وزیراعلیٰ بلوچستان کا حقوق کے لیے جدوجہد کا عزم، میڈیا دفاتر کی بندش اور بجٹ کٹوتیوں کی مخالفت

وزیراعلیٰ بلوچستان کا حقوق کے لیے جدوجہد کا عزم، میڈیا دفاتر کی بندش اور بجٹ کٹوتیوں کی مخالفت

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور میڈیا بیورو دفاتر کی بندش کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے وفاقی بجٹ کٹوتیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے صحافیوں کے ساتھ یکجہتی اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی ہے۔

 

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے حقوق کے لیے منظم اور پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے میڈیا بیورو دفاتر کی بندش کی مخالفت کرتے ہوئے برطرف صحافیوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وفاق کی مجوزہ مالی کٹوتیاں منظور ہو جاتیں تو صوبے کا بجٹ صرف 9 ارب روپے رہ جاتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مالی حصے کے تحفظ کے لیے کوششیں کی ہیں اور اسحاق ڈار اور بلاول بھٹو زرداری کے تعاون کو سراہا۔

وزیراعلیٰ نے نجی میڈیا اداروں کی جانب سے بیورو دفاتر بند کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صحافی پہلے ہی مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں اور انہیں مختلف خطرات اور دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق ان دفاتر کی بندش سے بلوچستان کی آواز کمزور اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کم از کم وفاق تک ضرور پہنچنے چاہئیں۔ وزیراعلیٰ نے میڈیا مالکان سے سوال کیا کہ آیا وہ قومی ادارے ہیں یا صرف کاروباری ادارے، جبکہ کم تنخواہوں اور دفاتر بند کرنے پر بھی تنقید کی۔

انہوں نے وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ اور محسن نقوی سے اپیل کی کہ بلوچستان میں میڈیا دفاتر کی بندش نہ ہونے دی جائے اور کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ صحافیوں کے ساتھ اسلام آباد جا کر احتجاج کریں گے۔

دوسری جانب بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے) نے اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے دفاتر کی بندش اور برطرفیوں کے خلاف اسمبلی کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرے میں بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی اور دفاتر بندش کے خلاف نعرے لگائے۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ کی ہدایت پر حکومتی وفد نے مذاکرات کیے اور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد بی یو جے نے احتجاج اور بائیکاٹ ختم کر دیا اور اجلاس کی کوریج دوبارہ شروع ہو گئی۔

یہ صورتحال بلوچستان میں آزادی صحافت، روزگار اور میڈیا نمائندگی سے متعلق بڑھتے خدشات کو ظاہر کرتی ہے۔

Keywords : Balochistan Budget, Media Closures, Press Freedom, Mir Sarfraz Bugti

Related News

آئی ایس پی آر سمر کیمپ 2026، وزیراعلیٰ بلوچستان کا نوجوانوں سے خطاب
آئی ایس پی آر سمر کیمپ 2026، وزیراعلیٰ بلوچستان کا نوجوانوں سے خطاب
آئی ایس پی آر کے زیرِ اہتمام سمر کیمپ 2026 میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 4 ہزار سے زائد طلبہ و طال...
کچ مانگی کے ریونیو اور اراضی مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل
کچ مانگی کے ریونیو اور اراضی مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر کچ مانگی کے ریونیو اور اراضی کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم...
زیارت: سرکاری اسکولوں اور پولیس اسٹیشنوں کو شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کرنے کی ہدایت
زیارت: سرکاری اسکولوں اور پولیس اسٹیشنوں کو شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کرنے کی ہدایت
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر ضلع زیارت میں تین سرکاری اسکولوں اور چار پولیس اسٹیشنوں کے نام شہدائے پولیس کے...
پولیس شہداء کے معاوضوں میں اضافے کی تجویز، وزیراعلیٰ بلوچستان نے منظوری کے لیے سمری طلب کر لی
پولیس شہداء کے معاوضوں میں اضافے کی تجویز، وزیراعلیٰ بلوچستان نے منظوری کے لیے سمری طلب کر لی
وزیراعلیٰ بلوچستان نے پولیس شہداء کے نقد معاوضے اور پلاٹ یا اراضی کے بدلے نقد ادائیگی کی شرحوں میں اضافے کی تج...
ڈیجیٹل کمپلینٹ پورٹل کے ذریعے عوامی شکایات پر فوری کارروائیاں، حکومت بلوچستان متحرک
ڈیجیٹل کمپلینٹ پورٹل کے ذریعے عوامی شکایات پر فوری کارروائیاں، حکومت بلوچستان متحرک
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت ڈیجیٹل کمپلینٹ پورٹل پر موصول ہونے والی شکایات پر متعلقہ محکم...
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ویمن انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام کی کامیاب تکمیل پر خواتین کو مبارکباد
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ویمن انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام کی کامیاب تکمیل پر خواتین کو مبارکباد
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ویمن انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیابی پر خواتین کو مبارکبا...