بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا سیوریج کے پانی سے کاشت سبزیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 43 ایکڑ پر فصلیں تلف
بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 43 ایکڑ پر سیوریج کے پانی سے کاشت کی گئی مضر صحت سبزیاں تلف کر دیں۔ اتھارٹی نے آلودہ پانی کی فراہمی کے ذرائع بند کرتے ہوئے محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے بلاامتیاز کریک ڈاؤن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
کوئٹہ: بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے سیوریج کے پانی سے کاشت کی جانے والی مضر صحت سبزیوں کے خلاف خصوصی کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کامیاب کارروائی کے دوران تقریباً 43 ایکڑ رقبے پر موجود آلودہ فصلیں تلف کر دیں۔
بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق مرحلہ وار کارروائیوں کے دوران سریاب، کلی جیو اور کشمیر آباد میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے سیوریج کے پانی سے کاشت کی گئی مختلف سبزیوں کو موقع پر ہی تلف کر دیا۔ تلف کی جانے والی سبزیوں میں پودینہ، اسپرنگ اونین، سلاد اور جامنی مولی شامل ہیں، جنہیں انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر قرار دیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے آلودہ پانی کی فراہمی کے ذرائع کی تصدیق کے بعد کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف مضر صحت سبزیوں کو مارکیٹ تک پہنچنے سے روک دیا بلکہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے کاشت میں استعمال ہونے والے سیوریج کے تمام راستے بھی بند کر دیے۔
انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ہدایات پر خصوصی انفورسمنٹ آپریشن کامیابی سے جاری ہے، جبکہ ڈائریکٹر آپریشنز اور ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز کی نگرانی میں فوڈ سیفٹی ٹیمیں گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔
بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مضر صحت خوراک اور غیر قانونی طریقوں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔

Keywords : Balochistan Food Authority, Food Safety, Sewage Water, Enforcement Operation