مستونگ کا میٹھا توت سیزن عروج پر، مقامی معیشت اور روزگار کو سہارا
مستونگ کے باغات میں توت کی بھرپور پیداوار جاری ہے، جبکہ خشک توت کی مانگ ملک بھر میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ پراسیسنگ، پیکنگ اور بہتر مارکیٹنگ سے اس شعبے کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔
مستونگ: گرمیوں کی ایک روشن صبح اور باغات میں درختوں سے لٹکتے سرخ و سفید توت، یہ منظر بلوچستان کے ضلع مستونگ کا ہے، جہاں کا مشہور توت اپنی منفرد مٹھاس اور غذائیت کی وجہ سے دور دور تک پہچانا جاتا ہے۔
ہر سال موسمِ گرما میں یہاں کے باغات توت سے بھر جاتے ہیں اور کاشتکار اپنی محنت کا پھل سمیٹنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ یہاں توت صرف تازہ نہیں کھایا جاتا بلکہ اسے خشک کرکے بھی محفوظ کیا جاتا ہے۔ خشک توت کی مانگ ملک کے مختلف شہروں اور روایتی میلوں تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں یہ مقامی کاشتکاروں کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بنتا ہے۔
زرعی ماہرین کے مطابق توت کا درخت کم پانی میں بھی اچھی نشوونما پاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مستونگ جیسے خشک اور نیم خشک علاقوں میں اس کی کاشت نہایت موزوں سمجھی جاتی ہے۔ کم وسائل کے باوجود یہ درخت کسانوں کو بہتر پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مقامی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر توت کی پراسیسنگ، پیکنگ اور مارکیٹنگ پر مزید توجہ دی جائے تو یہ صنعت مقامی معیشت کو نئی طاقت دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق جدید زرعی سہولیات اور بہتر منڈیوں تک رسائی نہ صرف آمدنی میں اضافہ کرے گی بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
مستونگ کا توت آج صرف ایک میٹھا پھل نہیں بلکہ اس خطے کی محنت، زرخیزی اور معاشی امکانات کی ایک خوبصورت علامت بن چکا ہے۔

Keywords : Mastung Mulberry, Balochistan Agriculture, Dry fruit Industry, Rural Livelihoods