ورلڈ اوشنز ڈے: سمندروں کے تحفظ کا عالمی پیغام اور بلوچستان کی اہمیت

ورلڈ اوشنز ڈے: سمندروں کے تحفظ کا عالمی پیغام اور بلوچستان کی اہمیت

ورلڈ اوشنز ڈے کے موقع پر سمندروں کے تحفظ، آلودگی کے خاتمے اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان کی 770 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کو قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔

تحریر : اِرم سہیل

ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں ورلڈ اوشنز ڈے (World Oceans Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد سمندروں کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کے تحفظ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے۔ مختلف ممالک میں آگاہی مہمات، صفائی کی سرگرمیاں اور خصوصی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ سمندری آلودگی، پلاسٹک ویسٹ اور دیگر ماحولیاتی خطرات کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا جا سکے۔

سمندر زمین کے 70 فیصد سے زائد حصے پر محیط ہیں اور انسانی زندگی سمیت تمام جانداروں کی بقا میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی کم از کم 50 فیصد آکسیجن سمندروں سے حاصل ہوتی ہے جبکہ یہ زمین کی بیشتر حیاتیاتی تنوع (بایو ڈائیورسٹی) کا مسکن بھی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ارب سے زائد افراد کے لیے پروٹین کا اہم ذریعہ سمندر ہی ہیں۔

سمندر عالمی معیشت میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ماہی گیری، تجارت، سیاحت اور دیگر سمندری صنعتیں لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہیں، جبکہ اندازہ ہے کہ 2030 تک تقریباً 40 ملین افراد سمندر سے وابستہ شعبوں میں کام کر رہے ہوں گے۔

تاہم ان فوائد کے باوجود سمندر آج سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔ ماحولیاتی اداروں کے مطابق بڑی مچھلیوں کی تقریباً 90 فیصد آبادی ختم ہو چکی ہے جبکہ دنیا کی نصف مرجان کی چٹانیں تباہ ہو چکی ہیں۔ آلودگی، پلاسٹک کا بڑھتا استعمال، غیر پائیدار ماہی گیری اور موسمیاتی تبدیلیوں نے سمندری ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو بلوچستان کی تقریباً 770 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی قومی معیشت، ماہی گیری، سیاحت اور بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ساحلی وسائل نہ صرف روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں بلکہ ملکی اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ورلڈ اوشنز ڈے کے موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان، Mir Sarfraz Bugti نے سمندری وسائل کے تحفظ، آلودگی کے خاتمے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار مستقبل یقینی بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سمندروں اور ساحلی علاقوں کا تحفظ ماحولیاتی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اقتصادی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

آج کا دن اس عزم کی تجدید کا تقاضا کرتا ہے کہ سمندر کے وسائل سے ذمہ داری کے ساتھ استفادہ کیا جائے، آلودگی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں اور قدرت کے اس عظیم خزانے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جائے۔

Keywords : World Ocean Day, Marine Conservation, Balochistan Coastline, Blue Economy

 


Related News

نصیرآباد کے نوجوان گلوکار شاہد جمالی نے صوبائی سطح پر کامیابی کا نیا باب رقم کر دیا
نصیرآباد کے نوجوان گلوکار شاہد جمالی نے صوبائی سطح پر کامیابی کا نیا باب رقم کر دیا
ضلع نصیرآباد سے تعلق رکھنے والے نوجوان گلوکار شاہد جمالی نے "ایمان بلوچستان ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام" میں اے کلاس کیٹ...
قلات کے توت کے باغات: قدرت کا میٹھا تحفہ
قلات کے توت کے باغات: قدرت کا میٹھا تحفہ
قلات ان دنوں توت کے پھل سے بھرپور ہے جہاں باغات اور پہاڑی وادیاں اس قدرتی نعمت سے جگمگا رہی ہیں۔ یہ میٹھا اور...
"50" پھل کی بڑھتی مقبولیت، سنجاوی کو نئی زرعی شناخت ملنے لگی
"50" پھل کی بڑھتی مقبولیت، سنجاوی کو نئی زرعی شناخت ملنے لگی
سنجاوی کے باغات میں پیدا ہونے والا منفرد "50" پھل اپنے ذائقے، خوشبو اور معیار کی بدولت مقامی اور بیرونی منڈیوں...
سوشل میڈیا: ترقی یا تقسیم؟
سوشل میڈیا: ترقی یا تقسیم؟
سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی، تعلیم، کاروبار اور سیاسی شعور کو فروغ دے کر افراد کو بااختیار بنایا ہے، مگر اس...
موسمیاتی تبدیلی اور ہیٹ ویوز کا بڑھتا خطرہ: ممکنہ حل
موسمیاتی تبدیلی اور ہیٹ ویوز کا بڑھتا خطرہ: ممکنہ حل
موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی ہیٹ ویوز پاکستان سمیت گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہ...
سڑکیں، تارکول اور بڑھتی گرمی: کیا ہم خود اپنا موسم بدل رہے ہیں؟
سڑکیں، تارکول اور بڑھتی گرمی: کیا ہم خود اپنا موسم بدل رہے ہیں؟
ماہرین کے مطابق سیاہ تارکول کی سڑکیں سورج کی حرارت جذب کرکے دن اور رات کے درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں...