بچوں سے مشقت کے خاتمے کا عزم، بلوچستان میں 400 سے زائد مزدور بچوں کو تعلیمی اداروں میں اسکالرشپس
بلوچستان حکومت نے بچوں سے مشقت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے 400 سے زائد مزدور بچوں کو اسکالرشپس پر تعلیمی اداروں میں داخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بچوں کو تعلیم اور تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر حکومت بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبے کے ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق بچوں کی مزدوری ان کے خوابوں، صحت اور مستقبل کے ساتھ سمجھوتہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
اس موقع پر بتایا گیا کہ بلوچستان کے 400 سے زائد مزدور بچوں کو اسکالرشپس کے تحت ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم کے لیے بھیجا جا رہا ہے تاکہ انہیں استحصال سے نکال کر باوقار مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بچوں کو مزدوری کے بجائے تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ایک خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے والدین، اساتذہ اور سماجی اداروں پر زور دیا کہ وہ بچوں کے استحصال کے خاتمے کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کا تحفظ اور فلاح و بہبود پوری معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور ہر بچے کو محفوظ و سازگار ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ وہ اپنے خواب پورے کر سکیں۔
.jpeg)
Keywords : Child Labour, Balochistan, Education Scholarships, Sarfraz Bugti