کوئٹہ تیزاب حملہ: ڈاکٹر کی حالت مستحکم، ہسپتالوں میں ہڑتال ،ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
کوئٹہ میں تیزاب حملے میں زخمی خاتون ڈاکٹر اس وقت کراچی میں زیرِ علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد ہسپتالوں میں ہڑتال جاری ہے جبکہ بہادری دکھانے والے ملازم کو سول اعزاز دینے کا اعلان کیا گیا اور مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔
کوئٹہ میں سول ہسپتال کے اندر پیش آنے والے تیزاب حملے کے دوران زخمی ہونے والی خاتون پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر
اس وقت کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق ان کی حالت اس وقت مستحکم ہے، تاہم جسم کے مختلف حصے، چہرہ اور دونوں آنکھیں متاثر ہوئی ہیں، اگرچہ بینائی محفوظ ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ ہسپتال میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہی تھیں۔ واقعے کے بعد طبی برادری میں شدید ردعمل سامنے آیا، جس کے نتیجے میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے صوبائی دارالحکومت کے سرکاری ہسپتالوں میں غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے او پی ڈیز اور غیر ایمرجنسی سروسز معطل کر دی ہیں۔
اسی واقعے میں ایک ہسپتال ملازم عبدالرزاق تاراکئی نے زخمی ڈاکٹر کو بچانے کی کوشش کی اور خود بھی زخمی ہو گئے، تاہم ان کی بروقت کارروائی کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ان کی “بہادری اور انسان دوستی” کو سراہتے ہوئے انہیں سول اعزاز دینے کا اعلان کیا ہے اور انہیں معاشرے کا “قیمتی اثاثہ” قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق مبینہ مرکزی ملزم ہمایوں شاہ کو بعد ازاں نوشکی بس اسٹاپ کے قریب پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا، جب وہ ضلع بھر میں جاری سرچ آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر فائرنگ کر رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے کی گئی تھی۔
متاثرہ ڈاکٹر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

Keywords : Acid attack, Quetta Hospital, Dr Mahnoor Nasar, Balochistan Strike