دن بھر نیند کی طلب: کیا آپ بھی رات کی نیند کے بعد تھکے تھکے رہتے ہیں؟

دن بھر نیند کی طلب: کیا آپ بھی رات کی نیند کے بعد تھکے تھکے رہتے ہیں؟

کیا آپ کو رات بھر گہری نیند لینے کے باوجود دن بھر نیند محسوس ہوتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ ممکنہ طور پر ایک نایاب نیند کے مسئلے ایڈیو پیتھک ہائپرسومنیا (Idiopathic Hypersomnia, IH) کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس مسئلے میں مبتلا افراد کو معمول سے کہیں زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ اتنی نیند لینے کے باوجود بھی وہ تازگی محسوس نہیں کرتے اور دن بھر الجھن یا تھکن کا شکار رہتے ہیں۔ برطانیہ کی خیراتی تنظیم Hyper Somnolence UK کے مطابق، برطانیہ میں تقریباً 25 ہزار افراد میں سے ایک سے بھی کم فرد اس کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے۔ اکثر افراد کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس نایاب مسئلے کا شکار ہیں کیونکہ متعدد کیسز میں تشخیص نہیں ہوتی۔ ماضی کے مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ کیفیت مرگی یا بائی پولر ڈس آرڈر جیسی عام بیماریوں کے ساتھ مشابہت رکھ سکتی ہے۔ فی الحال اس مسئلے کے اسباب مکمل طور پر معلوم نہیں ہیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اعصابی نظام سے متعلق ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے، اس وقت اس کا کوئی مستقل علاج دستیاب نہیں ہے۔ یہ مسئلہ نایاب ہونے کے باوجود متاثرین کی روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے نیند کی مقدار کے باوجود توانائی اور توجہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

دن بھر نیند کی طلب: کیا آپ بھی رات کی نیند کے بعد تھکے تھکے رہتے ہیں؟

رپورٹ : اقصی بلوچ

کیا آپ کو رات بھر گہری نیند لینے کے باوجود دن بھر نیند محسوس ہوتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ ممکنہ طور پر ایک نایاب نیند کے مسئلے ایڈیو پیتھک ہائپرسومنیا (Idiopathic Hypersomnia, IH) کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس مسئلے میں مبتلا افراد کو معمول سے کہیں زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ اتنی نیند لینے کے باوجود بھی وہ تازگی محسوس نہیں کرتے اور دن بھر الجھن یا تھکن کا شکار رہتے ہیں۔

برطانیہ کی خیراتی تنظیم Hyper Somnolence UK کے مطابق، برطانیہ میں تقریباً 25 ہزار افراد میں سے ایک سے بھی کم فرد اس کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے۔ اکثر افراد کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس نایاب مسئلے کا شکار ہیں کیونکہ متعدد کیسز میں تشخیص نہیں ہوتی۔

ماضی کے مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ کیفیت مرگی یا بائی پولر ڈس آرڈر جیسی عام بیماریوں کے ساتھ مشابہت رکھ سکتی ہے۔ فی الحال اس مسئلے کے اسباب مکمل طور پر معلوم نہیں ہیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اعصابی نظام سے متعلق ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے، اس وقت اس کا کوئی مستقل علاج دستیاب نہیں ہے۔

یہ مسئلہ نایاب ہونے کے باوجود متاثرین کی روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے نیند کی مقدار کے باوجود توانائی اور توجہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...