سردیوں میں مولی کھانا کیوں فائدہ مند ہے؟

سردیوں میں مولی کھانا کیوں فائدہ مند ہے؟

سردیوں کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی مولی کی مانگ میں واضح اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق روزمرہ غذا میں مولی کو شامل کرنا سردیوں میں صحت مند رہنے کا ایک مؤثر اور قدرتی طریقہ ہے۔ مولی نہ صرف ذائقے میں منفرد ہوتی ہے بلکہ غذائی اجزا سے بھرپور سبزی بھی سمجھی جاتی ہے۔ امریکی تحقیقی ادارے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مولی کا باقاعدہ استعمال خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ اس میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں سوزش کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سردیوں میں نزلہ، زکام اور کھانسی جیسی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔ مولی میں موجود وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور جسم کو موسمی بیماریوں سے بچانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ہاضمے کے مسائل سردیوں میں زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں کیونکہ اس موسم میں چکنائی اور بھاری غذاؤں کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ مولی میں فائبر کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے، آنتوں کی حرکت کو درست رکھتی ہے اور قبض سے نجات دلانے میں مدد دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مولی جگر اور گردوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ سرد موسم میں جسم کا میٹابولزم سست ہو سکتا ہے، ایسے میں مولی قدرتی ڈی ٹاکسیفائر کے طور پر کام کرتی ہے اور جسم سے فاضل اور زہریلے مادوں کے اخراج میں مدد دیتی ہے۔ دل کی صحت کے لیے بھی مولی کو مفید قرار دیا جاتا ہے۔ سردیوں میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں تبدیلی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ مولی خون میں کولیسٹرول کو متوازن رکھنے اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ سردیوں میں کم جسمانی سرگرمی کے باعث وزن بڑھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ مولی کم کیلوریز والی سبزی ہے جو پیٹ بھرنے کا احساس دیتی ہے، اس لیے وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی مولی فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق مولی گلوکوز کے جذب کو کم کرتی ہے اور انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتی ہے، جس سے شوگر لیول متوازن رہتا ہے۔ سرد موسم میں جلد کی خشکی اور بالوں کی کمزوری عام مسئلہ بن جاتی ہے۔ مولی میں وٹامن سی اور پانی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو جلد کو نمی فراہم کرتی ہے اور بالوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ مولی کے بے شمار فوائد کے باوجود اگر کسی شخص کو معدے، گیس یا تیزابیت کی شکایت ہو تو اسے مولی کا استعمال اعتدال میں کرنا چاہیے۔

 سردیوں میں مولی کھانا کیوں فائدہ مند ہے؟

رپورٹ : اقصی بلوچ

سردیوں کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی مولی کی مانگ میں واضح اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق روزمرہ غذا میں مولی کو شامل کرنا سردیوں میں صحت مند رہنے کا ایک مؤثر اور قدرتی طریقہ ہے۔ مولی نہ صرف ذائقے میں منفرد ہوتی ہے بلکہ غذائی اجزا سے بھرپور سبزی بھی سمجھی جاتی ہے۔

امریکی تحقیقی ادارے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مولی کا باقاعدہ استعمال خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ اس میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں سوزش کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سردیوں میں نزلہ، زکام اور کھانسی جیسی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔ مولی میں موجود وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور جسم کو موسمی بیماریوں سے بچانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

ہاضمے کے مسائل سردیوں میں زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں کیونکہ اس موسم میں چکنائی اور بھاری غذاؤں کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ مولی میں فائبر کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے، آنتوں کی حرکت کو درست رکھتی ہے اور قبض سے نجات دلانے میں مدد دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مولی جگر اور گردوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ سرد موسم میں جسم کا میٹابولزم سست ہو سکتا ہے، ایسے میں مولی قدرتی ڈی ٹاکسیفائر کے طور پر کام کرتی ہے اور جسم سے فاضل اور زہریلے مادوں کے اخراج میں مدد دیتی ہے۔

دل کی صحت کے لیے بھی مولی کو مفید قرار دیا جاتا ہے۔ سردیوں میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں تبدیلی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ مولی خون میں کولیسٹرول کو متوازن رکھنے اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔


سردیوں میں کم جسمانی سرگرمی کے باعث وزن بڑھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ مولی کم کیلوریز والی سبزی ہے جو پیٹ بھرنے کا احساس دیتی ہے، اس لیے وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی مولی فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق مولی گلوکوز کے جذب کو کم کرتی ہے اور انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتی ہے، جس سے شوگر لیول متوازن رہتا ہے۔
سرد موسم میں جلد کی خشکی اور بالوں کی کمزوری عام مسئلہ بن جاتی ہے۔ مولی میں وٹامن سی اور پانی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو جلد کو نمی فراہم کرتی ہے اور بالوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ مولی کے بے شمار فوائد کے باوجود اگر کسی شخص کو معدے، گیس یا تیزابیت کی شکایت ہو تو اسے مولی کا استعمال اعتدال میں کرنا چاہیے۔

 


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...