جب خواب سرحدوں کے پار جا بسیں
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران بیرونِ ملک ہجرت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں بڑی تعداد تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کی ہے۔ 2022 سے 2024 کے دوران لاکھوں پاکستانی بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ چکے ہیں، جس سے مختلف شعبوں میں افرادی قوت کی کمی پیدا ہو رہی ہے۔ اگرچہ ترسیلاتِ زر معیشت کے لیے اہم سہارا ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ رجحان طویل مدت میں “برین ڈرین” کا سبب بن سکتا ہے۔ بعض ماہرین اسے “برین سرکولیشن” بھی قرار دیتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
نقل مکانی انسانی تاریخ کا ایک مستقل حصہ رہی ہے، تاہم جدید دور میں اس کے اسباب اور اثرات پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
تحریر : اِرم سہیل
آج پاکستان میں ایک بڑا اور تشویشناک رجحان تیزی سے ابھر رہا ہے۔ یہاں لوگوں کے خواب، امیدیں اور ہنر ملک کے اندر مستقبل تلاش کرنے کے بجائے بیرونِ منتقل ہو رہے ہیں۔
پاکستان اس وقت تاریخ کی بڑی نقل مکانی کا سامنا کر رہا ہے۔ 2021 سے 2024 کے درمیان لاکھوں پاکستانی بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ چکے ہیں۔ 2022 سے 2024 کے دوران تقریباً 25 لاکھ لوگ پاکستان سے باہر گئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ واپس آنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق تقریباً 37 فیصد پاکستانی ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ زیادہ پڑھے لکھے اور ہنر مند لوگ زیادہ تعداد میں باہر جانے کے خواہش مند ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف بے روزگار طبقے تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کے لیے اہم سمجھے جانے والے افراد بھی باہر جا رہے ہیں۔
2024 اور 2025 کے دوران تقریباً 5 ہزار ڈاکٹر، 11 ہزار انجینئر اور 13 ہزار اکاؤنٹنٹ پاکستان چھوڑ گئے۔ اس کے علاوہ لاکھوں دوسرے ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد بھی ملک سے باہر چلے گئے۔ اس سے ہسپتالوں میں عملے کی کمی، اداروں کی استعداد اور ترقی کی رفتار پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اس بیرونِ ملک روانگی کے پیچھے کچھ دل دہلا دینے والے واقعات بھی ہیں۔ 2 جنوری 2025 کو اسپین کے کینیری جزائر کے قریب ایک کشتی الٹ گئی جس میں 50 افراد جان سے گئے، جن میں 44 پاکستانی تھے۔ یہ لوگ صرف بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلے تھے لیکن ان کی منزل موت بن گئی۔
معاشی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے ترسیلاتِ زر کی صورت میں فائدہ ہوتا ہے۔ 2024 میں یہ رقم تقریباً 34.63 ارب ڈالر رہی اور مالی سال 2025 میں یہ 38.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ لیکن یہ حقیقت کا صرف ایک حصہ ہے۔
اگرچہ اس رجحان کو زیادہ تر برین ڈرین (Brain Drain) کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم ایک مختلف نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ یہ عمل مکمل طور پر منفی نہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق جو ہنر مند افراد بیرونِ ملک جاتے ہیں، وہ بعد ازاں علم، مہارت اور سرمایہ اپنے وطن منتقل کرتے ہیں۔ اس عمل کو برین سرکولیشن (Brain Circulation) کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ نئے کاروباری مواقع اور بین الاقوامی روابط بھی فروغ پاتے ہیں۔ تاہم یہ نقطۂ نظر اپنی جگہ اہم ہونے کے باوجود اس حقیقت کو کم نہیں کرتا کہ ہنر مند افراد کی بڑی تعداد کا بیرونِ ملک جانا ملکی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی مجموعی طور پر تقریباً 286.5 ارب ڈالر کماتے ہیں، لیکن اس کا صرف 27.3 ارب ڈالر پاکستان واپس آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کی قابلِ ذکر افرادی قوت اور مہارت کا ایک حصہ بیرونِ ملک استعمال ہو رہا ہے، جس کے طویل مدتی اثرات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
2050 تک موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تقریباً 20 لاکھ لوگ پاکستان کے اندر ہی بے گھر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ 2023 سے اب تک 5 لاکھ 27 ہزار سے زیادہ افغان مہاجرین کو بھی ملک بدر کیا جا چکا ہے، جو خطے میں نقل مکانی کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
پاکستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ترسیلاتِ زر وقتی طور پر معیشت کو سہارا دیتی ہیں، لیکن یہ ترقی کا مستقل حل نہیں ہیں۔ کوئی بھی ملک صرف باہر سے آنے والی رقم پر ترقی نہیں کر سکتا، بلکہ اسے اپنے لوگوں کو ملک کے اندر مواقع دینے ہوتے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ لوگ کیوں جا رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کس طرح ایسے مواقع پیدا کر سکتا ہے جہاں زیادہ سے زیادہ لوگ لوگ ملک کے اندر رہ کر ہی ترقی کر سکیں۔

keywords: Brain drain in Pakistan, MIgration and skilled workforce, Remittances and Economic dependency, Youth Migration crisis