روزانہ ایک سنگترہ: کینسر اور اسٹروک سے بچاؤ کا آسان طریقہ

روزانہ ایک سنگترہ: کینسر اور اسٹروک سے بچاؤ کا آسان طریقہ

آسٹریلوی تحقیقی ادارے CSIRO کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سنگترہ اور دیگر کھٹے پھل نہ صرف کینسر کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں بلکہ اسٹروک کے امکانات کو بھی نمایاں طور پر گھٹا سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق روزانہ ایک اضافی سروس سنگترہ یا دیگر کھٹے پھل کھانے سے منہ، گلے اور معدے کے کینسر کے خطرے میں تقریباً 50 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹروک کے خطرے میں بھی 19 فیصد تک کمی ممکن ہے، بشرطیکہ یہ پھل پہلے سے تجویز کردہ پانچ روزانہ پھل اور سبزیوں کے ساتھ استعمال کیے جائیں۔ صحت اور غذائیت کے فوائد سنگترہ و دیگر کھٹے پھل وٹامن C، بیٹا کیروٹین، فولک ایسڈ اور غذائی ریشہ سے بھرپور ہوتے ہیں۔ یہ پھل دل کی بیماری، بلڈ پریشر، اسٹروک، ذیابیطس، الزائمر، پارکنسن اور موٹاپے کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مددگار ہیں۔ تحقیق کے مطابق کھٹے پھل میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کے خلیوں کو محفوظ رکھتے ہیں، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں اور کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آسان طریقے روزانہ استعمال کے لیے تازہ نچوڑا ہوا مالٹے یا دیگر کھٹے پھل کا جوس پینا سلاد یا کھانوں میں کھٹے پھل کا رس یا گودا شامل کرنا مالٹے یا مینڈارن کے ٹکڑے بطور اسنیک کھانا ماہرین کے مطابق، یہ چھوٹے مگر آسان اقدامات روزانہ کرنے سے صحت پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے اور کینسر، اسٹروک اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔

روزانہ ایک سنگترہ: کینسر اور اسٹروک سے بچاؤ کا آسان طریقہ

رپورٹ: اقصی بلوچ

آسٹریلوی تحقیقی ادارے CSIRO کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سنگترہ اور دیگر کھٹے پھل نہ صرف کینسر کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں بلکہ اسٹروک کے امکانات کو بھی نمایاں طور پر گھٹا سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق روزانہ ایک اضافی سروس سنگترہ یا دیگر کھٹے پھل کھانے سے منہ، گلے اور معدے کے کینسر کے خطرے میں تقریباً 50 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹروک کے خطرے میں بھی 19 فیصد تک کمی ممکن ہے، بشرطیکہ یہ پھل پہلے سے تجویز کردہ پانچ روزانہ پھل اور سبزیوں کے ساتھ استعمال کیے جائیں۔

صحت اور غذائیت کے فوائد

سنگترہ و دیگر کھٹے پھل وٹامن C، بیٹا کیروٹین، فولک ایسڈ اور غذائی ریشہ سے بھرپور ہوتے ہیں۔ یہ پھل دل کی بیماری، بلڈ پریشر، اسٹروک، ذیابیطس، الزائمر، پارکنسن اور موٹاپے کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مددگار ہیں۔

تحقیق کے مطابق کھٹے پھل میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کے خلیوں کو محفوظ رکھتے ہیں، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں اور کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

آسان طریقے روزانہ استعمال کے لیے

  • تازہ نچوڑا ہوا مالٹے یا دیگر کھٹے پھل کا جوس پینا

  • سلاد یا کھانوں میں کھٹے پھل کا رس یا گودا شامل کرنا

  • مالٹے یا مینڈارن کے ٹکڑے بطور اسنیک کھانا

ماہرین کے مطابق، یہ چھوٹے مگر آسان اقدامات روزانہ کرنے سے صحت پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے اور کینسر، اسٹروک اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...