چاول یا روٹی: صحت کے لیے کون سی غذا بہتر؟

چاول یا روٹی: صحت کے لیے کون سی غذا بہتر؟

پاکستان سمیت برصغیر میں چاول اور روٹی صدیوں سے بنیادی خوراک کا حصہ رہے ہیں، لیکن آج کے دور میں صحت کے بڑھتے مسائل کے باعث یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ آخر چاول بہتر ہیں یا روٹی۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق دونوں غذائیں کاربوہائیڈریٹس کا اہم ذریعہ ہیں جو جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں، تاہم ان کے اثرات انسان کی عمر، طرزِ زندگی اور صحت کی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ روٹی، خاص طور پر آٹے یا چکی کی روٹی، فائبر سے بھرپور ہوتی ہے جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے اور دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شوگر اور وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے روٹی نسبتاً بہتر انتخاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کے برعکس چاول، خصوصاً سفید چاول، جلد ہضم ہو جاتے ہیں اور فوری توانائی فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے محنت مزدوری یا زیادہ جسمانی کام کرنے والے افراد انہیں ترجیح دیتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چاول براؤن رائس کی صورت میں استعمال کیے جائیں تو یہ بھی فائبر اور غذائی اجزاء سے بھرپور ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر روٹی کو مناسب مقدار میں سبزی، دال یا سالن کے ساتھ کھایا جائے تو یہ ایک متوازن غذا بن جاتی ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی ایک غذا کو مکمل طور پر چھوڑنے کے بجائے اعتدال کے ساتھ دونوں کا استعمال صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ آخر میں ماہرینِ صحت یہی مشورہ دیتے ہیں کہ چاول یا روٹی کا انتخاب ذاتی صحت، روزمرہ سرگرمیوں اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ہونا چاہیے۔ متوازن غذا، مناسب ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی ہی اچھی صحت کی ضمانت ہے۔

چاول یا روٹی: صحت کے لیے کون سی غذا بہتر؟ 


رپورٹ : اقصی بلوچ

پاکستان سمیت برصغیر میں چاول اور روٹی صدیوں سے بنیادی خوراک کا حصہ رہے ہیں، لیکن آج کے دور میں صحت کے بڑھتے مسائل کے باعث یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ آخر چاول بہتر ہیں یا روٹی۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق دونوں غذائیں کاربوہائیڈریٹس کا اہم ذریعہ ہیں جو جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں، تاہم ان کے اثرات انسان کی عمر، طرزِ زندگی اور صحت کی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔

روٹی، خاص طور پر آٹے یا چکی کی روٹی، فائبر سے بھرپور ہوتی ہے جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے اور دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شوگر اور وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے روٹی نسبتاً بہتر انتخاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کے برعکس چاول، خصوصاً سفید چاول، جلد ہضم ہو جاتے ہیں اور فوری توانائی فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے محنت مزدوری یا زیادہ جسمانی کام کرنے والے افراد انہیں ترجیح دیتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چاول براؤن رائس کی صورت میں استعمال کیے جائیں تو یہ بھی فائبر اور غذائی اجزاء سے بھرپور ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر روٹی کو مناسب مقدار میں سبزی، دال یا سالن کے ساتھ کھایا جائے تو یہ ایک متوازن غذا بن جاتی ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی ایک غذا کو مکمل طور پر چھوڑنے کے بجائے اعتدال کے ساتھ دونوں کا استعمال صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔

آخر میں ماہرینِ صحت یہی مشورہ دیتے ہیں کہ چاول یا روٹی کا انتخاب ذاتی صحت، روزمرہ سرگرمیوں اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ہونا چاہیے۔ متوازن غذا، مناسب ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی ہی اچھی صحت کی ضمانت ہے۔


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...