ہم دائیں ہاتھ سے سلام کیوں کرتے ہیں؟ ایک سادہ عمل کے پیچھے تاریخ، مذہب اور سائنس

ہم دائیں ہاتھ سے سلام کیوں کرتے ہیں؟ ایک سادہ عمل کے پیچھے تاریخ، مذہب اور سائنس

دائیں ہاتھ سے سلام کرنا محض ایک معمولی عادت نہیں بلکہ اس کے پیچھے صدیوں پرانی تاریخ، مذہبی تعلیمات اور سائنسی و نفسیاتی وجوہات کارفرما ہیں۔ قدیم دور میں دائیں ہاتھ سے سلام امن اور اعتماد کی علامت تھا کیونکہ یہی ہاتھ ہتھیار پکڑنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ مختلف تہذیبوں اور خاص طور پر اسلام میں دائیں ہاتھ کو اچھے اور پاکیزہ کاموں کے لیے ترجیح دی گئی۔ سائنسی طور پر بھی دائیں ہاتھ دماغ کے اُس حصے سے جڑا ہے جو فیصلے اور اعتماد سے متعلق ہے، جبکہ نفسیات کے مطابق مصافحہ باہمی تعلق اور بھروسہ بڑھاتا ہے۔ یوں دائیں ہاتھ سے سلام آج بھی احترام، اعتماد اور انسانیت کی ایک مضبوط علامت سمجھا جاتا ہے۔

ہم دائیں ہاتھ سے سلام کیوں کرتے ہیں؟

تحریر: ماہ رنگ بلوچ

ہم روزمرہ زندگی میں جب کسی سے ملتے ہیں تو عموماً دائیں ہاتھ سے سلام یا مصافحہ کرتے ہیں۔ یہ بات ہمیں اتنی عام لگتی ہے کہ ہم اکثر یہ سوچتے ہی نہیں کہ آخر دائیں ہاتھ ہی کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ بائیں ہاتھ سے سلام کرنا کیوں عجیب یا غیر مناسب سمجھا جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس عادت کے پیچھے تاریخ، مذہب اور سائنس تینوں موجود ہیں قدیم زمانے میں انسان کی زندگی آج کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ تھی۔ لوگ اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار رکھتے تھے، جیسے تلوار یا خنجر۔ چونکہ زیادہ تر لوگ دائیں ہاتھ سے کام کرتے تھے، اس لیے ہتھیار بھی عموماً دائیں ہاتھ میں ہوتے تھے۔

جب دو لوگ آپس میں ملتے تھے تو دائیں ہاتھ کو آگے بڑھانا اس بات کا اشارہ ہوتا تھا کہ اس ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں اور ملنے والا شخص امن کے ساتھ آیا ہے۔ یوں دائیں ہاتھ سے سلام کرنا اعتماد اور بھروسے کی علامت بن گیا۔وقت کے ساتھ یہ عمل ایک سماجی روایت بن گیا۔ مختلف تہذیبوں میں دائیں ہاتھ کو طاقت، سچائی اور اچھے ارادے کی علامت سمجھا جانے لگا۔ بعد میں مذاہب، خاص طور پر اسلام میں، دائیں ہاتھ کو اچھے اور صاف کاموں کے لیے ترجیح دی گئی، جیسے کھانا کھانا، کسی کو چیز دینا اور سلام کرنا۔ اس طرح یہ روایت مزید مضبوط ہو گئی۔مصافحہ صرف ہاتھ ملانے کا عمل نہیں بلکہ انسان کی فطرت اور رویّے کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق ہاتھ ملانے کے انداز سے کسی شخص کے مزاج کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگ بہت ڈھیلا اور جلدی ہاتھ چھڑا لیتے ہیں، جو اس بات کی نشانی ہو سکتا ہے کہ وہ رسمی طور پر یا جان چھڑانے کے لیے سلام کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ بہت زور سے ہاتھ دباتے ہیں، جو کبھی کبھار حد سے زیادہ برتری دکھانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ جبکہ جو لوگ اعتدال اور خلوص کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں، وہ عام طور پر پُراعتماد، مہذب اور سنجیدہ سمجھے جاتے ہیںاگر ہم اس عادت کو سائنسی نظر سے دیکھیں تو بھی کئی دلچسپ باتیں سامنے آتی ہیں۔ سائنس کے مطابق انسان کا دماغ دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے: دایاں اور بایاں حصہ۔ دماغ کا بایاں حصہ جسم کے دائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے۔ چونکہ دماغ کا بایاں حصہ سوچنے، بولنے اور فیصلے کرنے سے زیادہ جڑا ہوتا ہے، اس لیے دائیں ہاتھ کے کام زیادہ بہتر اور درست ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا کی بڑی تعداد دائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں پر مشتمل ہے۔نفسیات کے مطابق دائیں ہاتھ سے مصافحہ کرنے سے اعتماد کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ایک متوازن اور مناسب مصافحہ سامنے والے شخص کے ذہن میں اچھا تاثر چھوڑتا ہے۔ تحقیق کے مطابق مصافحہ کرنے سے جسم میں آکسیٹوسن نامی ہارمون خارج ہوتا ہے، جو اعتماد اور تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔ چونکہ دائیں ہاتھ زیادہ طاقت اور کنٹرول رکھتا ہے، اس لیے اس ہاتھ سے سلام زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ صفائی کے حوالے سے بھی ایک سائنسی اور سماجی پہلو موجود ہے۔ زیادہ تر معاشروں میں بایاں ہاتھ صفائی کے کاموں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، اسی لیے دائیں ہاتھ کو نسبتاً صاف سمجھا گیا اور اسے رسمی ملاقات کے لیے بہتر مانا گیا۔
آج اگرچہ دنیا بہت بدل چکی ہے اور ہمیں ہتھیار لے کر گھومنے کی ضرورت نہیں، مگر دائیں ہاتھ سے سلام کرنے کی روایت اب بھی زندہ ہے۔ یہ روایت ہمیں ماضی، مذہب اور سائنس تینوں سے جوڑتی ہے۔ جب ہم دائیں ہاتھ سے سلام کرتے ہیں تو ہم صرف ایک شخص سے نہیں ملتے، بلکہ اعتماد، احترام اور انسانیت کی ایک قدیم علامت کو زندہ رکھتے ہیں۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دائیں ہاتھ سے سلام کرنا بظاہر ایک سادہ سی حرکت ہے، مگر اس کے پیچھے تاریخ، سائنس اور انسانی نفسیات کی گہری سمجھ موجود ہے۔


Related News

قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی چنائی زور و شور سے جاری ہے اور روزانہ بڑی مقدار میں تازہ پھل ملک کی مختلف منڈیوں میں بھیجا جا...
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت تعلیم کے شعبے میں سیکھنے کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، مگر اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال طلبہ کی تخ...
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
بلوچستان کے ضلع نوشکی کے اعلیٰ معیار اور قدرتی مٹھاس سے بھرپور انگور ملک بھر کی منڈیوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہ...
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی اب پوری دنیا کے لیے ایک سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ اگر ہم توانائی اور پانی کے درست ا...
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ (لا آف اسمپشن) کے مطابق انسان جن خیالات اور یقین کو اپنی حقیقت مان لیتا ہے، وہی اس کے رویوں اور...
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
ضلع بارکھان کے علاقے بغاؤ میں گاجا سیب کی فصل تیار ہو چکی ہے اور آئندہ چند روز میں توڑائی کے بعد یہ ملک بھر کی...