منفی خبروں کا زہنی صحت پر اثر

منفی خبروں کا زہنی صحت پر اثر

اکیسویں صدی کو معلومات کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ معلومات ڈیجیٹل ذرائع سے سیکنڈوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو رہی ہیں۔ ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں دنیا پہلے سے کہیں زیادہ جُڑی ہوئی ہے۔ خبریں تیزی اور وضاحت کے ساتھ پہنچتی ہیں۔ سوشل میڈیا اور اے آئی جیسے ڈیجیٹل ٹولز کے آنے کے بعد اطلاعات کی رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ اس عہد کو اب "پوسٹ ٹروتھ" کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ جہاں معلومات کی فراہمی تیز ہو چکی ہے، وہیں "میس انفارمیشن" اور "ڈس انفارمیشن" بھی اتنی ہی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ منفی خبروں کی کثرت نے میڈیا ناظرین اور سامعین کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ میڈیا نفسیات کے شعبے میں کی گئی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ منفی خبروں کا باقاعدہ اور مسلسل سامنا جذباتی فلاح و بہبود، ذہنی تصورات، اور زندگی کے معیار پر اثر ڈال سکتا ہے۔ منفی خبروں کے سب سے فوری اثرات میں ڈپریشن اور اینگزائٹی میں اضافہ شامل ہے۔ تشدد، جرائم، سیاسی و سماجی تنازعات، اور قدرتی آفات کی خبریں ایسے واقعات ہیں جو ماہرین نفسیات کے مطابق جسم کے دباؤ کے ردعمل کو متحرک کرتی ہیں اور انسان کے اندر مسلسل خطرے یا خوف کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ واقعات ناظرین کے ماحول سے دور ہوتے ہیں، پھر بھی اکثر منفی خبریں اپنی شدت کی وجہ سے خطرے کو ذاتی محسوس کروا سکتی ہیں۔ مسلسل منفی خبریں وقت کے ساتھ ساتھ مستقل دباؤ، ڈپریشن، اور طویل مدتی جذباتی تناؤ میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ سائیکالوجی ٹوڈے میگزین میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف سیکس کے پروفیسر گراہم ڈیوی کی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے، جو اینگزائٹی کے ماہر ہیں۔ ان کی تحقیق میں تین مختلف نیوز بلیٹن تیار کیے گئے: ایک میں صرف منفی خبریں، دوسرے میں مثبت خبریں، اور تیسرے میں غیر جانبدار خبریں شامل تھیں۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کو منفی خبریں دکھائی گئیں، ان میں دیگر افراد کے مقابلے میں اداسی اور اضطراب کی علامات زیادہ واضح تھیں۔ خبروں سے باخبر رہنا ہر انسان کا حق ہے، اور ہم سب کوشش کرتے ہیں کہ حالات سے آگاہ رہیں۔ لیکن باخبر رہنے اور معلومات پھیلانے کا طریقہ اعتدال پر مبنی ہونا چاہیے۔ کئی نیوز چینلز منفی خبروں کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرتے ہیں، اور یہی رویہ اکثر عام افراد بھی سوشل میڈیا پر اپنانے لگتے ہیں۔ اس سلسلے میں میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کی بھی خاص ذمہ داری ہے کہ وہ صرف منفی خبریں نشر کرنے تک محدود نہ رہیں، بلکہ مثبت، تعمیری، اور حل پر مبنی خبریں بھی کور کرنے کی کوشش کریں تاکہ توازن قائم ہو سکے۔ میڈیا کا کام خوف یا تشویش پیدا کرنا نہیں، بلکہ معلومات کے ساتھ سماجی شعور اور امید بھی قائم رکھنا ہے۔ منفی خبروں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے نفسیاتی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات کا استعمال بند کر دیا جائے۔ اسی طرح، سونے سے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا کا استعمال بھی محدود کریں، کیونکہ یہ بے چینی اور اضطراب میں اضافہ کر سکتا ہے۔

منفی خبروں کی زہنی صحت پر اثر
تحریر : جان ہزارہ 

اکیسویں صدی کو معلومات کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ معلومات ڈیجیٹل ذرائع سے سیکنڈوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو رہی ہیں۔ ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں دنیا پہلے سے کہیں زیادہ جُڑی ہوئی ہے۔ خبریں تیزی اور وضاحت کے ساتھ پہنچتی ہیں۔ سوشل میڈیا اور اے آئی جیسے ڈیجیٹل ٹولز کے آنے کے بعد اطلاعات کی رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ اس عہد کو اب "پوسٹ ٹروتھ" کا دور بھی کہا جاتا ہے۔

جہاں معلومات کی فراہمی تیز ہو چکی ہے، وہیں "میس انفارمیشن" اور "ڈس انفارمیشن" بھی اتنی ہی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ منفی خبروں کی کثرت نے میڈیا ناظرین اور سامعین کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ میڈیا نفسیات کے شعبے میں کی گئی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ منفی خبروں کا باقاعدہ اور مسلسل سامنا جذباتی فلاح و بہبود، ذہنی تصورات، اور زندگی کے معیار پر اثر ڈال سکتا ہے۔

منفی خبروں کے سب سے فوری اثرات میں ڈپریشن اور اینگزائٹی میں اضافہ شامل ہے۔ تشدد، جرائم، سیاسی و سماجی تنازعات، اور قدرتی آفات کی خبریں ایسے واقعات ہیں جو ماہرین نفسیات کے مطابق جسم کے دباؤ کے ردعمل کو متحرک کرتی ہیں اور انسان کے اندر مسلسل خطرے یا خوف کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ واقعات ناظرین کے ماحول سے دور ہوتے ہیں، پھر بھی اکثر منفی خبریں اپنی شدت کی وجہ سے خطرے کو ذاتی محسوس کروا سکتی ہیں۔ مسلسل منفی خبریں وقت کے ساتھ ساتھ مستقل دباؤ، ڈپریشن، اور طویل مدتی جذباتی تناؤ میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

سائیکالوجی ٹوڈے میگزین میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف سیکس کے پروفیسر گراہم ڈیوی کی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے، جو اینگزائٹی کے ماہر ہیں۔ ان کی تحقیق میں تین مختلف نیوز بلیٹن تیار کیے گئے: ایک میں صرف منفی خبریں، دوسرے میں مثبت خبریں، اور تیسرے میں غیر جانبدار خبریں شامل تھیں۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کو منفی خبریں دکھائی گئیں، ان میں دیگر افراد کے مقابلے میں اداسی اور اضطراب کی علامات زیادہ واضح تھیں۔

خبروں سے باخبر رہنا ہر انسان کا حق ہے، اور ہم سب کوشش کرتے ہیں کہ حالات سے آگاہ رہیں۔ لیکن باخبر رہنے اور معلومات پھیلانے کا طریقہ اعتدال پر مبنی ہونا چاہیے۔ کئی نیوز چینلز منفی خبروں کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرتے ہیں، اور یہی رویہ اکثر عام افراد بھی سوشل میڈیا پر اپنانے لگتے ہیں۔ اس سلسلے میں میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کی بھی خاص ذمہ داری ہے کہ وہ صرف منفی خبریں نشر کرنے تک محدود نہ رہیں، بلکہ مثبت، تعمیری، اور حل پر مبنی خبریں بھی کور کرنے کی کوشش کریں تاکہ توازن قائم ہو سکے۔ میڈیا کا کام خوف یا تشویش پیدا کرنا نہیں، بلکہ معلومات کے ساتھ سماجی شعور اور امید بھی قائم رکھنا ہے۔
منفی خبروں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے نفسیاتی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات کا استعمال بند کر دیا جائے۔ اسی طرح، سونے سے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا کا استعمال بھی محدود کریں، کیونکہ یہ بے چینی اور اضطراب میں اضافہ کر سکتا ہے۔


Related News

قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی چنائی زور و شور سے جاری ہے اور روزانہ بڑی مقدار میں تازہ پھل ملک کی مختلف منڈیوں میں بھیجا جا...
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت تعلیم کے شعبے میں سیکھنے کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، مگر اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال طلبہ کی تخ...
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
بلوچستان کے ضلع نوشکی کے اعلیٰ معیار اور قدرتی مٹھاس سے بھرپور انگور ملک بھر کی منڈیوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہ...
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی اب پوری دنیا کے لیے ایک سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ اگر ہم توانائی اور پانی کے درست ا...
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ (لا آف اسمپشن) کے مطابق انسان جن خیالات اور یقین کو اپنی حقیقت مان لیتا ہے، وہی اس کے رویوں اور...
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
ضلع بارکھان کے علاقے بغاؤ میں گاجا سیب کی فصل تیار ہو چکی ہے اور آئندہ چند روز میں توڑائی کے بعد یہ ملک بھر کی...