سائنس

2026 کا پہلا سپر مون کب نظر آئے گا؟

2026 کا پہلا سپر مون کب نظر آئے گا؟

سال 2026 کا پہلا سپر مون جلد آسمان پر جلوہ گر ہونے والا ہے۔ فلکیاتی ماہرین کے مطابق جنوری کی تین تاریخ کو پورا چاند طلوع ہوگا جو معمول سے زیادہ بڑا اور روشن دکھائی دے گا۔ یہ سپر مون گزشتہ چند مہینوں کے دوران نظر آنے والے سپر مونز کے سلسلے کا آخری چاند ہوگا، جس کا آغاز اکتوبر 2025 میں ہوا تھا۔ سائنس دانوں کے مطابق سپر مون اس وقت بنتا ہے جب چاند اپنے مدار میں زمین کے نسبتاً زیادہ قریب آ جاتا ہے۔ اس دوران چاند عام دنوں کے مقابلے میں تقریباً 14 فیصد بڑا اور 30 فیصد زیادہ روشن نظر آ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوری کے اس سپر مون کا مکمل ترین مرحلہ ہفتے کی دوپہر تقریباً تین بجے ہوگا، تاہم اس سے ایک رات قبل بھی چاند غیرمعمولی طور پر بڑا اور روشن دکھائی دے گا۔ جنوری کے مکمل چاند کو مختلف روایتی ناموں سے بھی جانا جاتا ہے، جن میں وولف مون، کولڈ مون اور ہارڈ مون شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ نام قدیم روایات سے جڑے ہوئے ہیں، تاہم ان میں سے کئی نام حالیہ برسوں میں زیادہ مقبول ہوئے ہیں۔

 خلا میں ستاروں کی پیدائش گاہ کی دلکش تصویر جاری

 خلا میں ستاروں کی پیدائش گاہ کی دلکش تصویر جاری

اسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی گہرائیوں میں موجود ایک شاندار ستارہ ساز خطے کی نئی اور حیرت انگیز تصویر جاری کر دی ہے، جو خلا کے حسین مناظر کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ تصویر لارج میجلینک کلاؤڈ کے ایک حصے کی ہے، جو زمین سے تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ تصویر میں نظر آنے والا منظر دراصل ایک لاکھ 60 ہزار سال پرانا ہے۔ تصویر میں دکھایا گیا ستارہ ساز علاقہ بے حد وسیع ہے، جہاں ایک سرے سے دوسرے سرے تک فاصلہ تقریباً 150 نوری سال پر محیط ہے۔ اس خطے میں سرخ رنگ کی ٹھنڈی ہائیڈروجن گیس موجود ہے، جو ستاروں کی تشکیل کے لیے بنیادی ایندھن کا کام کرتی ہے۔ کچھ طاقتور اور ناہموار ستاروں نے اپنے اردگرد کے ماحول میں شدید دھماکے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں گیس کے بڑے بڑے بلبلے بن گئے ہیں جو تصویر میں واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ عظیم بادل زمین سے جنوبی نصف کرے میں واقع ڈوراڈو اور مینسا نامی جھرمٹوں کی سمت دیکھا جا سکتا ہے، اور صاف و تاریک آسمان میں اسے ننگی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

گوگل نے رنگ برنگے ڈوڈل کے ساتھ نئے سال کی مبارکباد دی

گوگل نے رنگ برنگے ڈوڈل کے ساتھ نئے سال کی مبارکباد دی

دنیا بھر میں نئے سال 2026 کے استقبال کا جوش عروج پر ہے، اور گوگل نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس موقع پر خصوصی نیو ایئر ڈوڈل جاری کیا ہے۔ یہ ڈوڈل 2025 کے اختتام اور 2026 کے آغاز کی خوشیوں کی علامت ہے۔ ڈوڈل میں 2026 کے ہندسے رنگ برنگے غباروں، خوبصورت سجاوٹ اور کنفیٹی کے ساتھ دکھائے گئے ہیں، جو جشن، امید اور خوشی کا احساس دلاتے ہیں۔ گوگل کا یہ انٹرایکٹو ڈیزائن نہ صرف دیکھنے میں خوشنما ہے بلکہ نئے سال کے پرجوش ماحول کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ یہ خصوصی ڈوڈل دنیا کے مختلف علاقوں میں سرچ انجن کے ہوم پیج پر ظاہر کیا گیا، تاکہ صارفین کو یاد دلایا جا سکے کہ نیا سال شروع ہونے والا ہے۔ گوگل کا یہ تخلیقی ڈوڈل ہر سال کی طرح اس بار بھی نئے سال کی خوشیوں میں اضافہ کرتا نظر آتا ہے۔

ٹیکنالوجی میں بڑی پیش رفت: برطانیہ نے خلا میں فیکٹری قائم کر دی

ٹیکنالوجی میں بڑی پیش رفت: برطانیہ نے خلا میں فیکٹری قائم کر دی

دنیا میں ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اب انسان نے خلا میں بھی صنعتیں لگانا شروع کر دی ہیں۔ برطانیہ نے اس میدان میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے خلا میں باقاعدہ ایک فیکٹری قائم کر دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ کے شہر کارڈف میں قائم کمپنی اسپیس فورج نے مائیکروویو اوون کے سائز کی ایک چھوٹی فیکٹری خلا میں زمین کے گرد مدار میں بھیج دی ہے، جہاں اس نے کام شروع کر دیا ہے۔ کمپنی نے اس خلائی فیکٹری کی بھٹی کو کامیابی سے آن کیا اور ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت حاصل کرنے کا تجربہ بھی مکمل کر لیا ہے۔ اس فیکٹری کا مقصد خلا میں سیمی کنڈکٹرز بنانے کے لیے خاص مواد تیار کرنا ہے، جو بعد میں زمین پر لا کر موبائل فونز، کمپیوٹرز، مواصلاتی نظام، الیکٹرک گاڑیوں اور جدید ٹرانسپورٹ میں استعمال کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق خلا میں سیمی کنڈکٹر بنانے کے حالات زمین کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتے ہیں، کیونکہ وہاں وزن نہ ہونے کی وجہ سے ایٹمز درست ترتیب میں جڑتے ہیں اور خلا کا صاف ویکیوم ماحول آلودگی سے محفوظ رہتا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جوش ویسٹرن کا کہنا ہے کہ خلا میں تیار کیے گئے سیمی کنڈکٹرز زمین پر بننے والوں کے مقابلے میں چار ہزار گنا زیادہ خالص ہو سکتے ہیں۔ یہ سیمی کنڈکٹرز 5G ٹاورز، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجرز اور جدید طیاروں میں استعمال کیے جا سکیں گے۔ اس کامیاب تجربے کے بعد کمپنی اب ایک بڑی خلائی فیکٹری بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جو ایک وقت میں دس ہزار چپس کے لیے سیمی کنڈکٹر مواد تیار کر سکے گی۔ یہ پیش رفت مستقبل میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب ثابت ہو سکتی ہے۔

یورپی یونین میں سوشل میڈیا کے استعمال پر نئی پابندیوں کی تیاری

یورپی یونین میں سوشل میڈیا کے استعمال پر نئی پابندیوں کی تیاری

یورپی یونین سوشل میڈیا، ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال سے متعلق نئے قوانین بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد شہریوں کو غلط معلومات، ذہنی دباؤ، نجی ڈیٹا کے غلط استعمال اور اے آئی کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں پورے یورپ میں سوشل میڈیا اور اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ قرارداد کے مطابق 13 سے 16 سال کے بچے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے کے لیے والدین یا سرپرست کی اجازت کے پابند ہوں گے، جبکہ 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ان پلیٹ فارمز تک رسائی مکمل طور پر بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ نئے قوانین کے تحت ایسے اے آئی سسٹمز پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی جنہیں خطرناک سمجھا جائے گا۔ ان ضابطوں کا مقصد انسانی حقوق، نجی زندگی کے تحفظ، شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ یورپی یونین نے یہ بھی کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور آن ڈیمانڈ میڈیا پلیٹ فارمز کو زیادہ ذمہ دار بنایا جائے گا، خاص طور پر وہ پلیٹ فارمز جو اشتہارات اور اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔

چاند پر رہائش کے لیے بننے والے گھر کیسے ہوں گے؟

چاند پر رہائش کے لیے بننے والے گھر کیسے ہوں گے؟

مستقبل میں چاند اور مریخ پر جانے والے انسانوں کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ سے بننے والے گھروں کے نئے ڈیزائن سامنے آ گئے ہیں۔ یہ ڈیزائن ماہر انجینئرز اور ڈیزائنرز نے ناسا کے ایک خصوصی منصوبے کے تحت تیار کیے ہیں۔ ناسا کے سینٹینیل چیلنج کے تحت ماہرین کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ گہری خلائی مہمات کے لیے ایسے رہائشی ڈھانچے بنائیں جو تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیے جا سکیں۔ یہ چیلنج چار سال تک جاری رہا۔ مقابلے میں پیش کیے گئے گھروں کے ڈیزائن اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ مستقبل میں خلا میں جانے والے انسان کن حالات میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ ان گھروں کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں بہت کم انسانی مدد کے ساتھ خودکار طریقے سے بنایا جا سکے گا۔ ناسا کے مطابق ان گھروں کی تعمیر کے لیے زیادہ تر مقامی وسائل استعمال کیے جائیں گے، جیسے چاند یا مریخ کی مٹی، تاکہ زمین سے سامان لے جانے کی ضرورت کم ہو جائے۔ ناسا کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق خلا میں انسانی موجودگی کے لیے محفوظ رہائش انتہائی ضروری ہے، لیکن خلائی جہازوں میں وزن اور جگہ محدود ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ایسی ٹیکنالوجی پر کام کیا جا رہا ہے جس میں ساتھ لائے گئے مواد کو وہاں موجود وسائل کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جا سکے۔

میٹا نے معروف اے آئی کمپنی Manus خرید لی

میٹا نے معروف اے آئی کمپنی Manus خرید لی

فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی معروف اسٹارٹ اپ کمپنی Manus کو خرید لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد میٹا کے تمام پلیٹ فارمز پر اے آئی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ دو ارب ڈالر سے زائد رقم میں طے پایا ہے۔ اگرچہ حالیہ عرصے میں میٹا کو مالی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، تاہم کمپنی مستقبل میں اے آئی ٹیکنالوجی کو اپنی ترقی کا اہم ذریعہ قرار دے رہی ہے۔ Manus سنگاپور میں قائم ایک اے آئی پلیٹ فارم ہے جس نے رواں سال کے آغاز میں اپنا پہلا عام استعمال کا اے آئی ایجنٹ متعارف کرایا تھا۔ یہ پلیٹ فارم سبسکرپشن کی بنیاد پر خدمات فراہم کرتا ہے جنہیں صارفین تحقیق، کوڈنگ اور دیگر مختلف کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ میٹا کے ایک بیان کے مطابق Manus اس وقت دنیا بھر میں روزانہ لاکھوں صارفین کی ضروریات پوری کر رہا ہے، اور اس ٹیکنالوجی کو میٹا کے پلیٹ فارمز میں شامل کرنے سے صارفین کو مزید جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

 زمین اور مریخ کے درمیان رابطہ عارضی طور پر معطل

 زمین اور مریخ کے درمیان رابطہ عارضی طور پر معطل

زمین اور مریخ کے درمیان ریڈیو رابطہ کچھ دنوں کے لیے معطل ہو گیا ہے۔ یہ کوئی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ خلا میں پیش آنے والا ایک قدرتی عمل ہے، جسے سولر کنجکشن کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دوران سورج زمین اور مریخ کے عین درمیان آ جاتا ہے، جس کے باعث دونوں سیاروں کے درمیان بھیجے جانے والے ریڈیو سگنلز متاثر ہوتے ہیں۔ سورج سے خارج ہونے والی گرم اور برقی چارج شدہ گیسیں، جنہیں پلازما کہا جاتا ہے، سگنلز میں خلل پیدا کر سکتی ہیں۔ ناسا کے مطابق 29 دسمبر 2025 کی رات سے مریخ کے ساتھ رابطہ بند ہو چکا ہے، جو 9 جنوری 2026 تک بحال ہونے کی توقع ہے۔ اس عرصے میں مریخ پر موجود روبوٹک مشنز کو زمین سے کوئی نئی ہدایات ارسال نہیں کی جائیں گی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مرحلے کے دوران معمولی سی سگنل خرابی بھی احکامات کو غلط بنا سکتی ہے، جس سے قیمتی خلائی مشنز کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے تمام مشنز کو عارضی طور پر خودکار نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے، تاکہ وہ بغیر کسی بیرونی ہدایت کے محفوظ انداز میں اپنا معمول کا کام جاری رکھ سکیں۔

زمین کے نچلے مینٹل میں پانی کے وسیع ذخائر کا انکشاف

زمین کے نچلے مینٹل میں پانی کے وسیع ذخائر کا انکشاف

ایک تازہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ زمین کے ابتدائی دور میں اس کے نچلے مینٹل میں پانی کے وسیع ذخائر موجود تھے۔ یہ تحقیق Journal of Science میں شائع ہوئی ہے۔ سائنس دانوں نے جدید لیبارٹری تکنیکوں کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جب زمین ٹھنڈی ہو کر پگھلے ہوئے میگما سے ٹھوس ہوئی تو پانی کا رویہ کیسا رہا ہوگا۔ تحقیق میں برجمینائٹ نامی معدن پر توجہ دی گئی، جو زمین کے نچلے مینٹل میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ برجمینائٹ صرف محدود مقدار میں پانی ذخیرہ کرتا ہے، لیکن حالیہ تحقیق میں یہ دریافت ہوا کہ شدید دباؤ اور درجہ حرارت میں یہ بڑی مقدار میں پانی محفوظ کر سکتا ہے۔ تجربہ گاہ میں زمین کے نچلے مینٹل جیسا دباؤ اور درجہ حرارت (تقریباً 4100 ڈگری سیلسیئس) پیدا کیا گیا، جس میں لیزر ہیٹنگ اور ڈائمنڈ اینول سیل کا استعمال کیا گیا۔ نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے، برجمینائٹ کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ یہ دریافت زمین کے ابتدائی پانی کے ذخائر اور سیارے کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اگر چاند زمین سے ٹکرا جائے تو کیا ہوگا؟

اگر چاند زمین سے ٹکرا جائے تو کیا ہوگا؟

تصور کریں کہ اچانک ایک بہت بڑا چاند زمین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سائنس کے مطابق زمین اور چاند کے ٹکراؤ کا امکان بہت کم ہے کیونکہ چاند ہر سال تقریباً 3.8 سینٹی میٹر کی رفتار سے زمین سے دور جا رہا ہے۔ تاہم اگر کسی وجہ سے چاند زمین کی جانب بڑھ جائے تو نتائج تباہ کن ہوں گے۔ چاند کی کشش سمندروں میں زبردست مد و جزر پیدا کرے گی، ساحلی شہر زیرِ آب آ جائیں گے، زمین کی پرت پر دباؤ بڑھنے سے زلزلے اور آتش فشانی دھماکے رونما ہوں گے، اور موسم شدید طور پر خراب ہو جائیں گے۔ زمین کے قریب پہنچتے ہی چاند ٹوٹنا شروع ہو جائے گا اور ٹکڑے زمین پر شدید نقصان پہنچائیں گے۔ اگر چاند یا اس کے بڑے ٹکڑے زمین سے ٹکرا جائیں تو ہر چیز ختم ہو جائے گی اور زمین شدید تباہی کے مراحل سے گزرے گی۔ یہ سب صرف ایک سائنسی تصور ہے، مگر یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ چاند کا زمین سے محفوظ فاصلے پر رہنا ہماری دنیا کے توازن کے لیے کتنا ضروری ہے۔

چند سیکنڈ میں 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار، چین میں دنیا کی تیز ترین ٹرین کا نیا ریکارڈ

چند سیکنڈ میں 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار، چین میں دنیا کی تیز ترین ٹرین کا نیا ریکارڈ

چین میں ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم ہو گیا ہے، جہاں میگنیٹک لیویٹیشن (میگ لیو) ٹرین نے محض دو سیکنڈ میں 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر لی۔ یہ تجربہ چین کی نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی کے ماہرین نے انجام دیا۔ آزمائشی سفر کے دوران تقریباً ایک ہزار کلوگرام وزن رکھنے والی ٹرین کو انتہائی کم وقت میں اس حیران کن رفتار تک پہنچایا گیا۔ ٹرین نے اس رفتار کے بعد محفوظ طریقے سے خود کو روک لیا، اور اس کے ساتھ ہی یہ دنیا کی تیز ترین سپر کنڈکٹنگ الیکٹرک میگ لیو ٹرین بن گئی۔ میگ لیو ٹرین سپر کنڈکٹنگ میگنیٹس کی مدد سے پٹری سے اوپر معلق رہتی ہے، جس سے رگڑ بالکل ختم ہو جاتی ہے اور غیر معمولی رفتار حاصل کرنا ممکن ہوتا ہے۔ یہ ٹیم گزشتہ دس برس سے اس ٹیکنالوجی پر تحقیق کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ جنوری 2025 میں کیے گئے ایک سابقہ تجربے میں یہ ٹرین 648 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر چکی تھی۔

کویت میں انرجی ڈرنکس کی خریداری کی عمر حد 18 سال مقرر، استعمال کی حد بھی واضح کر دی گئی

کویت میں انرجی ڈرنکس کی خریداری کی عمر حد 18 سال مقرر، استعمال کی حد بھی واضح کر دی گئی

 کویت کی وزارتِ صحت نے انرجی ڈرنکس کی خرید و فروخت کے لیے نئے قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں۔ اب ان مشروبات کی خریداری صرف 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کر سکیں گے۔ نئے قواعد کے مطابق ہر فرد کو روزانہ زیادہ سے زیادہ دو بوتلیں استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، اور ایک بوتل میں زیادہ سے زیادہ 80 ملی گرام کیفین (250 ملی لیٹر) ہو سکتی ہے۔ وزارتِ صحت نے پروڈیوسرز اور درآمد کنندگان پر یہ بھی لازم کر دیا ہے کہ مشروبات کی بوتلوں پر واضح اور نمایاں صحت کے انتباہات درج ہوں۔ مزید کہا گیا ہے کہ اشتہارات اور اسپانسرشپ کے ذریعے انرجی ڈرنکس کی تشہیر پر پابندی ہوگی۔ یہ مشروبات حکومتی و نجی تعلیمی اداروں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی مراکز میں فروخت نہیں کی جا سکیں گی۔ انرجی ڈرنکس صرف کوآپریٹیو ایسوسی ایشنز اور منتخب مارکیٹوں میں مخصوص جگہ پر، اور متعلقہ حکام کی سخت نگرانی میں فروخت کی جا سکیں گی۔ وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نوجوانوں میں ان مشروبات کے استعمال کو محدود کرنے اور صحت پر ان کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

گوگل نے شرمندگی سے بچانے کے لیے ای میل بدلنے کا نیا فیچر جاری کر دیا

گوگل نے شرمندگی سے بچانے کے لیے ای میل بدلنے کا نیا فیچر جاری کر دیا

گوگل نے اپنے صارفین کے لیے ایک ایسا فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کا مطالبہ طویل عرصے سے کیا جا رہا تھا۔ اس نئے فیچر کے ذریعے اب جی میل صارفین اپنا موجودہ ای میل ایڈریس تبدیل کر سکیں گے، جبکہ ان کا پرانا ڈیٹا، ای میلز اور دیگر معلومات محفوظ رہیں گی۔ بہت سے افراد نے کم عمری میں جذبات یا مذاق میں ایسے ای میل ایڈریس بنا لیے تھے جو بعد میں پیشہ ورانہ زندگی میں شرمندگی کا سبب بنتے ہیں۔ گوگل کا یہ نیا فیچر ایسے صارفین کے لیے بڑی سہولت ثابت ہوگا، جو اپنا ای میل ایڈریس تبدیل کرنا چاہتے تھے مگر ڈیٹا ضائع ہونے کے خوف سے ایسا نہیں کر پا رہے تھے۔ گوگل کے اکاؤنٹ ہیلپ پیج کے مطابق اس اپ ڈیٹ کے بعد صارفین کو اپنا ای میل ایڈریس بدلنے کی سہولت دی جا رہی ہے اور اس دوران ان کا تمام ڈیٹا محفوظ رہے گا۔ تاہم اس فیچر سے متعلق مکمل ہدایات فی الحال گوگل کے سپورٹ پیج کے صرف ہندی ورژن پر موجود ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فیچر کا آغاز ابتدائی طور پر بھارت میں کیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ گوگل جلد ہی اس فیچر کو دیگر ممالک کے صارفین کے لیے بھی متعارف کرا دے گا۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ فیچر خاص طور پر طلبہ، نوکری پیشہ افراد اور کاروباری صارفین کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

انسانی دماغ کی میموری کتنی ہوتی ہے؟ حیران کن سائنسی حقیقت

انسانی دماغ کی میموری کتنی ہوتی ہے؟ حیران کن سائنسی حقیقت

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کا دماغ بھی کمپیوٹر کی طرح ہوتا ہے، جس کی ایک حد تک میموری ہوتی ہے اور پھر وہ بھر جاتی ہے۔ لیکن سائنس دانوں کے مطابق انسانی دماغ کی میموری تقریباً لامحدود ہوتی ہے اور یہ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ میں یادداشتیں کمپیوٹر کی فائلوں کی طرح محفوظ نہیں ہوتیں، بلکہ یہ دماغی خلیوں یعنی نیورونز کے ایک جال (نیٹ ورک) میں محفوظ ہوتی ہیں۔ انسانی دماغ میں تقریباً 86 ارب نیورونز موجود ہوتے ہیں، جو مختلف انداز میں آپس میں جُڑ کر یادداشتیں بناتے ہیں۔ جب ہم کچھ نیا سیکھتے ہیں تو دماغ کے کئی خلیے ایک ساتھ متحرک ہو جاتے ہیں۔ ہر یادداشت ایک ہی خلیے میں محفوظ نہیں ہوتی بلکہ نیورونز کے ایک پورے نیٹ ورک میں پھیل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی نیورون کئی مختلف یادداشتوں کا حصہ بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دماغ میں یادداشتیں مختلف حصوں میں محفوظ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو کسی نیلے پھول کی خوشبو یاد ہے تو اس کی رنگت اور خوشبو دماغ کے الگ الگ حصوں سے جڑی ہوتی ہیں، لیکن مل کر ایک ہی یادداشت بناتی ہیں۔ اصل فرق نیورونز کی تعداد نہیں بلکہ ان کے جُڑنے کے انداز میں ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چونکہ نیورونز کے آپس میں جُڑنے کے طریقے بے شمار ہیں، اس لیے دماغ میں یادداشتوں کی گنجائش بھی تقریباً لامحدود ہوتی ہے۔ یعنی انسان جتنا چاہے سیکھ سکتا ہے، دماغ میں جگہ ختم نہیں ہوتی۔ تاہم ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ یادداشت ہمیشہ سو فیصد درست نہیں ہوتی۔ جب ہم کسی پرانی بات کو یاد کرتے ہیں تو دماغ اس یادداشت کو دوبارہ کھولتا ہے، اور اس دوران اس میں معمولی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے ایک ہی واقعہ کو مختلف لوگ مختلف انداز میں یاد کرتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یادداشت کے چھوٹے چھوٹے حصے بدل سکتے ہیں، جبکہ واقعے کا بنیادی حصہ عام طور پر یاد رہتا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات ہمیں لگتا ہے کہ ہماری یاد بالکل درست ہے، لیکن حقیقت کچھ اور ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق انسان کو اپنی یادداشت ختم ہونے کی فکر نہیں کرنی چاہیے، البتہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر یادداشت ہمیشہ مکمل طور پر درست نہیں ہوتی۔

گوادر میں نایاب سمندری بگولا، بارش کا امکان

گوادر میں نایاب سمندری بگولا، بارش کا امکان

گوادر اور اس کے قریبی علاقوں میں ایک نایاب موسمی منظر دیکھا گیا، جہاں سمندر کے اوپر سمندری بگولا (واٹر اسپاؤٹ) بن گیا۔ یہ منظر مغربی کم دباؤ کے سسٹم، جسے ویسٹرن ڈسٹربنس کہا جاتا ہے، کے اثرات کے دوران سامنے آیا جس نے شہریوں اور ماہرینِ موسمیات کی توجہ حاصل کی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی سسٹم کے باعث آئندہ 24 گھنٹوں میں گوادر اور گرد و نواح میں بارش ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے موسم میں فضا میں نمی بڑھ جاتی ہے جس سے اس طرح کے بگولے بن سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لینڈ اسپاؤٹ اور واٹر اسپاؤٹ ایک جیسے گھومتے ہوئے ہوائی ستون ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ واٹر اسپاؤٹ سمندر یا پانی پر بنتا ہے جبکہ لینڈ اسپاؤٹ زمین پر بنتا ہے۔ یہ عام بگولوں کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہیں اور عموماً خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ سابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات سردار سرفراز کے مطابق گوادر میں نظر آنے والا یہ بگولا مغربی بلوچستان میں کم دباؤ کے سسٹم کی وجہ سے بنا۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی پاکستان کے ساحلی علاقوں میں ایسے مناظر دیکھے جا چکے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ یہ بگولے عموماً خطرناک نہیں ہوتے، تاہم سمندر میں موجود چھوٹی کشتیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ماہی گیروں اور کشتی چلانے والوں کو احتیاط برتنے اور ایسے مناظر سے فاصلہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستانی خلا باز چاند کی طرف روانگی کے قریب، تاریخی خلائی منصوبے کا آغاز

پاکستانی خلا باز چاند کی طرف روانگی کے قریب، تاریخی خلائی منصوبے کا آغاز

پاکستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت کی ہے۔ پاکستانی خلا بازوں نے چاند پر چہل قدمی کی تیاری شروع کر دی ہے، جو پاکستان اور چین کے تعاون سے ممکن بنائی جا رہی ہے۔ پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر کمیشن کے مطابق سال 2026 میں پاکستان کا پہلا خلا باز چین کے خلائی اسٹیشن پر بھیجا جائے گا، جہاں وہ مختلف سائنسی تجربات میں حصہ لے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریخی قدم ہوگا اور پاکستان مستقبل میں چاند تک رسائی کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ چین کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت پاکستانی خلا بازوں کو جدید تربیت دی جا رہی ہے۔ جنوری 2025 میں پاکستان کا پہلا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ خلا میں بھیجا گیا، جبکہ جولائی 2025 میں ایک جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ لانچ کیا گیا، جس سے زمینی مشاہدے اور قدرتی وسائل کی نگرانی میں مدد ملی۔ پاکستان نے چاند پر پہنچنے کے لیے روور پروگرام بھی شروع کر دیا ہے اور پاکستان میں تیار کیا گیا روور 2028 میں چین کے تعاون سے چاند پر اتارا جائے گا۔ اکتوبر 2025 میں پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ خلا میں بھیجا گیا، جس کے بعد پاکستان کے فعال سیٹلائٹس کی تعداد سات ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبے پاکستان کو جدید خلائی ممالک کی صف میں شامل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔

ہم بلیک ہول میں رہ رہے ہیں؟ سائنسدانوں کا حیران کن نظریہ

ہم بلیک ہول میں رہ رہے ہیں؟ سائنسدانوں کا حیران کن نظریہ

کچھ ماہرِ طبیعیات کا خیال ہے کہ ہماری پوری کائنات کسی بہت بڑے بلیک ہول کے اندر موجود ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ بات ابھی تک ثابت نہیں ہوئی اور اسے ایک سائنسی نظریہ سمجھا جاتا ہے، جو کچھ مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہے۔ ماہرین کے مطابق بلیک ہول اور کائنات کے درمیان کچھ حیرت انگیز مماثلتیں پائی جاتی ہیں، جن کی بنیاد پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کہیں ہماری کائنات خود بھی کسی بلیک ہول کا حصہ تو نہیں۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ بلیک ہول اور کائنات کی توسیع میں کچھ ریاضیاتی مشابہت پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ مماثلت محض اتفاق نہیں ہو سکتی، بلکہ کسی گہرے سائنسی راز کی طرف اشارہ ہو سکتی ہے۔ اسی طرح بگ بینگ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ کائنات ایک نہایت گرم اور گھنے نقطے سے پھیلنا شروع ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بلیک ہول کے مرکز میں بھی مادہ انتہائی گھنا ہو جاتا ہے۔ اس مشابہت کی وجہ سے بعض سائنسدان یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ ممکن ہے ہماری کائنات کسی بڑے بلیک ہول کے اندر وجود میں آئی ہو۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہم کائنات کو ایک خاص حد سے آگے نہیں دیکھ سکتے۔ کچھ سائنسدان اس حد کو بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن سے تشبیہ دیتے ہیں، جہاں سے آگے کی معلومات ہم تک نہیں پہنچ پاتیں۔ اس کے علاوہ کششِ ثقل اور کوانٹم طبیعیات کے بارے میں ہماری سمجھ ابھی مکمل نہیں ہے۔ اسی کمی کی وجہ سے مختلف نئے اور حیران کن نظریات سامنے آتے رہتے ہیں، جن میں یہ تصور بھی شامل ہے کہ ہم بلیک ہول کے اندر رہ رہے ہوں۔ ماہرین کے مطابق یہ نظریہ دلچسپ ضرور ہے، مگر فی الحال اسے سائنسی تحقیق کا ایک خیال سمجھا جاتا ہے، جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

دماغی سگنلز سے چلنے والے مصنوعی ہاتھ، پاکستانی انجینیئر کی بڑی کامیابی

دماغی سگنلز سے چلنے والے مصنوعی ہاتھ، پاکستانی انجینیئر کی بڑی کامیابی

پاکستانی انجینیئر اسامہ خان اور ان کی ٹیم نے ہاتھوں سے محروم افراد کے لیے ایسے جدید مصنوعی ہاتھ تیار کیے ہیں جو دماغی سگنلز کے ذریعے حرکت کرتے ہیں۔ یہ ایجاد معذور افراد کے لیے ایک نئی امید بن کر سامنے آئی ہے۔ اسامہ خان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 10 لاکھ افراد ایسے ہیں جو ہاتھ یا پاؤں سے محروم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ان کی ٹیم اب تک 100 سے زائد افراد کو یہ مصنوعی ہاتھ فراہم کر چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرونِ ملک اس نوعیت کے مصنوعی ہاتھوں کی قیمت تقریباً 50 لاکھ روپے تک ہوتی ہے، جبکہ مقامی سطح پر 90 فیصد پاکستانی مٹیریل استعمال کرتے ہوئے ان کی قیمت صرف 5 لاکھ روپے رکھی گئی ہے، تاکہ یہ سہولت عام افراد کی پہنچ میں ہو۔ انجینیئر اسامہ خان کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعی ہاتھ نہ صرف حادثات میں ہاتھ کھونے والوں کے لیے موزوں ہیں بلکہ پیدائشی طور پر ہاتھوں سے محروم افراد بھی انہیں استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان مصنوعی ہاتھوں کی مدد سے کمپیوٹر پر ٹائپنگ، قلم پکڑ کر لکھنا، موٹر سائیکل چلانا اور روزمرہ کے کئی کام ممکن ہو گئے ہیں۔ ان ہاتھوں سے جم میں 5 کلو تک وزن اٹھایا جا سکتا ہے اور یہاں تک کہ کرکٹ کھیلنا بھی ممکن ہے۔ اسامہ خان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پاکستان میں تیار کی گئی ہے اور اس شعبے میں پاکستان نے نمایاں پیش رفت کی ہے، جو ملکی انجینیئرز کی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ یہ ایجاد نہ صرف پاکستانی ٹیکنالوجی کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ ہزاروں معذور افراد کے لیے ایک بہتر اور خودمختار زندگی کی امید بھی ہے۔

ایک ننھا کیڑا، ایک بڑا راز: کاکروچ کی انوکھی کہانی

ایک ننھا کیڑا، ایک بڑا راز: کاکروچ کی انوکھی کہانی

ایک لڑکی نے اچانک اسے دیکھا اور چیخ اٹھی، جیسے لمحے بھر میں خوف اور حیرت نے اسے گھیر لیا ہو۔لیکن اس لڑکی نے دیکھا کیا ؟ایک  چھوٹا سا کیڑا۔۔۔ جو رات کے اندھیرے میں چپکے سے حرکت کرتا ہے، ہر کونے میں چھپنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور  اپنی موجودگی کا احساس دلا دیتا ہے۔ یہ محض ایک عام کیڑا نہیں، بلکہ ایک ہوشیار اور حیرت انگیز مخلوق ہے، جس کی تیز رفتاری اور چھپنے کی عادات دیکھ کر کوئی بھی ششدر رہ جائے۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں کاکروچ کی!   جسے اکثر   کوکروچ یا Roach  بھی کہاجاتا ہے۔کوکروچ، دنیا کے سب سے عام اور پرانے کیڑوں میں سے ایک ہے،  جو تقریباً ہر ملک اور ہر قسم کے ماحول میں پایا جاتا ہے۔ کوکروچ  گھروں، باورچی خانوں، باتھ رومز اور گندگی والے مقامات میں رہنا پسند کرتے ہیں، یہ  زیادہ تر رات کے وقت ظاہر  ہوتے ہیں۔ کوکروچ   اپنی حیرت انگیز بقا اور تیزی کے باعث   انسانوں کے لیے نہ صرف ناپسندیدہ بلکہ بعض اوقات خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ تاریخی پس منظر ، ارتقااور  جسمانی خصوصیات کوکروچ کی تاریخ کروڑوں سال پرانی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ زمین پر  ڈائناسور اور انسانوں سے بھی پہلے موجود تھے۔ ابتدائی دور میں ان کے جسم کے حصے اور ساخت موجودہ دور کے مقابلے میں مختلف تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ماحول کی تبدیلیوں اور خوراک کے حصول کے لیے ان کی جسمانی ساخت میں تبدیلی آئی، جیسے کہ اب  کوکروچ کا جسم لمبا، ہلکا،سخت اور  چھوٹے پروں کا آنا  جو  انہیں محدود پرواز کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ اکثر صرف دوڑنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ کوکروچ عام طور پر  بھوری یا کالی رنگت رکھتے ہیں۔ کچھ اقسام زیادہ نقصان دہ نہیں ہوتیں، مگر سب کا مقصد اپنی بقا اور خوراک کی تلاش ہے۔حیرت انگیز  بات  ہے کہ کوکروچ  کئی دن یا ہفتے بغیر کھانے کے زندہ رہ سکتے ہیں، اور بہت تیزی سے حرکت کر سکتے ہیں، جو انہیں شکار اور خطرات سے بچنے میں مدد دیتی ہے۔   رہائش اور طرزِ زندگی کوکروچ اکثر انسانوں کے آس پاس پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہاں ان کے لیے خوراک اور پانی آسانی سے دستیاب ہوتا ہے۔ یہ گھروں کے کچرے، باورچی خانوں، باتھ رومز اور نمی والے مقامات میں چھپ کر رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کی خوراک میں روٹی، گوشت کے ٹکڑے، سبزیاں، اور گندگی شامل ہوتی ہے، اس لیے صفائی نہ رکھنے والے گھر ان کے لیے بہترین رہائش بن جاتے ہیں۔  صحت پر اثرات کوکروچ صرف ناپسندیدہ ہی نہیں بلکہ  صحت کے لیے خطرناک  بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ مختلف بیکٹیریا اور جراثیم پھیلاتے ہیں، جن میں  Salmonella  اور  E. coli  شامل ہیں، جو غذائی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ الرجی یا دمہ کے شکار افراد کے لیے کوکروچ خاص طور پر خطرناک ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کے بال، فضلہ اور باقیات سانس کے ذریعے الرجی یا سانس کی بیماریوں کو بڑھا سکتے ہیں۔ کنٹرول اور بچاؤ:  کوکروچ سے بچاؤ کے لیے سب سے مؤثر طریقہ صفائی اور صحت مند ماحول برقرار رکھنا ہے۔ گھروں میں کچرا ڈھک کر رکھنا، پانی کے رساؤ کو روکنا اور باورچی خانہ صاف رکھنا ضروری ہے۔ کیڑے مار ادویات، ٹریپس اور قدرتی طریقے جیسے بیکنگ سوڈا  یا  بورک ایسڈ بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ گھر کے دراڑیں اور خالی جگہیں بند کرنا بھی کوکروچ کے داخلے کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔  کوکروچ کے ہونے کے دلچسپ فوائد اگرچہ کوکروچ اکثر ہمارے لیے پریشانی کا سبب بنتے ہیں، لیکن یہ فطرت میں اپنی جگہ پر بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں: 1. قدرتی صفائی کرنے والے: یہ مردہ پودوں، خوراک کے چھوٹے باقیات اور نامیاتی فضلے کو کھا کر ماحول کو صاف رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جیسے چھوٹے چھوٹے صفائی والے۔ 2. خوراک کا ذریعہ:کئی پرندے، چھوٹے جانور اور دوسرے کیڑے ان پر انحصار کرتے ہیں، یعنی یہ فطرت کے خوراک کے سلسلے کا حصہ ہیں۔ 3. سائنس اور تحقیق کے لیے مفید: کوکروچ کی بقا کی صلاحیت، تیز حرکت اور جسمانی خصوصیات سائنسدانوں کے لیے تحقیق کا دلچسپ موضوع ہیں۔ یہ ہمیں حیاتیات، ارتقا اور فطرت کے حیرت انگیز نظام کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ 4. دوائی اور تحقیق میں کردار: ان کے جسم میں موجود انزائم اور بیکٹیریا کچھ نئے تجربات اور دوائیوں کی دریافت میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

فرسٹ ایڈ نہ ملے تو چوٹ کے لیے یہ آسان گھریلو ٹوٹکا مددگار ثابت ہو سکتا ہے

فرسٹ ایڈ نہ ملے تو چوٹ کے لیے یہ آسان گھریلو ٹوٹکا مددگار ثابت ہو سکتا ہے

جسم کے کسی بھی حصے پر کسی بھی وقت چوٹ یا زخم لگ سکتا ہے، چاہے انسان کھیل کے دوران ہو یا روزمرہ کے کام انجام دے رہا ہو۔ ایسے مواقع پر بعض اوقات فوری طور پر فرسٹ ایڈ یا مرہم دستیاب نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے تکلیف بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق چوٹ لگنے کی صورت میں سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ صاف کپڑے کی مدد سے خون کو روکا جائے، پھر زخم کو صاف پانی سے اچھی طرح دھو کر اس میں موجود مٹی یا گندگی کو نکالا جائے، اور اگر ممکن ہو تو جراثیم کش دوا استعمال کی جائے اور بعد ازاں ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔ تاہم بعض حالات میں جب فوری طور پر کوئی دوا یا کریم دستیاب نہ ہو تو گھریلو سطح پر ایک سادہ سا روایتی نسخہ عارضی طور پر مدد فراہم کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق زخم کو صاف پانی سے دھونے کے بعد اس پر چند قطرے خالص شہد لگائے جائیں اور اس کے بعد تھوڑی سی مقدار میں دیسی گھی لگاکر چھوڑ دیا جائے۔ روایتی طور پر شہد کو قدرتی جراثیم کش خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے جبکہ دیسی گھی جلد کو نرم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے وقتی طور پر جلن اور تکلیف میں کمی محسوس ہو سکتی ہے۔ ماہرین واضح کرتے ہیں کہ یہ گھریلو ٹوٹکا صرف ہلکی نوعیت کی چوٹ یا زخم کے لیے عارضی مدد کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ گہرے، زیادہ خون بہنے والے یا انفیکشن کے خطرے والے زخم کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر یا قریبی طبی مرکز سے رجوع کرنا نہایت ضروری ہے۔ صحت کے مسائل میں احتیاط اور بروقت طبی مشورہ ہی بہترین حل ہے۔