برف میں دفن خواب: سَیلو مَن آگوست آندرے کی المناک قطبی مہم

برف میں دفن خواب: سَیلو مَن آگوست آندرے کی المناک قطبی مہم

1897 میں سویڈن کے انجینئر سَیلو مَن آگوست آندرے نے غبارے کے ذریعے شمالی قطب تک پہنچنے کی جرات مندانہ کوشش کی۔ تکنیکی خامیوں اور آرکٹک کے سخت موسم کے باعث مہم ناکام ہو گئی اور آندرے اپنے دو ساتھیوں سمیت برفانی ویرانے میں پھنس گئے۔ تینوں افراد جدوجہد کے باوجود جانبر نہ ہو سکے اور 33 برس بعد ان کے روزنامچے اور تصاویر برف کے نیچے سے ملیں، جو اس مہم کو انسانی عزم اور سائنسی خوش فہمی کی علامت بنا گئیں۔

تحریر: سیدہ نتاشا

انیسویں صدی کے اختتام پر شمالی قطب کو فضائی راستے سے فتح کرنے کی ایک جرات مندانہ مگر ناکام کوشش آج بھی دنیا کی عجیب و غریب اور المناک تاریخ میں شمار کی جاتی ہے۔ 1897 میں سویڈن کے انجینئر سَیلو مَن آگوست آندرے نے ہائیڈروجن سے بھرے غبارے “اورنن” کے ذریعے قطبِ شمالی تک پہنچنے کا منصوبہ بنایا، جس میں ان کے دو ساتھی نیلز اسٹرنڈبرگ اور کنُٹ فریںکل بھی شامل تھے۔


مہم کا آغاز سوالبارڈ سے ہوا، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے اس تاریخی روانگی کا مشاہدہ کیا۔ تاہم اڑان کے کچھ ہی عرصے بعد غبارے پر نمی جم جانے کے باعث اس کا وزن بڑھتا گیا اور محض 65 گھنٹوں بعد غبارے کو برف پر اترنا پڑا۔ اس کے بعد تینوں افراد ایک ایسے برفانی صحرا میں پھنس گئے جہاں نہ کوئی انسانی آبادی تھی اور نہ ہی واپسی کا آسان راستہ۔
تینوں مہم جو کئی ہفتوں تک بھاری سلیج کھینچتے رہے اور قطبی ریچھوں کا شکار کر کے زندہ رہنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس دوران انہوں نے روزنامچے تحریر کیے اور تصاویر بھی بناتے رہے۔ بالآخر وہ کویتویا (وائٹ آئی لینڈ) پہنچے، جہاں شدید سردی اور جسمانی کمزوری نے ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔
یہ مہم 33 برس تک لاپتہ رہی، یہاں تک کہ 1930 میں ایک نارویجین جہاز کے عملے نے اتفاقاً ان کا کیمپ دریافت کیا۔ برف میں محفوظ لاشیں، سائنسی آلات، روزنامچے اور تصویری فلمیں بعد ازاں دنیا کے سامنے لائی گئیں، جنہوں نے اس سانحے کو محض ایک ناکامی کے بجائے انسانی حوصلے، ضد اور سائنسی دور کی خوش فہمی کی علامت بنا دیا۔
ماہرین کے مطابق آندرے کی یہ مہم “ہیروئک ایج آف پولر ایکسپلوریشن” کی ایک نمایاں مثال ہے، جو یہ سبق دیتی ہے کہ فطرت کے سامنے انسانی ارادے ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتے۔


Related News

قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی چنائی زور و شور سے جاری ہے اور روزانہ بڑی مقدار میں تازہ پھل ملک کی مختلف منڈیوں میں بھیجا جا...
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت تعلیم کے شعبے میں سیکھنے کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، مگر اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال طلبہ کی تخ...
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
بلوچستان کے ضلع نوشکی کے اعلیٰ معیار اور قدرتی مٹھاس سے بھرپور انگور ملک بھر کی منڈیوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہ...
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی اب پوری دنیا کے لیے ایک سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ اگر ہم توانائی اور پانی کے درست ا...
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ (لا آف اسمپشن) کے مطابق انسان جن خیالات اور یقین کو اپنی حقیقت مان لیتا ہے، وہی اس کے رویوں اور...
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
ضلع بارکھان کے علاقے بغاؤ میں گاجا سیب کی فصل تیار ہو چکی ہے اور آئندہ چند روز میں توڑائی کے بعد یہ ملک بھر کی...