خواتین کے لیے محفوظ مستقبل کب؟

خواتین کے لیے محفوظ مستقبل کب؟

خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات نہ صرف متاثرہ افراد بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں۔ محفوظ اور منصفانہ معاشرے کے قیام کے لیے قانون کے ساتھ ساتھ سماجی رویوں اور سوچ میں مثبت تبدیلی بھی ناگزیر ہے۔

تحریر : اِرم سہیل

کوئٹہ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کے حالیہ واقع نے ہمارے معاشرے میں خواتین کی غیر محفوظ حیثیت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا۔ ایک ایسی خاتون جو دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے ڈاکٹر بنی، خود تشدد کا نشانہ بن گئی—یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی حفاظت اب بھی ایک خواب ہے۔ یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ حادثہ نہیں بلکہ ایک بڑے اور گہرے مسئلے کی علامت ہے۔

عالمی سطح پر ایسڈ حملوں کے واقعات سالانہ تقریباً 10 ہزار تک اندازہ کیے جاتے ہیں، تاہم صرف 1500 سے 2000 کیسز ہی باقاعدہ رپورٹ ہوتے ہیں، جس کی بڑی وجہ کم رپورٹنگ ہے۔ مختلف مطالعات کے مطابق جنوبی ایشیا—جس میں بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان شامل ہیں—دنیا بھر کے تقریباً 70 فیصد یا اس سے زیادہ کیسز کا مرکز ہے۔ بنگلہ دیش میں سخت قوانین کے باعث ان واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ بھارت میں ہر سال چند سو کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اندازاً 70 سے 200 کیسز سالانہ رپورٹ ہوتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان جنوبی ایشیا کے ہائی رسک زون میں شامل ہے اور عالمی سطح پر ایک اہم متاثرہ ملک سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کے اندر یہ واقعات صوبائی طور پر بھی یکساں نہیں ہیں۔ مختلف این جی اوز اور مطالعات کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جو مجموعی واقعات کا آدھے سے زیادہ حصہ بنتے ہیں، خاص طور پر جنوبی پنجاب میں شرح زیادہ پائی جاتی ہے۔ سندھ کا حصہ نسبتاً کم مگر قابلِ ذکر ہے، جو مختلف رپورٹس کے مطابق تقریباً 10 سے 20 فیصد کے درمیان رہتا ہے، اور زیادہ تر کیسز کراچی سمیت بڑے شہروں میں سامنے آتے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرکاری اعداد و شمار کم ہیں، جن کا مجموعی حصہ سنگل ڈیجٹ سے کم یا معمولی ڈبل ڈیجٹ تک بتایا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق دور دراز اور متاثرہ علاقوں میں کم رپورٹنگ کے باعث اصل صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ مجموعی رجحان یہی ہے کہ پنجاب سب سے آگے، سندھ درمیانے درجے پر جبکہ کے پی اور بلوچستان میں رپورٹ شدہ کیسز نسبتاً کم ہیں۔

A patriarchal society میں بعض مرد خواتین کو ایک آزاد فرد کے بجائے اپنی ملکیت سمجھنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ جب خواتین تعلیمی یا پیشہ ورانہ میدان میں ترقی کرتی ہیں تو بعض اوقات اس کامیابی کو عدم برداشت اور male ego کی بنیاد پر قبول نہیں کیا جاتا۔ کچھ صورتوں میں عورت کی طرف سے انکار بھی مردوں کے لیے شدید ردِعمل کا سبب بنتا ہے، جو بعض اوقات تیزاب گردی جیسے غیر اخلاقی اور پرتشدد اقدامات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ واقعات معاشرے میں موجود گہرے سماجی اور نفسیاتی مسائل کی عکاسی کرتے ہیں، نہ کہ محض انفرادی مجرمانہ رویوں کی۔

Acid violence پاکستان میں صنفی تشدد (gender-based violence) کی بدترین شکلوں میں سے ایک ہے۔ تیزاب گردی کے اثرات جسم یا جلد تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ ایک گہرا اور دیرپا نفسیاتی صدمہ چھوڑتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایسے داغ اور زخم رہ جاتے ہیں جو بیرونی طور پر کبھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ یہ چوٹیں متاثرہ شخص کی ظاہری شکل کے ساتھ ساتھ اس کی عزتِ نفس، اعتماد اور پوری زندگی پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔

حال ہی میں کوئٹہ کے سول سنڈیمین ہسپتال میں تعینات ایک خاتون ڈاکٹر، ڈاکٹر ماہ نور، تیزاب گردی کا نشانہ بنیں۔ یہ حملہ ایک شخص کی جانب سے کیا گیا، جو بعد ازاں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گیا۔

یہ پاکستان میں رپورٹ ہونے والا واحد تیزاب گردی کا واقعہ نہیں ہے۔ جون 2025 میں ضلع خانیوال میں ایک خاتون، ممتاز بی بی، پر اس کے سابق شوہر شبیر احمد نے اس وقت حملہ کیا جب اس نے طلاق کے بعد دوسری شادی کی۔ مارچ 2024 میں گرین ٹاؤن سے تعلق رکھنے والی تیزاب گردی کی متاثرہ خاتون، مصباح آفتاب، پر مبینہ طور پر اس کے سابق شوہر، قاری شوکت، نے تیزاب سے حملہ کیا۔

پاکستان میں تیزاب گردی کے جرائم کو سزا دینے کے لیے موجودہ قانونی ڈھانچے میں Acid Control and Acid Crime Prevention Act, 2011 شامل ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 336-B کے تحت مجرموں کو عمر قید تک کی سزا اور کم از کم پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود تیزاب کی آسان دستیابی اس قسم کے جرائم کی ایک بڑی وجہ ہے، جس کے لیے سخت نگرانی اور مؤثر ریگولیشن کی ضرورت ہے۔

تاہم صرف قوانین ہی ایسے پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنے کے لیے کافی نہیں۔ اس مسئلے کی جڑوں میں موجود ذہنیت کو بھی تبدیل کرنا ناگزیر ہے جو صنفی تشدد کو جنم دیتی ہے۔ حکومت اور معاشرے دونوں کو مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے کام کرنا ہوگا۔ قانونی اقدامات کے ساتھ ساتھ مؤثر آگاہی مہمات کی بھی ضرورت ہے تاکہ سماجی رویوں میں تبدیلی لائی جا سکے اور خواتین کو ایک آزاد اور باعزت انسانی وجود کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

Keywords : Women's rights, Acid violence, Social Justice, Gender equality

 


Related News

موسمیاتی تبدیلی: خطرہ، ذمہ داری اور عمل
موسمیاتی تبدیلی: خطرہ، ذمہ داری اور عمل
موسمیاتی تبدیلی انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والا ایک عالمی بحران ہے جو درجہ حرارت میں اضافے، سیلاب، خشک...
نصیرآباد کے نوجوان گلوکار شاہد جمالی نے صوبائی سطح پر کامیابی کا نیا باب رقم کر دیا
نصیرآباد کے نوجوان گلوکار شاہد جمالی نے صوبائی سطح پر کامیابی کا نیا باب رقم کر دیا
ضلع نصیرآباد سے تعلق رکھنے والے نوجوان گلوکار شاہد جمالی نے "ایمان بلوچستان ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام" میں اے کلاس کیٹ...
ورلڈ اوشنز ڈے: سمندروں کے تحفظ کا عالمی پیغام اور بلوچستان کی اہمیت
ورلڈ اوشنز ڈے: سمندروں کے تحفظ کا عالمی پیغام اور بلوچستان کی اہمیت
ورلڈ اوشنز ڈے کے موقع پر سمندروں کے تحفظ، آلودگی کے خاتمے اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کی اہمیت کو اجاگ...
قلات کے توت کے باغات: قدرت کا میٹھا تحفہ
قلات کے توت کے باغات: قدرت کا میٹھا تحفہ
قلات ان دنوں توت کے پھل سے بھرپور ہے جہاں باغات اور پہاڑی وادیاں اس قدرتی نعمت سے جگمگا رہی ہیں۔ یہ میٹھا اور...
"50" پھل کی بڑھتی مقبولیت، سنجاوی کو نئی زرعی شناخت ملنے لگی
"50" پھل کی بڑھتی مقبولیت، سنجاوی کو نئی زرعی شناخت ملنے لگی
سنجاوی کے باغات میں پیدا ہونے والا منفرد "50" پھل اپنے ذائقے، خوشبو اور معیار کی بدولت مقامی اور بیرونی منڈیوں...
سوشل میڈیا: ترقی یا تقسیم؟
سوشل میڈیا: ترقی یا تقسیم؟
سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی، تعلیم، کاروبار اور سیاسی شعور کو فروغ دے کر افراد کو بااختیار بنایا ہے، مگر اس...