ای پی آئی ہیڈکوارٹر بلوچستان میں کمیونٹی بیسڈ سرویلنس پر اسکوپنگ اجلاس

ای پی آئی ہیڈکوارٹر بلوچستان میں کمیونٹی بیسڈ سرویلنس پر اسکوپنگ اجلاس

کوئٹہ: ای پی آئی ہیڈکوارٹر بلوچستان میں کمیونٹی بیسڈ سرویلنس سے متعلق ایک اسکوپنگ اجلاس منعقد ہوا، جس کا مقصد بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور فوری عوامی صحت کے ردِعمل کے لیے کمیونٹی کی شمولیت کو مضبوط بنانا تھا۔ اجلاس کی صدارت ڈاکٹر آفتاب حسین، صوبائی کوآرڈینیٹر (پی سی) ای پی آئی بلوچستان نے کی۔ اجلاس میں ڈاکٹر آصف بتینی، مسٹر ذیشان، ڈاکٹر رابیہ بلوچ، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈاکٹر رحمت اللہ کاکڑ، یونیسیف کے ڈاکٹر نور حسین گچکی، ڈاکٹر ظفر اقبال خوستی (ای پی آئی)، ڈاکٹر احسان لارک، ڈی پی سی ای پی آئی کے علاوہ یو کے ہیلتھ سیکیورٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی بیسڈ سرویلنس بیماریوں کے پھیلاؤ کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہے، خصوصاً دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں میں۔ اجلاس میں مختلف شراکت داروں کے مابین رابطہ کاری کو بہتر بنانے، کمیونٹی سطح پر رپورٹنگ کے نظام کو مضبوط کرنے اور سی بی ایس کو موجودہ عوامی صحت کے نظام میں شامل کرنے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ کمیونٹی کی مؤثر شمولیت، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی صلاحیت سازی اور بروقت معلومات کا تبادلہ بلوچستان میں بیماریوں کی نگرانی اور عوامی صحت کے نظام کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

 

ای پی آئی ہیڈکوارٹر بلوچستان میں کمیونٹی بیسڈ سرویلنس پر اسکوپنگ اجلاس

کوئٹہ: ای پی آئی ہیڈکوارٹر بلوچستان میں کمیونٹی بیسڈ سرویلنس سے متعلق ایک اسکوپنگ اجلاس منعقد ہوا، جس کا مقصد بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور فوری عوامی صحت کے ردِعمل کے لیے کمیونٹی کی شمولیت کو مضبوط بنانا تھا۔
اجلاس کی صدارت ڈاکٹر آفتاب حسین، صوبائی کوآرڈینیٹر (پی سی) ای پی آئی بلوچستان نے کی۔ اجلاس میں ڈاکٹر آصف بتینی، مسٹر ذیشان، ڈاکٹر رابیہ بلوچ، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈاکٹر رحمت اللہ کاکڑ، یونیسیف کے ڈاکٹر نور حسین گچکی، ڈاکٹر ظفر اقبال خوستی (ای پی آئی)، ڈاکٹر احسان لارک، ڈی پی سی ای پی آئی کے علاوہ یو کے ہیلتھ سیکیورٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی بیسڈ سرویلنس بیماریوں کے پھیلاؤ کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہے، خصوصاً دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں میں۔ اجلاس میں مختلف شراکت داروں کے مابین رابطہ کاری کو بہتر بنانے، کمیونٹی سطح پر رپورٹنگ کے نظام کو مضبوط کرنے اور سی بی ایس کو موجودہ عوامی صحت کے نظام میں شامل کرنے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ کمیونٹی کی مؤثر شمولیت، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی صلاحیت سازی اور بروقت معلومات کا تبادلہ بلوچستان میں بیماریوں کی نگرانی اور عوامی صحت کے نظام کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...