وزن میں کمی کے لیے چیا سیڈز کا درست استعمال کیسے کریں؟

وزن میں کمی کے لیے چیا سیڈز کا درست استعمال کیسے کریں؟

چیا سیڈز، جیسے عام طور پر تخمِ شربتی کہا جاتا ہے، حالیہ برسوں میں وزن کم کرنے والوں میں تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔ کوئی انہیں صبح نہار منہ پانی میں بھگو کر استعمال کرتا ہے تو کوئی دودھ میں ملا کر مکمل ناشتہ تیار کرتا ہے۔ تاہم اکثر افراد اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ وزن میں کمی کے لیے چیا سیڈز پانی میں بہتر ہیں یا دودھ میں؟  ماہرینِ غذائیت کے مطابق دونوں طریقے فائدہ مند ہیں، مگر ان کا اثر جسم کی ضروریات، ہاضمے اور روزمرہ روٹین کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ چیا سیڈز کو اکثر  تخمِ بالنگا  سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ دونوں بیج دیکھنے میں ملتے جلتے ہونے کے باوجود غذائی افادیت اور اثرات کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق چیا سیڈز فائبر، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، پروٹین اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں، جو وزن کم کرنے کے عمل میں مدد دیتے ہیں۔ یہ بیج ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں، آنتوں کی صفائی میں معاون ہوتے ہیں اور پیٹ بھرے رہنے کا احساس دلا کر غیر ضروری کھانے سے بچاتے ہیں۔ چیا سیڈز پانی میں بھیگنے کے بعد جیل جیسی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے اور پیٹ کے پھولنے کی شکایت میں کمی لاتی ہے۔ اسی طرح ان میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں، جبکہ اینٹی آکسیڈنٹس جلد اور بالوں کی صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ چیا سیڈز کو پانی میں استعمال کرنے کا طریقہ ان افراد میں زیادہ مقبول ہے جو دن کی شروعات ہلکی اور کم کیلوری خوراک سے کرنا چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق چیا واٹر جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے بھوک کم محسوس ہوتی ہے اور بار بار کھانے کی عادت میں کمی آتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں یہ مشروب خاص طور پر مفید سمجھا جاتا ہے، جبکہ کھانے سے کچھ دیر پہلے اس کا استعمال زیادہ کھانے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ دوسری جانب چیا سیڈز کو دودھ میں بھگو کر استعمال کرنے سے یہ پُڈنگ جیسی ساخت اختیار کر لیتے ہیں، جو نہ صرف ذائقے میں بہتر ہوتی ہے بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی ہوتی ہے۔ دودھ میں موجود پروٹین، کیلشیم اور وٹامن بی 12 جسم کو دیرپا توانائی فراہم کرتے ہیں، جس کے باعث یہ ناشتہ یا شام کے صحت مند اسنیک کے طور پر بہترین انتخاب مانا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے والے افراد فل فیٹ دودھ کے بجائے کم چکنائی والا دودھ استعمال کریں تاکہ اضافی کیلوریز سے بچا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق چیا واٹر ان افراد کے لیے بہتر ہے جو کم کیلوری غذا، ہلکا آغاز اور ہائیڈریشن چاہتے ہیں، جبکہ چیا دودھ ان لوگوں کے لیے موزوں ہے جو دیر تک پیٹ بھرے رہنے اور توانائی حاصل کرنے کے خواہشمند ہوں۔ یوں وزن میں کمی کے لیے کون سا طریقہ بہتر ہے، اس کا انحصار فرد کے طرزِ زندگی اور جسمانی ضروریات پر ہوتا ہے۔ غذائی ماہرین روزانہ 1 سے 2 کھانے کے چمچ (تقریباً 15 سے 30 گرام) چیا سیڈز استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ابتدا میں کم مقدار سے آغاز کرنا بہتر ہوتا ہے تاکہ جسم فائبر کا عادی ہو سکے۔ ماہرین صحت اس بات پر بھی خبردار کرتے ہیں کہ چیا سیڈز کو کبھی بھی خشک حالت میں نہیں کھانا چاہیے۔ یہ بیج اپنے وزن سے کئی گنا زیادہ پانی جذب کر لیتے ہیں، اور اگر انہیں بغیر بھگوئے استعمال کیا جائے تو یہ غذائی نالی میں پھول کر مسائل پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو نگلنے میں دشواری محسوس کرتے ہوں۔

وزن میں کمی کے لیے چیا سیڈز کا درست استعمال کیسے کریں؟

رپورٹ : اقصی بلوچ

چیا سیڈز، جیسے عام طور پر تخمِ شربتی کہا جاتا ہے، حالیہ برسوں میں وزن کم کرنے والوں میں تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔ کوئی انہیں صبح نہار منہ پانی میں بھگو کر استعمال کرتا ہے تو کوئی دودھ میں ملا کر مکمل ناشتہ تیار کرتا ہے۔ تاہم اکثر افراد اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ وزن میں کمی کے لیے چیا سیڈز پانی میں بہتر ہیں یا دودھ میں؟  ماہرینِ غذائیت کے مطابق دونوں طریقے فائدہ مند ہیں، مگر ان کا اثر جسم کی ضروریات، ہاضمے اور روزمرہ روٹین کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔


ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ چیا سیڈز کو اکثر  تخمِ بالنگا  سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ دونوں بیج دیکھنے میں ملتے جلتے ہونے کے باوجود غذائی افادیت اور اثرات کے لحاظ سے مختلف ہیں۔
غذائی ماہرین کے مطابق چیا سیڈز فائبر، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، پروٹین اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں، جو وزن کم کرنے کے عمل میں مدد دیتے ہیں۔ یہ بیج ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں، آنتوں کی صفائی میں معاون ہوتے ہیں اور پیٹ بھرے رہنے کا احساس دلا کر غیر ضروری کھانے سے بچاتے ہیں۔
چیا سیڈز پانی میں بھیگنے کے بعد جیل جیسی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے اور پیٹ کے پھولنے کی شکایت میں کمی لاتی ہے۔ اسی طرح ان میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں، جبکہ اینٹی آکسیڈنٹس جلد اور بالوں کی صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔
چیا سیڈز کو پانی میں استعمال کرنے کا طریقہ ان افراد میں زیادہ مقبول ہے جو دن کی شروعات ہلکی اور کم کیلوری خوراک سے کرنا چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق چیا واٹر جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے بھوک کم محسوس ہوتی ہے اور بار بار کھانے کی عادت میں کمی آتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں یہ مشروب خاص طور پر مفید سمجھا جاتا ہے، جبکہ کھانے سے کچھ دیر پہلے اس کا استعمال زیادہ کھانے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
دوسری جانب چیا سیڈز کو دودھ میں بھگو کر استعمال کرنے سے یہ پُڈنگ جیسی ساخت اختیار کر لیتے ہیں، جو نہ صرف ذائقے میں بہتر ہوتی ہے بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی ہوتی ہے۔ دودھ میں موجود پروٹین، کیلشیم اور وٹامن بی 12 جسم کو دیرپا توانائی فراہم کرتے ہیں، جس کے باعث یہ ناشتہ یا شام کے صحت مند اسنیک کے طور پر بہترین انتخاب مانا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے والے افراد فل فیٹ دودھ کے بجائے کم چکنائی والا دودھ استعمال کریں تاکہ اضافی کیلوریز سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق چیا واٹر ان افراد کے لیے بہتر ہے جو کم کیلوری غذا، ہلکا آغاز اور ہائیڈریشن چاہتے ہیں، جبکہ چیا دودھ ان لوگوں کے لیے موزوں ہے جو دیر تک پیٹ بھرے رہنے اور توانائی حاصل کرنے کے خواہشمند ہوں۔ یوں وزن میں کمی کے لیے کون سا طریقہ بہتر ہے، اس کا انحصار فرد کے طرزِ زندگی اور جسمانی ضروریات پر ہوتا ہے۔
غذائی ماہرین روزانہ 1 سے 2 کھانے کے چمچ (تقریباً 15 سے 30 گرام) چیا سیڈز استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ابتدا میں کم مقدار سے آغاز کرنا بہتر ہوتا ہے تاکہ جسم فائبر کا عادی ہو سکے۔


ماہرین صحت اس بات پر بھی خبردار کرتے ہیں کہ چیا سیڈز کو کبھی بھی خشک حالت میں نہیں کھانا چاہیے۔ یہ بیج اپنے وزن سے کئی گنا زیادہ پانی جذب کر لیتے ہیں، اور اگر انہیں بغیر بھگوئے استعمال کیا جائے تو یہ غذائی نالی میں پھول کر مسائل پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو نگلنے میں دشواری محسوس کرتے ہوں۔


Related News

وفاقی حکومت کا بلوچستان کے 150 نرسنگ طلبہ کی ڈگریاں بحال کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کا بلوچستان کے 150 نرسنگ طلبہ کی ڈگریاں بحال کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے بلوچستان کے 150 نرسنگ طلبہ کو درپیش تعلیمی بحران ختم کرتے ہوئے ان کی ڈگری کی حیثیت بحال کرنے او...
ڈاکٹروں کا احتجاج ختم، کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز اور طبی خدمات بحال
ڈاکٹروں کا احتجاج ختم، کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز اور طبی خدمات بحال
سول ہسپتال کوئٹہ سمیت دیگر سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے احتجاج ختم کرتے ہوئے او پی ڈیز، آپریشن تھیٹرز اور دی...
انسدادِ پولیو مہم: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا فرضی کوریج اور جعلی فنگر مارکنگ پر سخت ایکشن
انسدادِ پولیو مہم: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا فرضی کوریج اور جعلی فنگر مارکنگ پر سخت ایکشن
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت اجلاس میں انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز کی کارکردگی، حفاظتی ٹیک...
بلوچستان میں پولیو کے خلاف اقدامات تیز، اعلیٰ سطحی اجلاس میں ویکسینیشن مہم کا جائزہ
بلوچستان میں پولیو کے خلاف اقدامات تیز، اعلیٰ سطحی اجلاس میں ویکسینیشن مہم کا جائزہ
وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق اور پولیو پروگرام کے اعلیٰ حکام نے چیف سیکریٹری بلوچ...
بلوچستان میں سات روزہ خصوصی پولیو بوسٹر مہم آج سے شروع، 7 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین دی جائے گی
بلوچستان میں سات روزہ خصوصی پولیو بوسٹر مہم آج سے شروع، 7 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین دی جائے گی
ایمرجنسی آپریشنز سینٹر بلوچستان کی جانب سے 13 جولائی سے 142 ہائی رسک یونین کونسلز میں سات روزہ خصوصی پولیو بوس...
گورنر بلوچستان نے ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمیشن سسٹم اور الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ ماڈیول کا افتتاح کر دیا
گورنر بلوچستان نے ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمیشن سسٹم اور الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ ماڈیول کا افتتاح کر دیا
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صحت کے شعبے میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمی...