بلوچستان کی تجویز: سیلاب بحالی کے باقی فنڈز کمیونٹی انفراسٹرکچر پر خرچ کیے جائیں
حکومت بلوچستان نے تجویز دی ہے کہ سیلاب متاثرہ اضلاع کے لیے مختص باقی ماندہ وسائل کو انفرادی گھروں کے بجائے سڑکوں، آبنوشی، تعلیم اور صحت سمیت عوامی انفراسٹرکچر کی بحالی پر خرچ کیا جائے۔ پلاننگ کمیشن نے اصولی طور پر اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے معاملہ متعلقہ ڈونر ایجنسی کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا۔
کوئٹہ/اسلام آباد: حکومت بلوچستان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے ایک اہم تجویز پیش کرتے ہوئے سفارش کی ہے کہ متاثرہ اضلاع کے لیے مختص باقی ماندہ وسائل کو انفرادی ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کے بجائے کمیونٹی انفراسٹرکچر کی بحالی اور تعمیر پر خرچ کیا جائے۔
یہ تجویز اسلام آباد میں منعقدہ آئی ایف آر اے پی (IFRAP) کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے گیارہویں اجلاس کے دوران پلاننگ کمیشن آف پاکستان کو پیش کی گئی۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کی، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔
اجلاس کو سیلاب متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر اور بحالی کے منصوبے پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکومت بلوچستان نے مؤقف اختیار کیا کہ دستیاب وسائل کو صرف انفرادی تعمیرات تک محدود رکھنے کے بجائے سڑکوں، آبنوشی، نکاسی آب، تعلیمی اداروں، صحت کی سہولیات اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ متاثرہ آبادی مستفید ہو سکے۔
اجلاس میں بلوچستان حکومت کی تجویز پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کے بعد پلاننگ کمیشن نے اصولی طور پر اس سے اتفاق کرتے ہوئے معاملہ متعلقہ ڈونر ایجنسی کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اس موقع پر آئی ایف آر اے پی منصوبے کی مالی اور فزیکل پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ منصوبے پر عملدرآمد کی رفتار، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا اور دستیاب وسائل کو عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔

Keywords : Food Rehabilitation, Community Infrastructure, Balochistan Government, Planning Commission of Pakistan