بلوچستان: پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس کا مائننگ سیکٹر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

بلوچستان: پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس کا مائننگ سیکٹر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

کوئٹہ: پاکستان کے پانچ بڑے کاروباری گروپس نے بلوچستان کے معدنی شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مؤثر کاوشوں کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاری کا اعلان کرنے والے گروپس میں لیک سٹی ہولڈنگز، فاطمہ گروپ، دین گروپ، ہلٹن گروپ اور سورتی گروپ شامل ہیں۔ یہ تمام گروپس اس تاریخی اور دور رس سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ ان گروپس کی مجموعی مارکیٹ ویلیو تقریباً پانچ ارب ڈالر بتائی جاتی ہے اور یہ بلوچستان کے مائننگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ اہم پیش رفت ماری انرجیز کی ذیلی کمپنی ماری منرلز اور گلوبا کور منرلز کے درمیان بلوچستان میں معدنی تلاش کے لیے طے پانے والے جوائنٹ وینچر معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جوائنٹ وینچر معاہدے کے تحت گلوبا کور منرلز لمیٹڈ بلوچستان کے معدنی شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد بلوچستان کے ضلع چاغی میں قیمتی معدنیات خصوصاً سونا اور تانبا کی تلاش اور ترقی ہے۔ اس حوالے سے سابق وفاقی وزیر اور معروف صنعتکار گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ معدنی وسائل کی ترقی کے آغاز سے ملک میں امن، ترقی اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، جو قومی معیشت کے لیے ایک مثبت اور خوش آئند قدم ثابت ہوں گے۔

بلوچستان: پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس کا مائننگ سیکٹر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

رپورٹ : محمد خان کاکڑ

کوئٹہ: پاکستان کے پانچ بڑے کاروباری گروپس نے بلوچستان کے معدنی شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مؤثر کاوشوں کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔

سرمایہ کاری کا اعلان کرنے والے گروپس میں لیک سٹی ہولڈنگز، فاطمہ گروپ، دین گروپ، ہلٹن گروپ اور سورتی گروپ شامل ہیں۔ یہ تمام گروپس اس تاریخی اور دور رس سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ ان گروپس کی مجموعی مارکیٹ ویلیو تقریباً پانچ ارب ڈالر بتائی جاتی ہے اور یہ بلوچستان کے مائننگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں۔

یہ اہم پیش رفت ماری انرجیز کی ذیلی کمپنی ماری منرلز اور گلوبا کور منرلز کے درمیان بلوچستان میں معدنی تلاش کے لیے طے پانے والے جوائنٹ وینچر معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے۔

جوائنٹ وینچر معاہدے کے تحت گلوبا کور منرلز لمیٹڈ بلوچستان کے معدنی شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد بلوچستان کے ضلع چاغی میں قیمتی معدنیات خصوصاً سونا اور تانبا کی تلاش اور ترقی ہے۔

اس حوالے سے سابق وفاقی وزیر اور معروف صنعتکار گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ معدنی وسائل کی ترقی کے آغاز سے ملک میں امن، ترقی اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، جو قومی معیشت کے لیے ایک مثبت اور خوش آئند قدم ثابت ہوں گے۔


Related News

گوادر پورٹ پر بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ سرگرمیاں جاری
گوادر پورٹ پر بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ سرگرمیاں جاری
علاقائی بحری کشیدگی کے باوجود گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں، جہاں بنگلہ دیشی پرچم بردار جہاز سنگاپور...
گورنر بلوچستان نے "وون اِٹ" ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ پلیٹ فارم کا خیرمقدم کر دیا
گورنر بلوچستان نے "وون اِٹ" ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ پلیٹ فارم کا خیرمقدم کر دیا
گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ "وون اِٹ" پلیٹ فارم نوجوان کاروباری افراد کو جدید کاروباری مواقع...
پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں نمایاں پیش رفت
پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں نمایاں پیش رفت
واشنگٹن میں پاکستان اور امریکا کے درمیان مجوزہ باہمی تجارتی معاہدے پر دو روزہ مذاکرات میں ٹیرف، تجارت، سرمایہ...
پاک ایران سرحدی حکام کا اہم اجلاس، بارڈر ٹریڈ اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
پاک ایران سرحدی حکام کا اہم اجلاس، بارڈر ٹریڈ اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
پاک ایران راہداری گیٹ پر دونوں ممالک کے سرحدی حکام نے بارڈر ٹریڈ، زائرین کی آمدورفت، سیکیورٹی اور اسمگلنگ کی ر...
بلوچستان میں پہلی بار "بلوچستان انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ایکسپو 2026" اگلے ماہ منعقد ہوگی
بلوچستان میں پہلی بار "بلوچستان انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ایکسپو 2026" اگلے ماہ منعقد ہوگی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور بیوٹمز کے اشتراک سے ص...
کوئٹہ: ٹی ڈی اے پی کا خواتین کے برآمدی کاروبار کے فروغ کے لیے خصوصی سیمینار
کوئٹہ: ٹی ڈی اے پی کا خواتین کے برآمدی کاروبار کے فروغ کے لیے خصوصی سیمینار
ٹی ڈی اے پی نے کوئٹہ میں خواتین کاروباری شخصیات، طلبہ اور ابھرتے ہوئے برآمدکنندگان کے لیے برآمدی کاروبار اور ض...