صوبائی کابینہ کے اہم فیصلے، بلدیاتی نظام، صحت، امن و امان اور گورننس میں اصلاحات کی منظوری
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں بلدیاتی انتخابات، مقامی حکومتوں کے نظام، صحت، قانون و انصاف اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے نئے پولیس اسٹیشنز، نرسنگ گریجویٹس کے وظیفے، رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ میں ترامیم اور متعدد انتظامی
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بلدیاتی نظام، گورننس، قانون و انصاف، صحت اور ترقیاتی امور سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے بلدیاتی اداروں کی آئینی مدت مکمل ہونے پر 8 فروری 2027 کو ان کی تحلیل کی منظوری دی اور فیصلہ کیا کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات کوئٹہ سمیت پورے صوبے میں ایک ہی مرحلے میں منعقد کیے جائیں گے۔ بلدیاتی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ضلع بارکھان میں ڈیرہ کھیتران اور برشور میں نئی میونسپل کمیٹیوں کے قیام جبکہ خاران میونسپل کمیٹی کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دینے کی منظوری بھی دی گئی۔
کابینہ نے بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن ایکٹ 2021 میں ترامیم، منشیات سے متعلق مقدمات کے فوری ٹرائل کے لیے عدالتی اختیارات میں توسیع، اور بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ رولز 2026 کی منظوری دی۔
اجلاس میں بلوچستان سیکرٹریٹ ایمپلائز کوآپریٹو سوسائٹی کے قیام، محکمہ اقلیتی امور کا نام تبدیل کرکے ’’انٹر فیتھ ہارمونی ڈیپارٹمنٹ‘‘ رکھنے، اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی واش (WASH) پالیسی کی منظوری بھی دی گئی۔
صحت کے شعبے میں غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کو صوبائی ٹیکسوں سے استثنیٰ دینے اور نرسنگ گریجویٹ ٹرینیز کے لیے 28 ہزار 70 روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔
امن و امان کی بہتری کے لیے حب اور ڈام میں نئے پولیس اسٹیشنز جبکہ دالبندین میں ویمن پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت عوامی خدمت، شفاف طرز حکمرانی، ادارہ جاتی اصلاحات اور پائیدار ترقی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور کابینہ کے فیصلے عوامی خدمات اور ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

Keywords : Balochistan Cabinet, Local Government Reforms, Public sector development, Governance and Public Services