درخت: زمین کی سانس ۔ اپنی سانسیں مت کاٹو

درخت: زمین کی سانس ۔ اپنی سانسیں مت کاٹو

ماہرین کے مطابق درخت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے، پانی کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ جنگلات کی کٹائی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی مشکلات کے پیش نظر شجرکاری کو صوبے کے لیے ایک ناگزیر ضرورت قرار دیا جا رہا ہے


دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں کلائمٹ چینج صرف ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ انسانی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ زمین کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، موسم شدت اختیار کر رہے ہیں، اور قدرتی نظام عدم توازن کا شکار ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحول نہیں بلکہ انسانی صحت، معیشت اور معاشرتی ڈھانچے کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔

اس عالمی بحران میں اگر کوئی قدرتی طاقت سب سے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے تو وہ **درخت ہیں**۔ دنیا بھر میں جنگلات زمین کے تقریباً 31 فیصد حصے پر پھیلے ہوئے ہیں اور یہ نہ صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے درجہ حرارت کو کم کرتے ہیں بلکہ پانی، مٹی اور حیاتیاتی تنوع کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ 

لیکن المیہ یہ ہے کہ انسان خود اپنے محافظ کو ختم کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر ہر سال تقریباً  ایک کروڑ ہیکٹر جنگلات ختم ہو رہے ہیں، جبکہ 1990 کے بعد سے 48 کروڑ ہیکٹر سے زائد جنگلات ختم ہو چکے ہیں۔ 
یہی نہیں، جنگلات کی کٹائی عالمی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کا تقریباً 11 فیص* سبب بن رہی ہے، جو کلائمٹ چینج کو مزید تیز کر رہی ہے۔ 
یہ ایک خطرناک چکر ہے:
درخت کم ہوں گے → درجہ حرارت بڑھے گا → مزید جنگلات جلیں گے یا ختم ہوں گے۔

اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو صورتحال اور بھی تشویشناک ہے۔ ملک میں جنگلات کا رقبہ 5 سے 6 فیصد کے درمیان* رہ گیا ہے، جو عالمی معیار کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ 
اقوامِ متحدہ کے مطابق پاکستان ایشیا کے اُن ممالک میں شامل رہا ہے جہاں جنگلات کی کٹائی کی شرح بہت زیادہ رہی ہے۔ 
اس کے اثرات واضح ہیں:

* شدید گرمی کی لہریں
* بار بار سیلاب
* خشک سالی اور پانی کی کمی
* زرعی نقصان

اسی پس منظر میں پاکستان نے بلین ٹری سونامی اور "ٹین بلین ٹری پروگرام" جیسے اقدامات شروع کیے، جنہوں نے نہ صرف ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کی بلکہ ہزاروں لوگوں کو روزگار بھی فراہم کیا۔ 

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدامات ابھی بھی ملک کی مجموعی ضرورت کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔

جب ہم بلوچستان کی بات کرتے ہیں تو مسئلہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ یہ صوبہ پہلے ہی *خشک، کم بارش اور محدود وسائل* کا شکار ہے، اور اب کلائمٹ چینج نے اسے مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

بلوچستان کے شمالی علاقوں میں موجود *زیارت کے جونیپر جنگلات* دنیا کے قدیم ترین جنگلات میں شمار ہوتے ہیں، لیکن یہ بھی بے دریغ کٹائی، ایندھن کے استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔ 

درختوں کی کمی کے باعث:

* صحرائی پھیلاؤ (Desertification) تیزی سے بڑھ رہا ہے
* مٹی کا کٹاؤ بڑھ رہا ہے
* بارش کا نظام مزید غیر متوازن ہو رہا ہے
* زیرِ زمین پانی تیزی سے ختم ہو رہا ہے

یہ صرف ماحول کا مسئلہ نہیں بلکہ *بقا کا مسئلہ* بن چکا ہے۔

 

  حل کیا ہے؟ — درخت، صرف درخت

بلوچستان کے لیے شجرکاری کوئی "ماحولیاتی مہم" نہیں بلکہ ایک *اسٹریٹجک ضرورت* ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ:

* مقامی اقسام کے درخت لگائے جائیں (جیسے جونیپر، زیتون، کیکر)
* کمیونٹی لیول پر شجرکاری کو فروغ دیا جائے
* اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو شامل کیا جائے
* پانی کے مؤثر استعمال کے ساتھ گرین بیلٹس بنائے جائیں

کیونکہ درخت صرف سایہ نہیں دیتے، وہ:

* زمین کو زندہ رکھتے ہیں
* پانی کو محفوظ کرتے ہیں
* موسم کو متوازن کرتے ہیں
* اور انسان کو مستقبل دیتے ہیں

 آخری بات
دنیا اب یہ سمجھ چکی ہے کہ کلائمٹ چینج کے خلاف جنگ ہتھیاروں سے نہیں، درختوں سے جیتی جائے گی۔

اگر پاکستان کو محفوظ بنانا ہے تو شجرکاری ضروری ہے،
اور اگر بلوچستان کو بچانا ہے تو شجرکاری ناگزیر ہے۔

آج ایک درخت لگانا، کل ایک نسل کو بچانا ہے۔

 

Keywords : Climate Change, Forest Conservation, Balochistan Environment, Environmental Sustainability


Related News

بلوچستان اور کلائمٹ چینج ۔۔ ایک خاموش بحران
بلوچستان اور کلائمٹ چینج ۔۔ ایک خاموش بحران
بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، جن میں پانی کی قلت، خشک سالی، غیر متوقع...
گوادر قدرتی حسن، جدید انفراسٹرکچر اور تاریخی ورثے کا حسین امتزاج
گوادر قدرتی حسن، جدید انفراسٹرکچر اور تاریخی ورثے کا حسین امتزاج
گوادر: بلوچستان کا ساحلی شہر گوادر جدید انفراسٹرکچر، قدرتی حسن اور تاریخی ورثے کے امتزاج کے باعث تیزی سے ایک ن...
جب خواب سرحدوں کے پار جا بسیں
جب خواب سرحدوں کے پار جا بسیں
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران بیرونِ ملک ہجرت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں بڑی تعداد تعلیم یافتہ اور ہنر...
قلات کی چیری: مٹھاس، خوبصورتی اور مقامی معیشت کی پہچان
قلات کی چیری: مٹھاس، خوبصورتی اور مقامی معیشت کی پہچان
بلوچستان کے تاریخی ضلع قلات کی چیری اپنے منفرد ذائقے، بے مثال مٹھاس اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے ملک بھر میں خاص...
پاکستان میں غیر محفوظ پینے کا پانی: ایک خاموش صحت کا بحران
پاکستان میں غیر محفوظ پینے کا پانی: ایک خاموش صحت کا بحران
پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن پاکستان میں آلودہ پانی سنگین صحت کے مسائل کا باعث بن رہا ہے۔ زیادہ تر پینے...
معرکۂ حق ،   اتحاد، قربانی اور قومی عزم کی روشن مثال
معرکۂ حق ، اتحاد، قربانی اور قومی عزم کی روشن مثال
معرکۂ حق قومی اتحاد، قربانی اور بہادری کی علامت ہے، جس نے پاکستانی قوم کے حوصلے اور حب الوطنی کے جذبے کو مزید...