اے آر آئی کوئٹہ میں غذائی فضلے سے نامیاتی کھاد بنانے کی تربیت، پائیدار زراعت کے فروغ پر زور
زرعی تحقیقاتی ادارہ بلوچستان (اے آر آئی) کوئٹہ میں ورلڈ فوڈ پروگرام اور ایکٹ انٹرنیشنل کے تعاون سے غذائی فضلے کو نامیاتی کھاد میں تبدیل کرنے سے متعلق تربیتی سیشن منعقد ہوا۔ ڈاکٹر قاسم کاکڑ، خورشید اقبال، آصف زہری، عبدالرسول اور ڈاکٹر ہدایت اللہ کاکڑ نے پائیدار زراعت اور ماحول دوست فضلہ انتظامی طریقوں کی اہمیت اجاگر کی
کوئٹہ: زرعی تحقیقاتی ادارہ بلوچستان (اے آر آئی) کوئٹہ میں خوراک کے ضیاع کو کارآمد نامیاتی کھاد میں تبدیل کرنے سے متعلق تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد پائیدار زراعت اور ماحول دوست فضلہ کے انتظامی طریقوں کو فروغ دینا تھا۔تربیتی پروگرام کا انعقاد ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) اور ایکٹ انٹرنیشنل کے تعاون سے کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت ڈائریکٹر جنرل زرعی تحقیقاتی ادارہ بلوچستان ڈاکٹر قاسم کاکڑ نے کی، جبکہ ڈبلیو ایف پی کے ٹیم سربراہ خورشید اقبال نے اسکول غذائی پروگرام اور اس سے پیدا ہونے والے پھلوں اور سبزیوں کے فضلے کو نامیاتی کھاد میں تبدیل کرنے کے امکانات پر بریفنگ دی۔تکنیکی تربیت ڈبلیو ایف پی کے مشیر آصف زہری، ایکٹ انٹرنیشنل کے مشیر عبدالرسول اور زرعی کیمیا دان ڈاکٹر ہدایت اللہ کاکڑ نے فراہم کی۔ شرکاء کو نامیاتی کھاد سازی کے مختلف مراحل، بشمول فضلے کی علیحدگی، نامیاتی مواد کی تیاری اور تیار شدہ کھاد کے استعمال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ڈاکٹر قاسم کاکڑ نے اس موقع پر کہا کہ گھریلو اور غذائی فضلے کو ماحولیاتی بوجھ سمجھنے کے بجائے ایک قیمتی وسیلہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نامیاتی کھاد سازی مٹی کی زرخیزی بڑھانے، فصلوں کی پیداوار بہتر بنانے اور صاف ستھرے ماحول کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔شرکاء نے اے آر آئی کوئٹہ میں قائم نامیاتی کھاد سازی کے یونٹ کا دورہ بھی کیا، جہاں انہیں نامیاتی فضلے کو قدرتی طریقے سے کھاد میں تبدیل کرنے کے عملی مراحل کا مشاہدہ کرایا گیا۔۔

Keywords : Composting, WFP, ARI Quetta, Sustainable Agriculture