قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی چنائی زور و شور سے جاری ہے اور روزانہ بڑی مقدار میں تازہ پھل ملک کی مختلف منڈیوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ ماہرین نے کولڈ اسٹوریج اور جدید زرعی سہولیات کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آڑو کے ضیاع میں کمی اور کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہوگا۔
قلات: بلوچستان کے ضلع قلات کا خوش ذائقہ آڑو ان دنوں اپنی فصل کے عروج پر ہے، جہاں باغات میں چنائی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور روزانہ بڑی مقدار میں تازہ آڑو ملک کے مختلف شہروں کی منڈیوں میں بھیجا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق قلات کی معتدل آب و ہوا آڑو کو منفرد ذائقہ، مٹھاس اور رسیلا پن عطا کرتی ہے، جس کے باعث یہ پھل پورے ملک میں خاص شہرت رکھتا ہے۔ آڑو وٹامنز، منرلز، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہونے کے باعث صحت بخش غذا کا اہم حصہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔
جولائی کے مہینے میں آڑو کی فصل اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ ان دنوں مقامی زمیندار اور مزدور باغات میں پکے ہوئے آڑو احتیاط سے توڑ کر معیاری کارٹنوں میں پیک کر رہے ہیں، جنہیں روزانہ ٹرکوں کے ذریعے کراچی، کوئٹہ اور ملک کی دیگر بڑی منڈیوں تک پہنچایا جا رہا ہے، جہاں قلات کے آڑو کی مانگ برقرار ہے۔
زراعت سے وابستہ ماہرین اور کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ قلات کا آڑو صرف ایک موسمی پھل نہیں بلکہ مقامی معیشت کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ اس کی کاشت، چنائی، پیکنگ اور ترسیل سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے جبکہ متعدد خاندانوں کی آمدنی کا انحصار بھی اسی فصل پر ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کولڈ اسٹوریج، جدید زرعی سہولیات اور بہتر ترسیلی نظام فراہم کیا جائے تو آڑو کے ضیاع میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، جس سے کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ اور مقامی معیشت کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔

Keywords : Kalat Peaches, Balochistan Agriculture, Fruit Harvest, Local Economy