زیادہ کولڈ ڈرنکس پینے سے صحت کے لیے سنگین خطرات، ماہرین کی وارننگ رپورٹ : اقصی بلوچ

 زیادہ کولڈ ڈرنکس پینے سے صحت کے لیے سنگین خطرات، ماہرین کی وارننگ  رپورٹ : اقصی بلوچ

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ کولڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال صحت کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ یہ مشروبات جسم میں بلڈ پریشر کو بڑھا سکتے ہیں، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی پیدا کر سکتے ہیں اور دماغی نظام پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں، جس سے دل کی بیماریاں اور اسٹروک جیسے سنگین مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان مشروبات میں موجود زیادہ کیفین اور شوگر نہ صرف فوری توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ جسمانی تھکن، کمزوری اور مدافعتی نظام کی کمزوری جیسے مسائل بھی پیدا کر سکتے ہیں، جس سے بار بار نزلہ، زکام اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ ماہرین صحت نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ انرجی اور کولڈ ڈرنکس کا استعمال صرف اعتدال میں کریں، بچوں اور نوجوانوں میں ان مشروبات کے استعمال پر خصوصی نگرانی رکھیں اور صحت مند متبادل جیسے پانی، دودھ یا تازہ جوس کو ترجیح دیں تاکہ جسم کو ضروری غذائی اجزاء ملیں اور اضافی کیفین کے نقصان سے بچا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی شخص کو بلڈ پریشر، دل یا دیگر علامات میں مسائل ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا لازمی ہے، کیونکہ زیادہ کیفین اور مصنوعی شکر والے مشروبات جسمانی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ احتیاط اور شعور ہی صحت کی حفاظت کا بہترین طریقہ ہے، اور کولڈ ڈرنکس کا اعتدال سے استعمال ہی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے موزوں رہتا ہے۔

 زیادہ کولڈ ڈرنکس پینے سے صحت کے لیے سنگین خطرات، ماہرین کی وارننگ

رپورٹ : اقصی بلوچ

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ کولڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال صحت کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ یہ مشروبات جسم میں بلڈ پریشر کو بڑھا سکتے ہیں، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی پیدا کر سکتے ہیں اور دماغی نظام پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں، جس سے دل کی بیماریاں اور اسٹروک جیسے سنگین مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان مشروبات میں موجود زیادہ کیفین اور شوگر نہ صرف فوری توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ جسمانی تھکن، کمزوری اور مدافعتی نظام کی کمزوری جیسے مسائل بھی پیدا کر سکتے ہیں، جس سے بار بار نزلہ، زکام اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ ماہرین صحت نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ انرجی اور کولڈ ڈرنکس کا استعمال صرف اعتدال میں کریں، بچوں اور نوجوانوں میں ان مشروبات کے استعمال پر خصوصی نگرانی رکھیں اور صحت مند متبادل جیسے پانی، دودھ یا تازہ جوس کو ترجیح دیں تاکہ جسم کو ضروری غذائی اجزاء ملیں اور اضافی کیفین کے نقصان سے بچا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی شخص کو بلڈ پریشر، دل یا دیگر علامات میں مسائل ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا لازمی ہے، کیونکہ زیادہ کیفین اور مصنوعی شکر والے مشروبات جسمانی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ احتیاط اور شعور ہی صحت کی حفاظت کا بہترین طریقہ ہے، اور کولڈ ڈرنکس کا اعتدال سے استعمال ہی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے موزوں رہتا ہے۔

 


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...