عبادت اور انسانی ذہن: کیا دعا ہمارے دماغ کو بدل سکتی ہے؟
دعا کو صرف ایک مذہبی عمل نہیں بلکہ انسانی ذہن اور جذبات پر اثر انداز ہونے والا ایک نفسیاتی اور سائنسی تجربہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق دعا دماغ کے بعض حصوں کی سرگرمی اور جذباتی کنٹرول میں ممکنہ تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے۔
انسانی تاریخ میں “دعا” (Prayer) ہمیشہ سے صرف مذہبی عمل نہیں رہی بلکہ ایک فکری، جذباتی اور نفسیاتی تجربہ بھی رہی ہے۔ اس لفظ کی جڑیں لاطینی زبان کے لفظ precari سے ملتی ہیں جس کا مطلب ہے “گزارش کرنا، عاجزی سے مانگنا یا التجا کرنا”۔ وقت کے ساتھ یہ تصور پرانی فرانسیسی اور پھر انگریزی زبان میں “prayer” کی شکل اختیار کر گیا، جس میں نہ صرف مانگنے کا مفہوم شامل ہے بلکہ خدا سے رابطہ اور روحانی وابستگی بھی۔
آج کے دور میں دعا کو مختلف مذاہب میں الگ انداز سے سمجھا جاتا ہے۔ اسلام میں نماز اور دعا اللہ سے براہِ راست تعلق کا ذریعہ ہیں، مسیحیت میں اسے خدا سے گفتگو سمجھا جاتا ہے، ہندو مت میں پوجا اور پرارتھنا کو ذہنی پاکیزگی اور دھرم سے وابستگی کا راستہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ عمومی روحانی بیانیے میں دعا کو ایک اندرونی سکون اور امید کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
لیکن جدید سائنس نے دعا کو صرف روحانی دائرے تک محدود نہیں رہنے دیا۔ نیو یارک یونیورسٹی کے محقق اور نیورورڈیولوجسٹ ڈاکٹر اینڈریو نیوبرگ کی تحقیق نے اس بحث کو ایک نئی سمت دی ہے۔ ان کے مطابق دماغ بالغ ہونے کے بعد بھی تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، جسے neuroplasticity کہا جاتا ہے۔
2003 کی ایک تحقیق میں انہوں نے ایسے افراد کے دماغوں کا MRI scan کیا جو خدا پر یقین رکھتے تھے۔ ان افراد کو روزانہ تقریباً 12 منٹ دعا کرنے کی ہدایت دی گئی۔ نتائج کے مطابق دعا کرنے والے افراد کے دماغ کے ایک اہم حصے cingulate cortex میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ یہ وہ حصہ ہے جو جذبات، ہمدردی اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس تبدیلی کو اس بات سے جوڑا گیا کہ مسلسل دعا انسان میں برداشت، نرمی اور جذباتی توازن پیدا کر سکتی ہے۔
اسی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ دعا کے دوران دماغ کے اس حصے کی سرگرمی کم ہوتی ہے جو خطرے اور فوری ردِعمل (fight or flight response) کو کنٹرول کرتا ہے، یعنی amygdala۔
البتہ یہ بات اہم ہے کہ یہ نتائج مکمل طور پر “ثابت شدہ حتمی سائنسی حقیقت” نہیں بلکہ ایک محدود تحقیق کا حصہ ہیں، جس میں دعا اور ذہنی کیفیات کے درمیان ممکنہ تعلق کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اسی سلسلے میں Alcoholics Anonymous (AA) کے اراکین پر کی گئی تحقیق بھی خاصی دلچسپ ہے۔ اس تنظیم کے طویل عرصے سے وابستہ افراد میں الکوحل کی شدید خواہش (craving) کم یا تقریباً ختم پائی گئی۔ نیو یارک لینگون میڈیکل سینٹر کی ایک MRI study میں یہ دیکھا گیا کہ جب ان افراد کو شراب سے متعلق تصاویر دکھائی گئیں تو ان کی خواہش میں اضافہ ہوا، لیکن جب انہوں نے AA سے متعلق دعا یا روحانی جملے دہرائے تو یہ خواہش واضح طور پر کم ہو گئی۔
یہ بات صرف AA تک محدود نہیں۔ مختلف مطالعات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ دعا یا روحانی مشقیں بعض افراد میں تناؤ کم کرنے، توجہ بہتر بنانے اور جذباتی استحکام پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دعا صرف مذہبی روایت نہیں بلکہ انسانی ذہن کے ساتھ جڑی ایک پیچیدہ کیفیت ہے۔ یہ انسان کے اندر امید، نظم، جذباتی توازن اور بعض اوقات رویّوں میں تبدیلی پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم سائنس ابھی اس عمل کو مکمل طور پر سمجھنے کے ابتدائی مراحل میں ہے، اور اس پر مزید تحقیق کی ضرورت برقرار ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ دعا ایک ایسا مقام رکھتی ہے جہاں روحانیت اور neuroscience ایک دوسرے سے آ کر ملتے ہیں — ایک طرف ایمان اور تعلقِ خدا، اور دوسری طرف انسانی دماغ کی بدلتی ہوئی ساخت اور اس کے اثرات۔

Keywords : Prayer, Neuroscience, Neuroplasticity, Spirituality