بلوچستان میں زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کا بڑا اقدام، حکومتِ بلوچستان اورLIMS کے درمیان معاہدہ طے پا گیا
کوئٹہ میں بلوچستان کی زمینوں کے ریکارڈ کو جدید خطوط پر ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے حکومتِ بلوچستان اور لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی ایک سادہ مگر پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قمبر دشتی اور لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے معاہدے پر دستخط کیے، جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں بلوچستان کے 25 اضلاع میں جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم (GIS) کی مدد سے زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا۔ اس اقدام کے تحت زمینوں کا ریکارڈ جدید، محفوظ اور شفاف نظام سے منسلک ہوگا، جس سے زمینوں سے متعلق امور میں بہتری اور عوام کو سہولت میسر آئے گی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن صوبے میں شفافیت، بہتر گورننس اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے بدعنوانی کے امکانات میں کمی آئے گی اور عوام کو زمینوں کے حصول، منتقلی اور تصدیق جیسے معاملات میں نمایاں آسانی فراہم ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے منصوبے پر مقررہ مدت کے اندر اور اعلیٰ معیار کے مطابق عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمات کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ تقریب میں صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کرد گیلو، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، ممبر بورڈ آف ریونیو بشیر احمد بنگلزئی، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
بلوچستان میں زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کا بڑا اقدام، حکومتِ بلوچستان اورLIMS کے درمیان معاہدہ طے پا گیا
کوئٹہ میں بلوچستان کی زمینوں کے ریکارڈ کو جدید خطوط پر ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے حکومتِ بلوچستان اور لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی ایک سادہ مگر پروقار تقریب منعقد ہوئی۔
تقریب میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قمبر دشتی اور لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے معاہدے پر دستخط کیے، جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں بلوچستان کے 25 اضلاع میں جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم (GIS) کی مدد سے زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا۔ اس اقدام کے تحت زمینوں کا ریکارڈ جدید، محفوظ اور شفاف نظام سے منسلک ہوگا، جس سے زمینوں سے متعلق امور میں بہتری اور عوام کو سہولت میسر آئے گی۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن صوبے میں شفافیت، بہتر گورننس اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے بدعنوانی کے امکانات میں کمی آئے گی اور عوام کو زمینوں کے حصول، منتقلی اور تصدیق جیسے معاملات میں نمایاں آسانی فراہم ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے منصوبے پر مقررہ مدت کے اندر اور اعلیٰ معیار کے مطابق عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمات کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
تقریب میں صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کرد گیلو، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، ممبر بورڈ آف ریونیو بشیر احمد بنگلزئی، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔