سُپر فلو کیا ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین کیوں ضروری ہے؟

سُپر فلو کیا ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین کیوں ضروری ہے؟

سُپر فلو کیا ہے؟ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق این ایچ ایس کی نیشنل میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر میگھنا پنڈت کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس پر غیر معمولی دباؤ، ایمبولینسز کی ریکارڈ طلب اور ریذیڈنٹ ڈاکٹروں کی متوقع ہڑتال کے باعث فلو کی موجودہ لہر این ایچ ایس کے لیے رواں موسمِ سرما کی سب سے مشکل صورتِ حال بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ فلو کا سیزن اس سال جلد شروع ہوا ہے، تاہم وائرس کے پھیلاؤ اور بیماری کی شدت اب بھی مجموعی طور پر فلو سیزن کی معمول کی حدود میں ہی سمجھی جا رہی ہے۔ ’سُپر فلو‘ کوئی نئی بیماری یا وائرس نہیں بلکہ فلو کی نسبتاً شدید لہر کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔ فلو وائرس میں تبدیلی کیوں آتی رہتی ہے؟ انفلوئنزا وائرس مسلسل اپنی ساخت تبدیل کرتے رہتے ہیں تاکہ انسانی مدافعتی نظام سے بچ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ فلو ویکسین کو ہر سال اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر چار سے پانچ برس بعد وائرس میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں، جس کے نتیجے میں بعض برسوں میں فلو زیادہ شدید شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس سال فلو کی غالب قسم انفلوئنزا اے (H3N2) ہے، جو 1968 سے موجود ہے اور اب تک اس میں متعدد بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ اسی بنا پر وقتاً فوقتاً ’سُپر فلو‘ جیسی صورتِ حال سامنے آتی رہتی ہے۔ کم عمر افراد میں فلو کے کیسز زیادہ کیوں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے اور نوجوان سکولوں اور تعلیمی اداروں میں زیادہ میل جول کے باعث فلو کا شکار جلد ہو جاتے ہیں، کیونکہ ایسی جگہوں پر وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ کم عمر افراد کا مدافعتی نظام فلو وائرس کا کم تجربہ رکھتا ہے۔ بالغ افراد میں انفیکشن کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے، تاہم 64 برس سے زائد عمر کے افراد میں پہلے سے موجود بیماریوں اور مدافعتی نظام کی کمزوری کے باعث شدید فلو کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ عمر کے ساتھ مدافعتی نظام کے کمزور ہونے کے عمل کو امیونوسینیسنس کہا جاتا ہے۔ نوزائیدہ بچے بھی فلو کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مدافعتی نظام ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا۔ کیا بزرگ افراد کے لیے فلو ویکسین ضروری ہے؟ اعدادوشمار کے مطابق فلو ویکسین بزرگ افراد میں فلو کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے کے خطرے کو 30 سے 40 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔ اگرچہ یہ شرح بعض دیگر بیماریوں کی ویکسینز کے مقابلے میں کم ہے، تاہم فلو کے حوالے سے اسے مؤثر اور اہم سمجھا جاتا ہے۔ مختلف عمر کے گروپس میں ویکسین کا اثر کیوں مختلف ہے؟ رواں سیزن کی فلو ویکسین شدید بیماری کے خلاف بہتر تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ ویکسین لگوانے والے بچوں میں فلو کے باعث ہسپتال جانے کا خطرہ 70 سے 75 فیصد تک کم ہو جاتا ہے، جبکہ بالغ افراد میں یہ کمی 30 سے 40 فیصد تک دیکھی گئی ہے۔ بچوں کو فلو ویکسین ناک کے ذریعے سپرے کی صورت میں دی جاتی ہے، جبکہ بالغوں کو انجیکشن لگایا جاتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ناک کے ذریعے دی جانے والی ویکسین بچوں میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ فلو ہونے کی صورت میں کیا احتیاط کریں؟ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر فلو کی علامات ظاہر ہوں تو گھر پر رہیں، مکمل آرام کریں اور وائرس کو دوسروں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اگرچہ فلو ایک ناخوش گوار بیماری ہے، مگر اوسطاً ہر شخص کو ہر پانچ برس میں ایک بار فلو ہو سکتا ہے اور زیادہ تر افراد بغیر کسی خاص طبی علاج کے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

سُپر فلو کیا ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین کیوں ضروری ہے؟

برطانیہ میں رواں موسمِ سرما کے دوران فلو کے کیسز میں معمول سے پہلے ہی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ فلو کی اس غیر معمولی لہر کو بعض حلقے سُپر فلو کا نام دے رہے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اصطلاح سائنسی نہیں بلکہ میڈیا میں استعمال کی جا رہی ہے۔

 

سُپر فلو کیا ہے؟

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق این ایچ ایس کی نیشنل میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر میگھنا پنڈت کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس پر غیر معمولی دباؤ، ایمبولینسز کی ریکارڈ طلب اور ریذیڈنٹ ڈاکٹروں کی متوقع ہڑتال کے باعث فلو کی موجودہ لہر این ایچ ایس کے لیے رواں موسمِ سرما کی سب سے مشکل صورتِ حال بن چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ فلو کا سیزن اس سال جلد شروع ہوا ہے، تاہم وائرس کے پھیلاؤ اور بیماری کی شدت اب بھی مجموعی طور پر فلو سیزن کی معمول کی حدود میں ہی سمجھی جا رہی ہے۔ ’سُپر فلو‘ کوئی نئی بیماری یا وائرس نہیں بلکہ فلو کی نسبتاً شدید لہر کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔

فلو وائرس میں تبدیلی کیوں آتی رہتی ہے؟

انفلوئنزا وائرس مسلسل اپنی ساخت تبدیل کرتے رہتے ہیں تاکہ انسانی مدافعتی نظام سے بچ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ فلو ویکسین کو ہر سال اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر چار سے پانچ برس بعد وائرس میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں، جس کے نتیجے میں بعض برسوں میں فلو زیادہ شدید شکل اختیار کر لیتا ہے۔

اس سال فلو کی غالب قسم انفلوئنزا اے (H3N2) ہے، جو 1968 سے موجود ہے اور اب تک اس میں متعدد بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ اسی بنا پر وقتاً فوقتاً ’سُپر فلو‘ جیسی صورتِ حال سامنے آتی رہتی ہے۔

کم عمر افراد میں فلو کے کیسز زیادہ کیوں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے اور نوجوان سکولوں اور تعلیمی اداروں میں زیادہ میل جول کے باعث فلو کا شکار جلد ہو جاتے ہیں، کیونکہ ایسی جگہوں پر وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ کم عمر افراد کا مدافعتی نظام فلو وائرس کا کم تجربہ رکھتا ہے۔

بالغ افراد میں انفیکشن کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے، تاہم 64 برس سے زائد عمر کے افراد میں پہلے سے موجود بیماریوں اور مدافعتی نظام کی کمزوری کے باعث شدید فلو کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ عمر کے ساتھ مدافعتی نظام کے کمزور ہونے کے عمل کو امیونوسینیسنس کہا جاتا ہے۔

نوزائیدہ بچے بھی فلو کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مدافعتی نظام ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا۔

کیا بزرگ افراد کے لیے فلو ویکسین ضروری ہے؟

اعدادوشمار کے مطابق فلو ویکسین بزرگ افراد میں فلو کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے کے خطرے کو 30 سے 40 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔ اگرچہ یہ شرح بعض دیگر بیماریوں کی ویکسینز کے مقابلے میں کم ہے، تاہم فلو کے حوالے سے اسے مؤثر اور اہم سمجھا جاتا ہے۔

مختلف عمر کے گروپس میں ویکسین کا اثر کیوں مختلف ہے؟

رواں سیزن کی فلو ویکسین شدید بیماری کے خلاف بہتر تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ ویکسین لگوانے والے بچوں میں فلو کے باعث ہسپتال جانے کا خطرہ 70 سے 75 فیصد تک کم ہو جاتا ہے، جبکہ بالغ افراد میں یہ کمی 30 سے 40 فیصد تک دیکھی گئی ہے۔

بچوں کو فلو ویکسین ناک کے ذریعے سپرے کی صورت میں دی جاتی ہے، جبکہ بالغوں کو انجیکشن لگایا جاتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ناک کے ذریعے دی جانے والی ویکسین بچوں میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

 

 

فلو ہونے کی صورت میں کیا احتیاط کریں؟

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر فلو کی علامات ظاہر ہوں تو گھر پر رہیں، مکمل آرام کریں اور وائرس کو دوسروں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اگرچہ فلو ایک ناخوش گوار بیماری ہے، مگر اوسطاً ہر شخص کو ہر پانچ برس میں ایک بار فلو ہو سکتا ہے اور زیادہ تر افراد بغیر کسی خاص طبی علاج کے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔


 


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...