سڑکیں، تارکول اور بڑھتی گرمی: کیا ہم خود اپنا موسم بدل رہے ہیں؟
ماہرین کے مطابق سیاہ تارکول کی سڑکیں سورج کی حرارت جذب کرکے دن اور رات کے درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں، جس سے شہری علاقوں میں "اربن ہیٹ آئی لینڈ" کا اثر بڑھتا ہے۔ تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ ہلکے رنگ کی سڑکیں، گرین بیلٹس اور جدید عکاس مواد استعمال کرکے بڑھتی گرمی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ترقی کی علامت سمجھی جانے والی سڑکیں آج ایک نئے سوال کو جنم دے رہی ہیں: کیا یہ سڑکیں، خاص طور پر تارکول سے بنی ہوئی، ہمارے ماحول کو مزید گرم کر رہی ہیں؟
یہ سوال اب صرف ایک رائے نہیں بلکہ سائنسی تحقیق کا موضوع بن چکا ہے۔
سیاہ سڑکیں اور سورج کی حرارت
دنیا بھر میں زیادہ تر سڑکیں تارکول (Asphalt) سے بنتی ہیں، جو گہرے سیاہ رنگ کا ہوتا ہے۔ سائنسی طور پر سیاہ رنگ روشنی کو جذب کرتا ہے جبکہ ہلکے رنگ اسے واپس منعکس کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے تارکول کی سڑکیں سورج کی حرارت کو بڑی مقدار میں جذب کر لیتی ہیں اور ان کا درجہ حرارت اردگرد کے ماحول سے کئی گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔ بعض تحقیقات کے مطابق شدید گرمی میں اسفالٹ کی سطح کا درجہ حرارت 60 سے 70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
یہی جذب شدہ حرارت بعد میں ماحول میں خارج ہوتی ہے، جس سے نہ صرف دن بلکہ رات کا درجہ حرارت بھی بڑھ جاتا ہے۔
کیا تارکول واقعی گرمی میں اضافہ کرتا ہے؟
جی ہاں، تارکول براہ راست اور بالواسطہ دونوں طریقوں سے گرمی میں اضافہ کرتا ہے:
یہ سورج کی توانائی کو جذب کرتا ہے (Heat Absorption)
یہ حرارت کو ذخیرہ کرتا ہے (Heat Storage)
یہ رات کو حرارت واپس خارج کرتا ہے (Heat Release)
اس پورے عمل کی وجہ سے شہر "ہیٹ ٹریپ" بن جاتے ہیں، جسے "اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ" کہا جاتا ہے۔
کیا دنیا میں مختلف رنگوں کی سڑکیں بھی ہیں؟
جی ہاں، دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک اس مسئلے کا حل تلاش کر رہے ہیں اور انہوں نے مختلف رنگوں اور جدید مواد پر مبنی سڑکوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں "Cool Pavement Program" کے تحت سڑکوں کو ہلکے سرمئی یا سفید رنگ سے کوٹ کیا جا رہا ہے تاکہ سورج کی روشنی کو واپس منعکس کیا جا سکے۔
اسی طرح یورپ کے کچھ ممالک میں ہلکے رنگ کے کنکریٹ (Concrete Roads) استعمال کیے جا رہے ہیں، جو تارکول کے مقابلے میں کم گرمی جذب کرتے ہیں۔
جاپان میں بھی تجرباتی بنیادوں پر ایسے مواد استعمال کیے جا رہے ہیں جو نہ صرف روشنی کو منعکس کرتے ہیں بلکہ سڑک کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
متبادل کیا ہو سکتے ہیں؟
اگر ہم واقعی گرمی کے مسئلے کو کم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سڑکوں کے روایتی نظام میں تبدیلی لانا ہوگی۔ چند اہم متبادل یہ ہیں:
1. کول پیومنٹ (Cool Pavement)
یہ خاص قسم کی سڑکیں یا کوٹنگ ہوتی ہیں جو سورج کی روشنی کو زیادہ منعکس کرتی ہیں اور کم حرارت جذب کرتی ہیں۔
2. کنکریٹ سڑکیں (Concrete Roads)
یہ ہلکے رنگ کی ہوتی ہیں اور اسفالٹ کے مقابلے میں کم گرم ہوتی ہیں، اگرچہ ان کی لاگت زیادہ ہوتی ہے۔
3. گرین روڈز (Green Roads)
سڑکوں کے ساتھ درخت لگانا، گرین بیلٹس بنانا اور قدرتی سایہ فراہم کرنا گرمی کو کم کرنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
4. جدید مواد (Reflective Materials)
ایسے نئے میٹریلز تیار کیے جا رہے ہیں جو سورج کی شعاعوں کو واپس خلا میں بھیج دیتے ہیں۔
بلوچستان کے لیے کیا سبق ہے؟
بلوچستان جیسے گرم اور خشک خطے میں یہ مسئلہ مزید اہم ہو جاتا ہے۔ اگر یہاں بھی روایتی سیاہ تارکول کی سڑکیں بغیر کسی منصوبہ بندی کے بنتی رہیں تو آنے والے سالوں میں گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ:
نئی سڑکوں کے ساتھ درخت لگانے کو لازمی قرار دیا جائے
شہروں میں گرین ایریاز بڑھائے جائیں
جہاں ممکن ہو ہلکے رنگ کے مواد استعمال کیے جائیں
نتیجہ
سڑکیں ترقی کے لیے ضروری ہیں، لیکن اگر یہی ترقی ہمارے ماحول کو نقصان پہنچانے لگے تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔
سوال یہ نہیں کہ ہم سڑکیں بنائیں یا نہ بنائیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم کیسی سڑکیں بناتے ہیں۔
اگر ہم نے آج دانشمندانہ فیصلے نہ کیے تو کل کی دنیا زیادہ گرم، زیادہ مشکل اور شاید زیادہ غیر محفوظ ہو گی
.jpeg)
Keywords : Urban Heat Island, Asphalt roads, Climate change, Cool Pavement