سردیوں میں پانی کم پینا صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی

سردیوں میں پانی کم پینا صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی

سردیوں میں پانی کم پینا صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی سردی شروع ہوتے ہی عام طور پر لوگ پانی پینا کم کر دیتے ہیں، کیونکہ ٹھنڈ کے موسم میں پیاس کم لگتی ہے۔ مگر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ عادت جسم کی صحت پر برا اثر ڈال سکتی ہے۔ جسم کو جتنی پانی کی ضرورت گرمیوں میں ہوتی ہے، تقریباً اتنی ہی مقدار سردیوں میں بھی ضروری ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے ڈی ہائیڈریشن، سر درد، تھکاوٹ، قبض اور سرچکرانے جیسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ قوتِ مدافعت کم ہونے سے نزلہ اور زکام جیسے موسمِ سرما کے امراض بھی جلدی لاحق ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی پانی کم پینے سے گردوں پر دباؤ  بڑھ جاتا ہے اور ہونٹوں کا خشک ہونا، جلد کا کھردری ہونا اور پیشاب کا پیلا ہونا بھی اسی کمی کی واضح علامات ہیں۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ سردیوں میں ہمارے جسم کے وہ سگنلز کمزور پڑ جاتے ہیں جو دماغ کو پانی پینے کا پیغام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ خون کی نالیوں میں سکراہٹ آنے کے باعث دل پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ موسم کی وجہ سے میٹابولزم سست ہونے کے باعث وزن بڑھنا بھی عام ہے۔ اگرچہ پانی کا کوئی مکمل متبادل نہیں، مگر کچھ غذائیں پانی کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ مالٹا، انگور، انار اور کینو  پانی سے بھرپور پھل ہیں، جبکہ گاجر، شملہ مرچ، ٹماٹر اور کھیرا بھی جسم کی ہائیڈریشن بہتر بنانے میں مؤثر ہیں۔ اسی طرح سوپ اور یخنی  سردیوں میں بہترین متبادل ثابت ہوتے ہیں

سردیوں میں پانی کم پینا صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی

اقصی بلوچ 
07 دسمبر 2025

سردی شروع ہوتے ہی عام طور پر لوگ پانی پینا کم کر دیتے ہیں، کیونکہ ٹھنڈ کے موسم میں پیاس کم لگتی ہے۔ مگر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ عادت جسم کی صحت پر برا اثر ڈال سکتی ہے۔ جسم کو جتنی پانی کی ضرورت گرمیوں میں ہوتی ہے، تقریباً اتنی ہی مقدار سردیوں میں بھی ضروری ہے۔
پانی کی کمی کی وجہ سے ڈی ہائیڈریشن، سر درد، تھکاوٹ، قبض اور سرچکرانے جیسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ قوتِ مدافعت کم ہونے سے نزلہ اور زکام جیسے موسمِ سرما کے امراض بھی جلدی لاحق ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی پانی کم پینے سے گردوں پر دباؤ  بڑھ جاتا ہے اور ہونٹوں کا خشک ہونا، جلد کا کھردری ہونا اور پیشاب کا پیلا ہونا بھی اسی کمی کی واضح علامات ہیں۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ سردیوں میں ہمارے جسم کے وہ سگنلز کمزور پڑ جاتے ہیں جو دماغ کو پانی پینے کا پیغام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ خون کی نالیوں میں سکراہٹ آنے کے باعث دل پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ موسم کی وجہ سے میٹابولزم سست ہونے کے باعث وزن بڑھنا بھی عام ہے۔
اگرچہ پانی کا کوئی مکمل متبادل نہیں، مگر کچھ غذائیں پانی کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ مالٹا، انگور، انار اور کینو  پانی سے بھرپور پھل ہیں، جبکہ گاجر، شملہ مرچ، ٹماٹر اور کھیرا بھی جسم کی ہائیڈریشن بہتر بنانے میں مؤثر ہیں۔ اسی طرح سوپ اور یخنی  سردیوں میں بہترین متبادل ثابت ہوتے ہیں۔

 


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...