بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کا مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور کردار سازی پر نئی کتابوں کے پائلٹ منصوبے کا آغاز
حکومتِ بلوچستان اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور کردار سازی پر مبنی نئی انٹرایکٹو کتابیں تجرباتی بنیادوں پر متعارف کرا دی ہیں۔ چیئرمین گلاب خلجی کے مطابق یہ کتابیں صوبے کے تمام اضلاع میں دو بوائز اور دو گرلز اسکولوں میں تقسیم کی جائیں گی، جبکہ تحقیق اور فیڈ بیک کے بعد انہیں باقاعدہ نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
کوئٹہ: حکومتِ بلوچستان اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس)، موسمیاتی تبدیلی اور کردار سازی پر مبنی علیحدہ تعلیمی کتب متعارف کروا دی ہیں۔ ان کتابوں کا مقصد بچوں میں جدید علوم سے آگاہی، مثبت اقدار کو فروغ دینا اور انہیں ذمہ دار اور باکردار شہری بنانا ہے۔
بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین گلاب خلجی نے بتایا کہ نئی کتابیں روایتی انداز کے بجائے انٹرایکٹو طرزِ تعلیم کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہیں، جن میں کم متن، زیادہ تصورات، عملی سرگرمیوں اور اکیسویں صدی کی مہارتوں کے ساتھ اخلاقیات اور آداب پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا آغاز ابتدائی طور پر تجرباتی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے بلوچستان کے تمام اضلاع میں دو گرلز اور دو بوائز اسکولوں میں یہ کتابیں تقسیم کی جائیں گی تاکہ ان کی افادیت کا عملی جائزہ لیا جا سکے۔
گلاب خلجی کے مطابق تدریسی عمل کے دوران حاصل ہونے والے مشاہدات، تحقیق اور متعلقہ اساتذہ و طلبہ کی آراء کی بنیاد پر جامع رپورٹس تیار کی جائیں گی۔ ان رپورٹس کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا ان کتابوں کو بلوچستان کے باقاعدہ نصابِ تعلیم کا حصہ بنایا جائے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب کی تشکیل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے طلبہ میں تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیتوں، جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی، ماحولیاتی شعور اور مثبت کردار کی تعمیر کو فروغ ملے گا۔

Keywords : Balochistan Textbook Board, Artificial Intelligence Education, Climate Change Education, Character Development