زیارت: سرکاری اسکولوں اور پولیس اسٹیشنوں کو شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کرنے کی ہدایت
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر ضلع زیارت میں تین سرکاری اسکولوں اور چار پولیس اسٹیشنوں کے نام شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کرنے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ناموں کی تبدیلی کا کیس مجاز اتھارٹی سے منظوری کے لیے فوری طور پر پیش کیا جائے۔
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر ضلع زیارت میں شہدائے پولیس کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مزید سرکاری اداروں کو ان کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری اسکولوں اور پولیس اسٹیشنوں کے نام تبدیل کرنے کی تجاویز پر منظوری کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے پرنسپل سیکریٹری عمران زرکون کی جانب سے جاری علیحدہ علیحدہ مراسلوں میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ متعلقہ اداروں کے ناموں کی تبدیلی کا کیس مجاز اتھارٹی سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔
مراسلوں کے مطابق گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کان ڈیپو کا نام "شہید کانسٹیبل مصطفیٰ خان گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کان ڈیپو، زیارت"، گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کان ڈیپو کا نام "شہید کانسٹیبل محمد آصف گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کان ڈیپو، زیارت" جبکہ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کاوس غربی کا نام "شہید کانسٹیبل محمد عثمان گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کاوس غربی، زیارت" رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح پولیس اسٹیشن سرمکسی کا نام "شہید حسرت اللہ کاکڑ پولیس اسٹیشن"، پولیس اسٹیشن دوسرکہ شابوزئی کا نام "شہید جنداد خان پولیس اسٹیشن"، پولیس اسٹیشن منگی کا نام "شہید زین اللہ پانیزئی پولیس اسٹیشن" اور پولیس اسٹیشن زندرہ کا نام "شہید میجر زمان پانیزئی پولیس اسٹیشن" رکھنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
مراسلوں میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ناموں کی تبدیلی سے متعلق سمریاں مجاز اتھارٹی سے منظوری کے لیے فوری طور پر پیش کی جائیں۔
حکومت بلوچستان کے مطابق یہ اقدام زیارت کے شہدائے پولیس کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے، ان کی خدمات کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنانے اور نئی نسل کو ان کی قربانیوں سے روشناس کرانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

Keywords : Ziarat, Police Martyrs, Government Schools, Police Stations