قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟

قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟

قانونِ مفروضہ (لا آف اسمپشن) کے مطابق انسان جن خیالات اور یقین کو اپنی حقیقت مان لیتا ہے، وہی اس کے رویوں اور فیصلوں کے ذریعے زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مثبت سوچ، خود اعتمادی اور مسلسل عملی کوشش انسان کو اپنی مطلوبہ منزل کے قریب لے جا سکتی ہے۔

تحریر: اِرم سہیل


دنیا میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ "بلاوجہ قیاس آرائیاں نہ کرو۔" لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ بعض اوقات کامیابی کا آغاز ہی ایک مضبوط مفروضے سے ہوتا ہے تو؟ یہی تصور "قانونِ مفروضہ" (لا آف اسمپشن) کہلاتا ہے، جسے بیسویں صدی کے معروف مصنف اور لیکچرر نیول گوڈارڈ نے مقبول بنایا۔ ان کے مطابق انسان جس حقیقت کو اپنے ذہن میں مکمل یقین کے ساتھ قبول کر لیتا ہے، وہی حقیقت رفتہ رفتہ اس کی زندگی میں ظاہر ہونے لگتی ہے۔یہ نظریہ جدید نفسیات، خود اعتمادی اور ذاتی ترقی (پرسنل ڈیولپمنٹ) کی دنیا میں آج بھی خاصی مقبولیت رکھتا ہے، اگرچہ اس کے تمام دعووں کی سائنسی توثیق موجود نہیں۔ تاہم اس کے کئی پہلو ایسے ہیں جن کی جڑیں نفسیاتی تحقیق میں ضرور ملتی ہیں۔

سیڑھی والے شخص کی دلچسپ کہانی
نیول گوڈارڈ کے ایک لیکچر میں شریک ہونے والے ایک شخص نے برسوں بعد ایک واقعہ سنایا۔ اس وقت وہ چورانوے برس کا تھا۔ اس کے مطابق، لیکچر کے اختتام پر نیول نے حاضرین کو ایک عجیب سی مشق دی۔ انہوں نے کہا کہ تین دن تک ہر رات سونے سے پہلے اور صبح بیدار ہونے کے فوراً بعد صرف ایک منظر کا تصور کریں کہ آپ ایک سیڑھی پر چڑھ رہے ہیں۔اس شخص نے ابتدا میں اسے محض ایک ذہنی کھیل سمجھا، لیکن پھر بھی تین دن تک ہدایت پر عمل کیا۔ تیسرے دن اس کے والد گھر کی چھت پر رنگ کر رہے تھے۔ اچانک انہیں یاد آیا کہ رنگ نیچے رہ گیا ہے، چنانچہ انہوں نے بیٹے سے کہا کہ سیڑھی پر چڑھ کر رنگ اوپر لے آئے۔ جب وہ آدھی سیڑھی تک پہنچا تو اسے شدید احساس ہوا کہ یہ منظر وہ پہلے ہی کئی بار اپنے ذہن میں دیکھ چکا ہے۔نیول گوڈارڈ اس واقعے کو اس بات کی مثال کے طور پر پیش کرتے تھے کہ جس منظر کو انسان بار بار اپنے ذہن میں حقیقت کے طور پر قبول کرتا ہے، وہ کسی نہ کسی صورت عملی زندگی میں ظاہر ہو سکتا ہے۔

قانونِ مفروضہ کیا کہتا ہے؟
اس نظریے کے مطابق ہماری بیرونی دنیا ہمارے اندرونی عقائد، تصورات اور مفروضات کا عکس ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص ہر وقت یہ مانتا رہے کہ "میرے لیے کامیابی بہت مشکل ہے"، "لوگ میری صلاحیتوں کو نہیں پہچانتے"، یا "اچھی ملازمت صرف خوش قسمت لوگوں کو ملتی ہے"، تو اس کے فیصلے، رویے اور مواقع بھی اکثر انہی تصورات سے متاثر ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس اگر انسان یہ یقین پیدا کرے کہ وہ قابل، باصلاحیت اور کامیابی کا مستحق ہے، تو اس کا اندازِ فکر، اعتماد، گفتگو اور فیصلے بدلنے لگتے ہیں، اور یہی تبدیلیاں اس کی زندگی کے نتائج پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

نفسیات کیا کہتی ہے؟
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ جدید سائنس یہ نہیں کہتی کہ صرف سوچنے سے کائنات فوراً آپ کی خواہش پوری کر دے گی، لیکن نفسیات ضرور بتاتی ہے کہ انسان کے عقائد اس کے رویوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔امریکی ماہرِ نفسیات البرٹ بینڈورا نے سیلف ایفیکیسی کا نظریہ پیش کیا، جس کے مطابق جو لوگ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں، وہ مشکل حالات میں زیادہ ثابت قدم رہتے ہیں اور بہتر نتائج حاصل کرنے کے امکانات رکھتے ہیں۔اسی طرح کیرول ڈویک کی گروتھ مائنڈ سیٹ پر ہونے والی تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ جو افراد اپنی صلاحیتوں کو قابلِ ترقی سمجھتے ہیں، وہ سیکھنے اور کامیابی کے زیادہ مواقع پیدا کرتے ہیں۔نفسیات میں سیلف فل فلنگ پروفیسی یعنی "خود کو سچا ثابت کرنے والی پیش گوئی" کا تصور بھی معروف ہے۔ اگر انسان کسی نتیجے پر پہلے ہی یقین کر لے تو اس کا رویہ غیر محسوس انداز میں اسی نتیجے کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

روزمرہ زندگی کی مثالیں
فرض کریں ایک طالب علم ہر وقت سوچتا ہے کہ وہ امتحان میں ناکام ہوگا۔ اس سوچ کی وجہ سے وہ گھبراہٹ کا شکار رہتا ہے، پڑھائی سے کتراتا ہے اور امتحان میں اپنی پوری صلاحیت استعمال نہیں کر پاتا۔ نتیجہ اکثر وہی نکلتا ہے جس کا اسے پہلے سے خوف تھا۔اس کے برعکس اگر وہ یہ فرض کرے کہ وہ اچھی تیاری کر سکتا ہے، منظم انداز میں محنت کرے اور خود پر اعتماد رکھے تو کامیابی کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح ملازمت، کاروبار، تعلقات اور ذاتی ترقی میں بھی انسان کے بنیادی عقائد اس کے فیصلوں پر مسلسل اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔

قانونِ مفروضہ پر تنقید
یہ نظریہ جتنا مقبول ہے، اتنا ہی متنازع بھی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ زندگی کے تمام نتائج کو صرف ذہنی مفروضات سے جوڑ دینا درست نہیں۔ معاشی حالات، تعلیم، صحت، سماجی ماحول، مواقع اور قسمت جیسے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص صرف مثبت تصور کرتا رہے لیکن عملی کوشش نہ کرے، نئی مہارتیں نہ سیکھے اور درست فیصلے نہ کرے تو صرف تصور اسے کامیابی تک نہیں پہنچا سکتا۔اس لیے قانونِ مفروضہ کو ایک ذہنی حکمتِ عملی (مینٹل اسٹریٹیجی) کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے، نہ کہ فطرت کا ناقابلِ تردید سائنسی قانون۔

نتیجہ
قانونِ مفروضہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہر بڑی تبدیلی کا آغاز اکثر انسان کے ذہن سے ہوتا ہے۔ اگرچہ صرف سوچنے سے دنیا نہیں بدلتی، لیکن سوچ انسان کے فیصلوں کو ضرور بدلتی ہے، اور فیصلے ہی مستقبل کی بنیاد بنتے ہیں۔شاید اصل سبق یہی ہے کہ خواب دیکھنا ضروری ہے، مگر خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے یقین، مسلسل محنت، درست حکمتِ عملی اور صبر بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ مثبت مفروضہ انسان کو پہلا قدم اٹھانے کی ہمت دیتا ہے، لیکن منزل تک پہنچانے والا اصل ذریعہ اس کی مسلسل کوشش، سیکھنے کی لگن اور عملی عمل ہوتا ہے۔

Keywords : Law of Assumption, Neville Goddard, Mindset and Success, Positive Thinking

 


Related News

نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
بلوچستان کے ضلع نوشکی کے اعلیٰ معیار اور قدرتی مٹھاس سے بھرپور انگور ملک بھر کی منڈیوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہ...
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی اب پوری دنیا کے لیے ایک سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ اگر ہم توانائی اور پانی کے درست ا...
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
ضلع بارکھان کے علاقے بغاؤ میں گاجا سیب کی فصل تیار ہو چکی ہے اور آئندہ چند روز میں توڑائی کے بعد یہ ملک بھر کی...
مستونگ کا بلیک امبر سیزن عروج پر، باغبان بہتر منڈیوں اور برآمدی مواقع کے منتظر
مستونگ کا بلیک امبر سیزن عروج پر، باغبان بہتر منڈیوں اور برآمدی مواقع کے منتظر
مستونگ کے گرین بیلٹ، خصوصاً کھڈکوچہ میں بلیک امبر کی فصل عروج پر ہے اور اعلیٰ معیار کا پھل ملک بھر کی فروٹ منڈ...
سنجاوی میں بروقت بارشوں سے بادام کی بھرپور فصل کی امید، کسان پُرامید
سنجاوی میں بروقت بارشوں سے بادام کی بھرپور فصل کی امید، کسان پُرامید
بروقت بارشوں اور سازگار موسم کے باعث سنجاوی کے بادام کے باغات میں اس سال گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتر پیداوا...
ایتھیکل ڈائلیما: اصول، مفاد اور انتخاب
ایتھیکل ڈائلیما: اصول، مفاد اور انتخاب
ایتھیکل ڈائلیماز زندگی کے وہ مشکل موڑ ہیں جہاں ہر انتخاب کسی نہ کسی نقصان یا ناانصافی سے جڑا ہوتا ہے۔ درست فی...