ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس کا 26واں اجلاس، بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ
کوئٹہ میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس کے 26ویں اجلاس میں بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال اور آپریشن شعبان کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں، ریاستی رٹ کے استحکام اور امن کے قیام کے لیے تمام اداروں کے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد خان بگٹی کی زیرِ صدارت ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس کا 26واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات اور امن و استحکام کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے باہمی تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بلوچستان میں پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان اور پولیس کے مشترکہ آپریشن "شُعبان" کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر انداز میں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
فورم نے ہنہ اوڑک اور منگی ڈیم کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور بلوچستان میں امن و استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت عوام کے تعاون سے مشترکہ طور پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور ریاست دشمن عناصر کے لیے بلوچستان میں کوئی جگہ نہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت گورننس کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات کر رہی ہے تاکہ ریاستی اداروں کی کارکردگی بہتر ہو اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ذریعے امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ خصوصاً دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر بھی بھرپور توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ پائیدار امن اور ترقی ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔
اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں، قانون نافذ کرنے والے محکموں اور سکیورٹی فورسز، جن میں پاکستان آرمی، ایف سی بلوچستان، پاکستان کوسٹ گارڈ، پولیس، ایف آئی اے، کسٹمز اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان میں امن، ریاستی رٹ کے استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔

Keywords : Balochistan Security, Hardening of the State Conference, Operation Shaban, Counterterrorism