گورنر بلوچستان کی زیرِ صدارت یونیورسٹی آف لورالائی کا سینیٹ اجلاس، معیاری تعلیم اور مالی استحکام پر زور
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کی زیرِ صدارت یونیورسٹی آف لورالائی کے آٹھویں سینیٹ اجلاس میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ، یونیورسٹی کے مالی استحکام اور مارکیٹ سے ہم آہنگ نئے تعلیمی پروگرام متعارف کرانے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران خان ملاخیل، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی اور دیگر سینیٹ اراکین نے شرکت کی، جبکہ یونیورسٹی کی تعلیمی، انتظامی اور مالی بہتری سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران خان ملاخیل اور صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے یونیورسٹی آف لورالائی کے آٹھویں سینیٹ اجلاس میں شرکت کی۔ چھ گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کی صدارت گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کی، جبکہ اجلاس میں یونیورسٹی کے تعلیمی، انتظامی اور مالی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ یونیورسٹی آف لورالائی اپنے قیام کے مختصر عرصے میں معیاری تعلیم اور جدید مہارتوں کے فروغ کی جانب نمایاں پیش رفت کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد طلبہ کو جدید سائنسی علوم اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کرنا ہے تاکہ وہ عملی زندگی میں معاشی طور پر خودمختار اور مسابقتی کردار ادا کر سکیں۔
اجلاس میں وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ، سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی نمائندہ نور آمنہ ملک، پرنسپل سیکریٹری ٹو گورنر عبدالناصر دوتانی، پرو وائس چانسلر عادل زمان کاسی، رجسٹرار ڈاکٹر خالد خان اور دیگر سینیٹ اراکین بھی شریک ہوئے۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ملک میں معیاری اعلیٰ تعلیم اور جدید تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاہم پبلک سیکٹر جامعات کے مالی استحکام کے لیے نئے اور پائیدار آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ سینیٹ اجلاسوں کا مکمل ایجنڈا اور متعلقہ دستاویزات اجلاس سے کم از کم ایک ہفتہ قبل تمام اراکین کو فراہم کی جائیں تاکہ بہتر مشاورت اور مؤثر فیصلہ سازی ممکن ہو سکے۔
گورنر جعفر خان مندوخیل نے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ اور ان کی ٹیم کی تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے کاوشوں کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نئے تعلیمی پروگرام متعارف کرائے جائیں تاکہ یونیورسٹی آف لورالائی بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے معیاری تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے والا مؤثر ادارہ بن سکے۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کی روشنی میں یونیورسٹی کی تعلیمی، انتظامی اور مالی بہتری سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی گئی۔

Keywords : University of Loralai, Jaffar Khan Mandokhail, Higher Education, Senate Meeting