نیند کی کمی موٹاپے کی بڑی وجہ قرار، بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

نیند کی کمی موٹاپے کی بڑی وجہ قرار، بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

طبی ماہرین کے مطابق نیند کی کمی موٹاپے میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔ روزانہ چھ گھنٹے سے کم نیند لینے والوں میں وزن بڑھنے کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ پایا جاتا ہے۔ نیند پوری نہ ہونے سے بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز متاثر ہوتے ہیں، جس کے باعث غیر ضروری کھانے اور جسمانی سرگرمی میں کمی آتی ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کے لیے بھی خطرناک ہے، کیونکہ کم نیند بچوں کی نشوونما اور صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ ماہرین نے صحت مند زندگی کے لیے بڑوں کو 7 سے 8 گھنٹے اور بچوں کو عمر کے مطابق 8 سے 10 گھنٹے نیند لینے کی تاکید کی ہے۔

نیند کی کمی موٹاپے کی بڑی وجہ قرار :  بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی


رپورٹر : عروبہ شہزاد


طبی ماہرین نے حالیہ رپورٹس میں یہ انکشاف کیا ہے کہ نیند کی کمی موٹاپے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق جو افراد روزانہ 6 گھنٹے سے کم سوتے ہیں، ان میں وزن بڑھنے کا امکان عام افراد کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ پایا گیا ہے۔
 رپورٹس کے مطابق نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں جسم کے ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ خاص طور پر لیپٹن (Leptin) اور گریلن (Ghrelin) نامی ہارمونز متاثر ہوتے ہیں، جو بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساس کو کنٹرول کرتے ہیں۔ نیند کی کمی میں بھوک بڑھانے والا ہارمون زیادہ متحرک ہو جاتا ہے، جس کے باعث غیر ضروری کھانے اور فاسٹ فوڈ کے استعمال میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نیند کی کمی نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔خاص طور پر بچے چونکہ جسمانی اور ذہنی نشوونما کے مرحلے میں ہوتے ہیں، اس لیے انہیں بڑوں کے مقابلے میں زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو بچے پوری نیند نہیں لیتے، ان میں بھی وہی ہارمونل تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو بڑوں میں وزن بڑھنے کا سبب بنتی ہیں۔


تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نیند کی کمی کے باعث بچوں میں دن کے وقت تھکن بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی جسمانی سرگرمیاں کم ہو جاتی ہیں۔ کھیل کود اور حرکت میں کمی موٹاپے کے خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے، جو آگے چل کر شوگر، دل کی بیماریوں اور بلڈ پریشر جیسے امراض کا سبب بن سکتی ہے۔ماہرینِ صحت نے والدین اور شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ بالغ افراد روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند کو معمول بنائیں  جبکہ بچوں کے لیے عمر کے مطابق 8 سے 10 گھنٹے یا اس سے زیادہ نیند کو یقینی بنایا جائےسونے سے پہلے موبائل فون اور اسکرین کے استعمال کو محدود کیا جائے تاکہ صحت مند مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت نیند کی عادت اپنا کر نہ صرف موٹاپے بلکہ کئی مہلک بیماریوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔


Related News

وفاقی حکومت کا بلوچستان کے 150 نرسنگ طلبہ کی ڈگریاں بحال کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کا بلوچستان کے 150 نرسنگ طلبہ کی ڈگریاں بحال کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے بلوچستان کے 150 نرسنگ طلبہ کو درپیش تعلیمی بحران ختم کرتے ہوئے ان کی ڈگری کی حیثیت بحال کرنے او...
ڈاکٹروں کا احتجاج ختم، کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز اور طبی خدمات بحال
ڈاکٹروں کا احتجاج ختم، کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز اور طبی خدمات بحال
سول ہسپتال کوئٹہ سمیت دیگر سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے احتجاج ختم کرتے ہوئے او پی ڈیز، آپریشن تھیٹرز اور دی...
انسدادِ پولیو مہم: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا فرضی کوریج اور جعلی فنگر مارکنگ پر سخت ایکشن
انسدادِ پولیو مہم: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا فرضی کوریج اور جعلی فنگر مارکنگ پر سخت ایکشن
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت اجلاس میں انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز کی کارکردگی، حفاظتی ٹیک...
بلوچستان میں پولیو کے خلاف اقدامات تیز، اعلیٰ سطحی اجلاس میں ویکسینیشن مہم کا جائزہ
بلوچستان میں پولیو کے خلاف اقدامات تیز، اعلیٰ سطحی اجلاس میں ویکسینیشن مہم کا جائزہ
وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق اور پولیو پروگرام کے اعلیٰ حکام نے چیف سیکریٹری بلوچ...
بلوچستان میں سات روزہ خصوصی پولیو بوسٹر مہم آج سے شروع، 7 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین دی جائے گی
بلوچستان میں سات روزہ خصوصی پولیو بوسٹر مہم آج سے شروع، 7 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین دی جائے گی
ایمرجنسی آپریشنز سینٹر بلوچستان کی جانب سے 13 جولائی سے 142 ہائی رسک یونین کونسلز میں سات روزہ خصوصی پولیو بوس...
گورنر بلوچستان نے ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمیشن سسٹم اور الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ ماڈیول کا افتتاح کر دیا
گورنر بلوچستان نے ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمیشن سسٹم اور الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ ماڈیول کا افتتاح کر دیا
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صحت کے شعبے میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمی...