وزن کم کرنے والی ادویات چھوڑنے کے بعد وزن تیزی سے واپس آنے کا انکشاف
برٹش میڈیکل جرنل (BMJ) میں شائع ہونے والی آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق وزن کم کرنے کی جدید ادویات جیسے Semaglutide اور Tirzepatide علاج کے دوران مؤثر ثابت ہوتی ہیں، تاہم علاج بند کرنے کے بعد وزن تیزی سے واپس آتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ نئی ادویات چھوڑنے کے بعد اوسطاً 0.8 کلوگرام فی مہینہ وزن بڑھتا ہے اور تقریباً 18 ماہ میں وزن دوبارہ پہلے جیسا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ادویات موٹاپے کا مستقل علاج نہیں بلکہ طویل مدتی مینجمنٹ کا حصہ ہیں۔
وزن کم کرنے کی ادویات چھوڑنے کے بعد وزن تیزی سے واپس آنے کا انکشاف
رپورٹ: سیدہ نتاشا
وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی جدید ادویات، خصوصاً Semaglutide اور Tirzepatide، علاج کے دوران نمایاں طور پر وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، تاہم علاج بند کرنے کے بعد وزن تیزی سے واپس آ جاتا ہے۔ یہ انکشاف برٹش میڈیکل جرنل (The BMJ) میں 6 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں کیا گیا ہے۔
تحقیق آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے انجام دی، جس کی مشترکہ سینئر مصنفہ پروفیسر سوزن جیب ہیں۔ یہ تحقیق ایک سسٹمیٹک ریویو اور میٹا اینالیسس پر مشتمل ہے، جس میں 37 مطالعات کا جائزہ لیا گیا اور 9 ہزار سے زائد بالغ افراد کے ڈیٹا کو شامل کیا گیا، جو موٹاپے یا زائد وزن کا شکار تھے اور وزن کم کرنے کی ادویات استعمال کر رہے تھے۔
تحقیق کے مطابق، جدید وزن کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد اوسطاً اپنے جسمانی وزن کا 15 سے 20 فیصد تک کم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ خاص طور پر Semaglutide اور Tirzepatide استعمال کرنے والوں نے اوسطاً 14.7 کلوگرام وزن کم کیا۔
تاہم تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ علاج چھوڑنے کے بعد وزن واپس آنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ تمام وزن کم کرنے والی ادویات کے لیے اوسطاً 0.4 کلوگرام فی مہینہ وزن بڑھنے کا رجحان دیکھا گیا، جبکہ نئی اور زیادہ مؤثر ادویات کے معاملے میں یہ رفتار 0.8 کلوگرام فی مہینہ تک ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، علاج چھوڑنے کے پہلے سال میں اوسطاً 9.9 کلوگرام وزن واپس آ جاتا ہے۔
محققین کے تخمینے کے مطابق Semaglutide اور Tirzepatide استعمال کرنے والے افراد کا وزن تقریباً 18 ماہ میں دوبارہ علاج سے پہلے کی سطح تک پہنچ سکتا ہے، تاہم زیادہ تر مطالعات میں علاج چھوڑنے کے بعد صرف ایک سال تک کا ڈیٹا دستیاب تھا۔
تحقیق میں وزن کم کرنے کے روایتی طریقوں سے بھی موازنہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، وہ افراد جو صرف ڈائٹ اور ورزش کے ذریعے وزن کم کرتے ہیں، ان میں وزن واپسی کی رفتار 0.1 سے 0.2 کلوگرام فی مہینہ رہی، جو ادویات چھوڑنے کے بعد وزن واپسی کی رفتار کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
پروفیسر سوزن جیب نے اس حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وزن کم کرنے کے یہ انجیکشن استعمال کرنے والے افراد کو علاج ختم ہونے کے بعد تیزی سے وزن واپس آنے کے خطرے سے آگاہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتائج کلینیکل ٹرائلز پر مبنی ہیں اور حقیقی زندگی میں مریض مختلف وجوہات کی بنا پر علاج چھوڑتے ہیں، اس لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ علاج چھوڑنے سے بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر جیسے کارڈیو میٹابولک فوائد بھی تقریباً ڈیڑھ سال کے اندر ختم ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موٹاپا ایک دائمی بیماری ہے، جس کے لیے طویل مدتی علاج اور منصوبہ بندی ضروری ہے۔