی وی کیمروں کو فعال رکھنے اور تیز رفتاری سے گریز کرنے کی سختی سے پابندی کی جائے تاکہ حادثات سے بچاؤ اور مسافروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

اے این ایف نے بلوچستان میں بڑی منشیات کی سمگلنگ ناکام بنادی

اے این ایف نے بلوچستان میں بڑی منشیات کی سمگلنگ ناکام بنادی

کیچ، بلوچستان: اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایک بڑی منشیات کی سمگلنگ ناکام بنا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، اے این ایف نے خفیہ اطلاعات پر ضلع کیچ کے سیٹلائٹ ٹاؤن کے قریب کارروائی کی، جس دوران ایک گاڑی کی تلاشی کے دوران پلاسٹک کے کینز میں چھپائی گئی منشیات کی بڑی مقدار برآمد ہوئی۔ برآمد شدہ منشیات میں 99 کلوگرام آئس، 50 کلوگرام افیون اور 73 کلوگرام چرس شامل ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 3 کروڑ 26 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ کارروائی کے دوران ایک ملزم کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جسے مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس اسٹیشن اے این ایف منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اے این ایف منشیات سمگلنگ کے پورے نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لیے مزید کارروائیاں کر رہی ہے۔ مسلسل نگرانی اور بروقت خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر اے این ایف کی کارروائیاں منشیات کی ترسیل کی کوششوں کو ناکام بنانے میں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ کامیاب کارروائی اینٹی نارکوٹکس فورس کے منشیات کے خلاف فرنٹ لائن کردار کو ظاہر کرتی ہے۔

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی زیر صدارت کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو گورنمنٹ فنڈ کی فراہمی سے متعلق اجلاس

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی زیر صدارت کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو گورنمنٹ فنڈ کی فراہمی سے متعلق اجلاس

کوئٹہ: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی  کی زیر صدارت کرسمس کی خوشیوں کے موقع پر مسیحی برادری کو گورنمنٹ فنڈ کی فراہمی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی سنجے کمار ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو، روشن خورشید بروچہ سمیت مسیحی برادری، لاچی برادری، سکھ اور ہندو برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا کہ کرسمس سے قبل مسیحی برادری کے لیے گورنمنٹ فنڈ کی فراہمی کی منظوری دے دی گئی ہے، جو کرسمس سے پہلے تمام مستحق افراد کو موصول ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یکساں سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ اقلیتوں کے مسائل کے حل اور ان کی خوشیوں میں شراکت کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

 گورنر بلوچستان کی صوبائی وزیر خزانہ سے ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر زور

 گورنر بلوچستان کی صوبائی وزیر خزانہ سے ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر زور

کوئٹہ :   گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی سے ملاقات میں کہا کہ محدود وسائل اور بڑھتے مسائل کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کے ثمرات معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات تک پہنچنا چاہیے اور تمام اداروں میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔ گورنر نے بنیادی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سڑکوں، اسکولوں اور صحت کی سہولیات کی بہتری سے اقتصادی پیداوار، معیار زندگی اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے۔

 وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر دیا

 وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر دیا

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے جمعہ کے روز پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں مکمل کیے گئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا باضابطہ افتتاح کیا۔ وزیر اعلیٰ نے پولیس ٹریننگ کالج آمد پر شہدائے پولیس کی یادگار پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہداء کے درجات کی بلندی اور ملک و صوبے کے امن و استحکام کے لیے دعا کی۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ نے جدید طرز پر تعمیر شدہ فٹ بال گراؤنڈ اور  نیو میس کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ٹریننگ کالج میں سہولیات کی بہتری کا مقصد پولیس جوانوں کو بہتر تربیتی ماحول، معیاری رہائش اور صحت مند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے فرائض پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ بلوچستان پولیس نے مشکل حالات میں ریاستی رِٹ کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں۔ حکومت بلوچستان پولیس کی فلاح و بہبود، تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ٹریننگ کالج میں مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبے نہ صرف ادارے کے انفراسٹرکچر کو مضبوط کریں گے بلکہ زیر تربیت اور حاضر سروس پولیس اہلکاروں کی جسمانی، ذہنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بھی بہتری لائیں گے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت وسائل کی دستیابی کے مطابق بلوچستان پولیس کو جدید سہولیات فراہم کرتی رہے گی تاکہ پولیس فورس کو ایک مضبوط، باصلاحیت اور مؤثر ادارہ بنایا جا سکے۔ اس موقع پر انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ شہزاد اکبر اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران بھی موجود تھے۔