لوامز میں پائیدار زرعی کاروبار کے فروغ پر دو روزہ بین الاقوامی سیمینار منعقد
لوامز اوتھل میں جرمن تعاون (GIZ) اور یورپی یونین کے اشتراک سے پائیدار زرعی کاروبار کے فروغ پر دو روزہ بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوا۔ مقررین نے موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی قلت جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی، تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
اوتھل: لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز (لوامز) میں سینٹر آف ایکسیلینس اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) کے زیر اہتمام جرمن تعاون (GIZ) اور یورپی یونین کے اشتراک سے "زراعت کو پائیدار زرعی کاروبار میں تبدیل کرنے" کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک ترین نے کہا کہ جامعات کا کردار صرف تعلیم تک محدود نہیں بلکہ تحقیق، اختراع اور صنعت سے روابط کے ذریعے معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوامز زرعی شعبے کی ترقی، جدید تحقیق کے فروغ اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
مقررین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، زرعی لاگت میں اضافے اور منڈیوں تک محدود رسائی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زراعت کو جدید تقاضوں کے مطابق پائیدار زرعی کاروبار میں تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے جدید زرعی ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن، زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ، مؤثر مارکیٹنگ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور قومی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
سیمینار کے دوران ماہرین نے زرعی تحقیق، غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور پائیدار زرعی طریقہ کار سے متعلق اپنے تحقیقی مقالے اور تجربات پیش کیے، جبکہ شرکاء نے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے علم، تحقیق اور تجربات کے تبادلے کو انتہائی اہم قرار دیا۔

Keywords : LUAWMS, Sustainable Agriculture, Agribusiness, Climate Change