خشک ہوتے بادل، پیاسی زمین بلوچستان میں بڑھتی ہوئی خشک سالی کی تشویش

خشک ہوتے بادل، پیاسی زمین  بلوچستان میں بڑھتی ہوئی خشک سالی کی تشویش

محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ تین ماہ کے دوران بارش معمول سے 41.9 فیصد کم رہی جبکہ درجہ حرارت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صورتحال کے باعث کوئٹہ سمیت متعدد اضلاع میں خشک سالی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس سے زراعت، لائیو اسٹاک اور زیرِ زمین پانی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین نے پیشگی اقدامات اور فوری حکومتی توجہ پر زور دیا ہے۔

خشک ہوتے بادل، پیاسی زمین بلوچستان میں بڑھتی ہوئی خشک سالی کی تشویش

کالم: سیدہ نتاشا

بلوچستان کی فضا آج کل ایک عجیب سی خاموشی سمیٹے ہوئے ہے۔ بارشیں جیسے راستہ بھول کر کہیں دور نکل گئی ہوں، اور زمین کی پیاس ہے کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ صوبے میں خشک سالی کی بڑھتی ہوئی شدت ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے اور اعداد و شمار اس تشویش کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کی تازہ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ تین ماہ یعنی ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے دوران بلوچستان میں بارش معمول سے 41.9 فیصد کم رہی ہے۔ اس مدت میں صوبے میں صرف 8.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ معمول کی بارش 14.8 ملی میٹر بنتی ہے۔ یعنی بارشیں نہ صرف کم ہوئیں، بلکہ مسلسل کمی نے خشک سالی کے خدشات کو کوئٹہ سمیت سات اہم اضلاع تک پھیلا دیا ہے۔


اس پورے عرصے میں درجہ حرارت بھی معمول سے 0.9 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا یہ اضافہ معمولی نہیں، کیونکہ یہی درجہ حرارت بارشوں کے پیٹرن کو متاثر کرتا ہے اور زمین کی نمی کو تیزی سے ختم کرتا ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق مئی سے نومبر 2025 کے دوران مغربی اور جنوب مغربی بلوچستان میں بارشوں کی کمی مزید نمایاں ہوئی ہے۔ مسلسل خشک دنوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اور خشک سالی کے آثار بھی۔ اندازہ یہی ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو زراعت، لائیو اسٹاک، اور زیرِ زمین پانی تینوں پر دباؤ مزید بڑھے گا۔
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ دسمبر 2025 سے فروری 2026 تک بارشیں معمول سے کم اور درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ اس صورت حال سے جن علاقوں میں خشک سالی مزید سنگین ہوسکتی ہے ان میں کوئٹہ، چاغی، گوادر، کیچ، خاران، مستونگ، نوشکی، پشین، پنجگور، قلعہ عبداللہ اور واشک شامل ہیں۔
تاہم ایک امید کی کرن بھی ہے ماہرین کے مطابق رواں ماہ کے آخر میں بلوچستان کے کچھ حصوں میں بارش کا ایک کمزور مگر مؤثر سسٹم داخل ہوسکتا ہے جو جزوی ریلیف فراہم کرے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو خشک سالی کی شدت میں وقتی کمی آئے گی، مگر اس کے باوجود مجموعی صورتحال توجہ کی متقاضی ہے۔
اسی لیے حکام نے پیشگی اقدامات ضروری قرار دیتے ہوئے چند اہم سفارشات دی ہیں، جن میں متاثرہ علاقوں میں چارہ اور پانی کے ٹینکوں کی پیشگی فراہمی، موبائل ہیلتھ اور ویٹرنری ٹیموں کی تعیناتی، ایس ایم ایس اور مساجد کے ذریعے بروقت آگاہی کا نظام، این جی اوز کے تعاون سے چھوٹے کسانوں کے لیے سبسڈی، اور یونین کونسل کی سطح پر پانی ذخیرہ کرنے اور مؤثر آبپاشی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا شامل ہے۔
بلوچستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ خشک سالی ایک ایسا چیلنج ہے جو صرف آج نہیں بلکہ آنے والے برسوں کا بھی امتحان ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم موسمیاتی حقیقتوں کو سمجھیں، پانی بچانے کی عادت اپنائیں اور حکومتی و سماجی سطح پر مربوط اقدامات کریں کیونکہ اگر بارشیں کمزور پڑ رہی ہیں تو ہمیں مضبوط ہونا ہوگا۔


Related News

قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی چنائی زور و شور سے جاری ہے اور روزانہ بڑی مقدار میں تازہ پھل ملک کی مختلف منڈیوں میں بھیجا جا...
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت تعلیم کے شعبے میں سیکھنے کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، مگر اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال طلبہ کی تخ...
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
بلوچستان کے ضلع نوشکی کے اعلیٰ معیار اور قدرتی مٹھاس سے بھرپور انگور ملک بھر کی منڈیوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہ...
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی اب پوری دنیا کے لیے ایک سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ اگر ہم توانائی اور پانی کے درست ا...
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ (لا آف اسمپشن) کے مطابق انسان جن خیالات اور یقین کو اپنی حقیقت مان لیتا ہے، وہی اس کے رویوں اور...
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
ضلع بارکھان کے علاقے بغاؤ میں گاجا سیب کی فصل تیار ہو چکی ہے اور آئندہ چند روز میں توڑائی کے بعد یہ ملک بھر کی...