اگر میری جان سے بلوچستان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو میں قربانی کے لیے تیار ہوں، سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہید نوابزادہ میر سراج رئیسانی کی آٹھویں برسی کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی سے بلوچستان کو پاکستان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی جان سے بلوچستان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو وہ اپنی جان دینے کے لیے بھی تیار ہیں، جبکہ شہداء کے لواحقین کے جائز مطالبات پورے کیے جائیں گے۔
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کی آٹھویں برسی کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے ذریعے بلوچستان کو پاکستان سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان و بلوچستان کا راستہ امن، استحکام اور ترقی کا راستہ ہے، جس سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن دہشت گردی اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر اس کا الزام ریاست پر عائد کرنا چاہتا ہے، جبکہ پاکستان کی فوج، ایف سی، پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز امن کی بحالی کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا، "اگر میری جان سے بلوچستان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو میں اپنی جان دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔"
سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح تعلیم، صحت اور بلوچستان کی پائیدار ترقی ہے، جبکہ شرپسند عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید سراج رئیسانی کا مشن جاری رہے گا اور ان کی قربانی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ شہداء کی قربانیوں پر سیاست کی جاتی ہے، اور کہا کہ شہداء کے لواحقین کے تمام جائز مطالبات پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن، استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
.jpeg)
Keywords : Sarfraz Bugti, Siraj Raisani, Balochistan Security, Counterterrorism