گوادر کا پاکستان میں الحاق: ایک شاندار سفارتی کامیابی کی داستان

گوادر کا پاکستان میں الحاق: ایک شاندار سفارتی کامیابی کی داستان

گوادر کا پاکستان میں شامل ہونا محض ایک علاقائی تبدیلی نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی، قانونی اور سفارتی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ صدیوں پر محیط پس منظر، عمانی حکمرانی، اور پھر وزیراعظم فیروز خان نون اور بیگم وقارالنساء نون کی غیر معمولی کاوشوں نے 8 ستمبر 1958 کو گوادر کو پرامن طریقے سے پاکستان کا حصہ بنایا۔ آج گوادر خطے کی معاشی تقدیر بدلنے والا مرکز بن چکا ہے۔

تحریر: سیدہ نتاشا

گوادر کا پاکستان میں الحاق 8 ستمبر 1958 کو عمل میں آیا، جو پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک منفرد اور قابلِ فخر باب ہے۔ یہ وہ واحد علاقہ ہے جو کسی جنگ یا طاقت کے استعمال کے بغیر، مکمل طور پر قانونی اور سفارتی ذرائع سے پاکستان کا حصہ بنا۔ اس کامیابی کے پیچھے کئی صدیوں پر پھیلی تاریخ، پیچیدہ بین الاقوامی تعلقات اور چند غیر معمولی شخصیات کی دوراندیشی کارفرما تھی۔
گوادر کی تاریخی حیثیت انتہائی قدیم ہے۔ یونانی مورخین اور سکندرِ اعظم کے بحری بیڑے کے ریکارڈز میں بھی اس ساحلی علاقے کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم گوادر کی جدید سیاسی تاریخ کا آغاز 1784 میں ہوتا ہے، جب عمان کے شہزادے سلطان بن احمد اقتدار کی اندرونی کشمکش کے باعث بلوچستان پہنچے۔ اس وقت بلوچستان کے حکمران، خان آف قلات میر محمد نصیر خان اول نے انسانی ہمدردی اور مہمان نوازی کے تحت گوادر کا علاقہ ان کے انتظام میں دے دیا، تاکہ وہ اپنی گزر بسر کر سکیں۔ یہ بندوبست عارضی سمجھا جا رہا تھا۔


جب سلطان بن احمد 1797 میں مسقط واپس جا کر دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو انہوں نے گوادر کو واپس کرنے کے بجائے اسے عمانی سلطنت کا مستقل حصہ بنا لیا۔ یوں ایک ایسا جغرافیائی تضاد پیدا ہوا جس میں گوادر ثقافتی، نسلی اور جغرافیائی طور پر بلوچستان سے جڑا رہا، مگر سیاسی طور پر عمان کے زیرِ انتظام چلا گیا۔
1947 میں قیامِ پاکستان کے وقت گوادر بدستور عمان کے قبضے میں تھا۔ اگرچہ پاکستان کو ایک طویل ساحلی پٹی ملی، مگر کراچی کے سوا کوئی مؤثر گہرے پانی کی بندرگاہ موجود نہ تھی، جو دفاعی اور معاشی نقطۂ نظر سے ایک بڑا خلا تھا۔ اس صورتحال میں گوادر کی اسٹریٹیجک اہمیت نمایاں ہونے لگی۔
1954 میں پاکستان نے امریکی جیالوجیکل سروے کے ماہرین سے ساحلی جائزہ کروایا۔ ماہرین کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ گوادر کا ہتھوڑے نما جزیرہ نما قدرتی طور پر ایک مثالی گہرے پانی کی بندرگاہ بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس رپورٹ نے حکومتِ پاکستان کو گوادر کے حصول کی ضرورت کا مزید احساس دلایا۔
یہاں سے اس کہانی میں وزیراعظم فیروز خان نون کا کردار فیصلہ کن بن جاتا ہے۔ ایک زیرک سیاستدان، تجربہ کار سفارت کار اور بین الاقوامی تعلقات پر گہری نظر رکھنے والے فیروز خان نون نے گوادر کے مسئلے کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے تاریخی ریکارڈ، قانونی نکات اور سفارتی امکانات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور اس مؤقف کو مضبوط کیا کہ گوادر دراصل ایک جاگیر تھی، نہ کہ کسی خودمختار ریاست کا باقاعدہ حصہ۔
اس سفارتی مہم میں بیگم وقارالنساء نون کی خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جاتی ہیں۔ آسٹریا میں پیدا ہونے والی وقارالنساء نون نے اسلام قبول کیا، تحریکِ پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور بعد ازاں بین الاقوامی سفارت کاری میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ ان کی اعلیٰ تعلیم، اعتماد اور بین الثقافتی فہم نے برطانوی اور عمانی حکام کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
دو سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد عمان کے سلطان سعید بن تیمور اس بات پر آمادہ ہوئے کہ گوادر پاکستان کے حوالے کیا جائے، تاہم اس کے بدلے مالی معاوضہ طے پایا۔ پاکستان نے تقریباً تین ملین امریکی ڈالر ادا کیے، جو اس وقت ایک بڑی رقم تھی۔ بعض تاریخی حوالوں کے مطابق یہ رقم آغا خان چہارم کی جانب سے ادا کی گئی۔ معاہدے میں یہ شق بھی شامل تھی کہ اگر مستقبل میں گوادر سے تیل دریافت ہوا تو اس کا ایک حصہ عمان کو دیا جائے گا۔
آخرکار 8 ستمبر 1958 کو گوادر باضابطہ طور پر پاکستان کا حصہ بن گیا۔ یہ ایک خاموش مگر عظیم کامیابی تھی، جس نے پاکستان کے ساحلی، دفاعی اور معاشی مستقبل کی سمت متعین کر دی۔
آج گوادر چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا مرکزی ستون ہے اور خطے کی معاشی جغرافیہ میں انقلابی تبدیلی لا رہا ہے۔ یہ سب ممکن ہوا فیروز خان نون کی سیاسی بصیرت، بیگم وقارالنساء نون کی سفارتی ذہانت اور ان کی انتھک محنت کے باعث، جنہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے ترقی اور خوشحالی کی بنیاد رکھ دی۔


Related News

قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی چنائی زور و شور سے جاری ہے اور روزانہ بڑی مقدار میں تازہ پھل ملک کی مختلف منڈیوں میں بھیجا جا...
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت تعلیم کے شعبے میں سیکھنے کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، مگر اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال طلبہ کی تخ...
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
بلوچستان کے ضلع نوشکی کے اعلیٰ معیار اور قدرتی مٹھاس سے بھرپور انگور ملک بھر کی منڈیوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہ...
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی اب پوری دنیا کے لیے ایک سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ اگر ہم توانائی اور پانی کے درست ا...
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ (لا آف اسمپشن) کے مطابق انسان جن خیالات اور یقین کو اپنی حقیقت مان لیتا ہے، وہی اس کے رویوں اور...
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
ضلع بارکھان کے علاقے بغاؤ میں گاجا سیب کی فصل تیار ہو چکی ہے اور آئندہ چند روز میں توڑائی کے بعد یہ ملک بھر کی...