وزیراعلیٰ بلوچستان کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہنہ اُورک واقعے کے بعد فوری آپریشن کی منظوری
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہنہ اُورک واقعے کا جائزہ لیتے ہوئے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فوری اور بلاامتیاز آپریشن کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں مشترکہ چیک پوسٹ کے قیام، متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد اور سیکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا
کوئٹہ: کوئٹہ سے تقریباً 15 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہنہ اُورک کے علاقے بابری میں نامعلوم مسلح افراد اور مقامی قبائلی افراد کے درمیان ہونے والے مسلح تصادم میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 9 افراد زخمی ہوگئے۔ حملہ آور فائرنگ کے دوران 7 مقامی شہریوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی)، انسدادِ دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کردیا۔ کارروائی کے دوران اے ٹی ایف کے 4 اہلکار بھی زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے ٹراما سینٹر منتقل کردیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہنہ اُورک اور ملحقہ علاقوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فوری اور بلاامتیاز آپریشن کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس میں علاقے کی سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ چیک پوسٹ قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی، جہاں تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر نگرانی اور سیکیورٹی آپریشنز کو مربوط بنائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں کو دو روز کے اندر مالی امداد اور سرکاری معاوضہ فراہم کیا جائے۔

Keywords: High-Level Meeting,Hanna Urak,Counterterrorism Operation,Balochistan Security