لوامز اوتھل میں دو روزہ بین الاقوامی اونٹ کانفرنس اختتام پذیر، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تحقیق پر زور

لوامز اوتھل میں دو روزہ بین الاقوامی اونٹ کانفرنس اختتام پذیر، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تحقیق پر زور

لوامز اوتھل میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی اونٹ کانفرنس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین نے موسمیاتی تبدیلیوں، غذائی تحفظ اور پائیدار ڈیری نظام میں اونٹوں کی اہمیت پر زور دیا۔ ماہرین نے اونٹنی کے دودھ کی غذائی و معاشی افادیت اجاگر کرتے ہوئے اس شعبے میں مزید تحقیق اور سرمایہ کاری کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

 

اوتھل: لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز (لوامز) اوتھل میں دو روزہ دوسری بین الاقوامی اونٹ کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس کا انعقاد لوامز کے شعبہ اینیمل نیوٹریشن، قصوا پروجیکٹ، او آر آئی سی، سینٹر آف ایکسیلنس، قصوا فاؤنڈیشن اور قصوا کیمل ملک آئس کریم پرائیویٹ لمیٹڈ کے اشتراک سے کیا گیا۔

کانفرنس کا موضوع "Camel as Climate Resilient Dairy Animal" تھا، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں اونٹوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کی پیداوار، صحت، غذائیت، افزائش نسل، دودھ کی پراسیسنگ اور پائیدار معاشی ترقی سے متعلق تحقیق کو فروغ دینا تھا۔

افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک ترین نے کہا کہ اونٹ خشک اور نیم خشک علاقوں میں غذائی تحفظ، معاشی استحکام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والا نہایت اہم جانور ہے۔ انہوں نے اونٹنی کے دودھ اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کی تجارتی اہمیت، جدید تحقیق اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔

پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الہی بخش مرغزانی نے کہا کہ اونٹ بلوچستان کی ثقافت، معیشت اور لائیو اسٹاک سیکٹر کا اہم حصہ ہے، جبکہ اونٹنی کا دودھ غذائیت سے بھرپور ہونے کے باعث انسانی صحت اور دیہی معیشت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر اونٹنی کے دودھ کی بڑھتی ہوئی طلب مویشی پال کسانوں کے لیے آمدنی کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔

کانفرنس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین نے اپنے تحقیقی مقالات میں اس بات پر زور دیا کہ اونٹ سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں اور خشک و نیم خشک علاقوں میں پائیدار دودھ کی پیداوار کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، غذائی تحفظ کو فروغ دینے اور پائیدار ڈیری نظام کی ترقی کے لیے اونٹوں پر مزید تحقیق اور سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔

کانفرنس کے اختتام پر شعبہ اینیمل نیوٹریشن کے چیئرمین ڈاکٹر بہرام چاچڑ نے سفارشات پیش کیں جبکہ منتظمین نے شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

Keywords : Camel Conference, Climate Resilience, Camel Milk, LUAWMS Othal


Related News

زیارت حملے کے شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک
زیارت حملے کے شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک
زیارت دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں ادا کی گئی، جس کے...
بلوچستان کے آبی حصے کی فراہمی کے لیے اعلیٰ سطحی وفد کا سکھر بیراج کا ہنگامی دورہ
بلوچستان کے آبی حصے کی فراہمی کے لیے اعلیٰ سطحی وفد کا سکھر بیراج کا ہنگامی دورہ
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صوبائی وفد نے سکھر بیراج کا دورہ کیا، جہاں سندھ ایریگیشن حکام نے 24 سے 48 گھنٹو...
زیارت : دو سرکاری صحت مراکز شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ
زیارت : دو سرکاری صحت مراکز شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر زیارت میں رورل ہیلتھ سینٹر احمدون اور بی ایچ یو کاوس غربی کے نام شہدائے پولیس ک...
کوئلہ پھاٹک چوک کا نام تبدیل، "شہدائے زیارت چوک" رکھ دیا گیا
کوئلہ پھاٹک چوک کا نام تبدیل، "شہدائے زیارت چوک" رکھ دیا گیا
زیارت پولیس کے شہداء کی قربانیوں کے اعتراف میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے کوئلہ پھاٹک چوک کا نام تبدیل کرک...
بلوچستان میں 23 جولائی تک بارشوں اور فلیش فلڈ کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
بلوچستان میں 23 جولائی تک بارشوں اور فلیش فلڈ کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
پی ڈی ایم اے نے 17 سے 23 جولائی تک بلوچستان کے متعدد اضلاع میں بارشوں، آندھی، گرج چمک اور فلیش فلڈ کے خدشے کے...
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ، شہدائے زیارت کے مطالبات پر عملدرآمد اور جوڈیشل کمیشن پر اتفاق
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ، شہدائے زیارت کے مطالبات پر عملدرآمد اور جوڈیشل کمیشن پر اتفاق
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد تحریری معاہدہ طے پا گیا، جس میں شہدائے زیارت کے...