"50" پھل کی بڑھتی مقبولیت، سنجاوی کو نئی زرعی شناخت ملنے لگی
سنجاوی کے باغات میں پیدا ہونے والا منفرد "50" پھل اپنے ذائقے، خوشبو اور معیار کی بدولت مقامی اور بیرونی منڈیوں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ باغبانوں کے مطابق بہتر قیمت اور بڑھتی طلب نے اسے ایک منافع بخش فصل بنا دیا ہے، جو مستقبل میں خطے کی اہم زرعی شناخت بن سکتی ہے۔
رپورٹ: سنجاوی
کیا آپ نے کبھی کسی ایسے پھل کے بارے میں سنا ہے جس کا نام صرف ایک نمبر ہو؟ جی ہاں، "fifty"۔ سنجاوی کے باغات میں پیدا ہونے والا یہ منفرد پھل نہ صرف اپنے نام کی وجہ سے توجہ حاصل کر رہا ہے بلکہ اپنے ذائقے اور معیار کے باعث بھی تیزی سے مقبول ہوتا جا رہا ہے۔چند سال پہلے تک "50" پھل سے بہت کم لوگ واقف تھے، لیکن آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔ سنجاوی کے باغات میں اس کی کاشت بڑھ رہی ہے، جبکہ منڈیوں میں اس کی طلب مسلسل اوپر جا رہی ہے۔رسیلا، خوشبودار اور انتہائی لذیذ گودا رکھنے والا یہ پھل اگرچہ ہلکے سے دانے رکھتا ہے، مگر ان دانوں کی موجودگی اس کے ذائقے میں کوئی کمی نہیں آنے دیتی۔ جیسے ہی اسے چکھا جائے تو رس سے بھرپور نرمی اور خوشبو فوراً اپنا اثر دکھاتی ہے، اور یہی خاصیت اسے خریداروں میں تیزی سے مقبول بنا رہی ہے۔
سنجاوی کے باغبانوں کا کہنا ہے کہ بہتر معیار اور اچھی قیمت نے اس پھل کو ان کے لیے منافع بخش فصل بنا دیا ہے۔ اب یہ صرف مقامی منڈیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ دیگر شہروں کی مارکیٹوں میں بھی اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ "50" پھل کی شہرت اس کی کاشت سے بھی زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ جہاں بھی یہ پہنچتا ہے، اپنے منفرد ذائقے اور معیار کی وجہ سے لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ سنجاوی، جو پہلے ہی اپنے پھلوں اور باغات کے لیے مشہور ہے، اب "50" پھل کی بدولت ایک نئی پہچان حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں یہ پھل نہ صرف سنجاوی بلکہ پورے خطے کی زرعی شناخت کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔
.jpeg)
Keywords : FIfty fruit, Sanjavi Orchards, Agricultural development, Fruit farming