زرغون رینج: کوئٹہ کا سرسبز ماحولیاتی اثاثہ

زرغون رینج: کوئٹہ کا سرسبز ماحولیاتی اثاثہ

زرغون رینج کوئٹہ کے قریب واقع ایک اہم پہاڑی سلسلہ ہے جو اپنی سرسبزی اور قدرتی خوبصورتی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ علاقہ نہ صرف ماحولیاتی توازن برقرار رکھتا ہے بلکہ پانی، حیاتیاتی تنوع اور سیاحت کے لیے بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تحریر : اِرم سہیل

زرغون رینج، جسے کوہِ زرغون یا زرغون غر بھی کہا جاتا ہے، کوئٹہ کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہ سلسلہ کوہ مرکزی براہوئی سلسلے کا حصہ اور سلیمان پہاڑی سلسلے کی ایک شاخ ہے۔ “زرغون” ایک پشتو لفظ ہے جس کا مطلب “سبز” یا “سرسبز” ہے، جو اس علاقے کی قدرتی خوبصورتی اور نسبتاً سرسبز ماحول کی درست عکاسی کرتا ہے۔

یہ پہاڑی سلسلہ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ کوئٹہ اور اس کے گردونواح کے لیے ایک اہم ماحولیاتی سہارا بھی ہے۔ زرغون رینج بارش اور برف کے پانی کو جذب کرکے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو بھرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ چشموں اور موسمی ندی نالوں کو بھی سہارا فراہم کرتا ہے۔ اس کے جنگلات، خصوصاً جونیپر کے درخت، نہ صرف ماحول کو صاف رکھتے ہیں بلکہ مٹی کے کٹاؤ کو بھی روکتے ہیں اور حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھتے ہیں۔

تاریخی طور پر اس علاقے کو برطانوی دور میں خاص اہمیت حاصل ہوئی جب کوئٹہ ایک فوجی چھاؤنی تھا۔ اس کا خوشگوار موسم برطانوی افسران اور ان کے خاندانوں کے لیے باعثِ کشش تھا، اور وہ گرمیوں میں یہاں وقت گزارنے آتے تھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد یہ خطہ بتدریج مقامی سیاحت کا مرکز بنتا گیا۔

حالیہ برسوں میں زرغون رینج میں سیاحت کے رجحانات میں تبدیلی آئی ہے۔ اب یہاں ماحولیاتی سیاحت اور ایڈونچر ٹورازم کو فروغ مل رہا ہے۔ سیاح ٹریکنگ، ہائیکنگ اور کوہ پیمائی جیسی سرگرمیوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ پرندوں کا مشاہدہ بھی اس علاقے کی ایک نمایاں کشش بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس خطے کو مزید متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

زرغون رینج کا مستقبل پائیدار سیاحت سے وابستہ ہے۔ اگر بہتر بنیادی ڈھانچہ، تحفظِ ماحول اور ذمہ دار سیاحتی پالیسیاں اپنائی جائیں تو یہ خطہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں ایک اہم ماحولیاتی سیاحتی مقام بن سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ مقامی آبادی کے لیے معاشی مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔

آخرکار زرغون رینج صرف پہاڑوں کا سلسلہ نہیں بلکہ کوئٹہ کی زندگی، پانی اور ماحول کا ایک اہم سہارا ہے، جو اسے بلوچستان کے قدرتی ورثے میں ایک منفرد مقام دیتا ہے۔

Keywords : Zarghoon Range, Quetta, Eco Tourism, Biodiversity


Related News

قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی چنائی زور و شور سے جاری ہے اور روزانہ بڑی مقدار میں تازہ پھل ملک کی مختلف منڈیوں میں بھیجا جا...
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت تعلیم کے شعبے میں سیکھنے کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، مگر اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال طلبہ کی تخ...
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
بلوچستان کے ضلع نوشکی کے اعلیٰ معیار اور قدرتی مٹھاس سے بھرپور انگور ملک بھر کی منڈیوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہ...
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی اب پوری دنیا کے لیے ایک سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ اگر ہم توانائی اور پانی کے درست ا...
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ (لا آف اسمپشن) کے مطابق انسان جن خیالات اور یقین کو اپنی حقیقت مان لیتا ہے، وہی اس کے رویوں اور...
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
ضلع بارکھان کے علاقے بغاؤ میں گاجا سیب کی فصل تیار ہو چکی ہے اور آئندہ چند روز میں توڑائی کے بعد یہ ملک بھر کی...