وزیر اعلیٰ بلوچستان کا محرم الحرام کے سیکیورٹی پلان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اجلاس میں محرم الحرام کے دوران امن و امان اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ صوبے کے 6 اضلاع کو حساس اور 11 اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے مؤثر نگرانی اور پیشگی اقدامات پر زور دیا گیا۔
رپورٹ : نتاشا
محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں محکمہ داخلہ کی جانب سے محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی صورتحال، جلوسوں اور مجالس کے تحفظ کے لیے کیے گئے انتظامات پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ 9 اور 10 محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ایمرجنسی رسپانس پلان تیار کر لیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی سے متعلق ضروری احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے 6 اضلاع کو حساس جبکہ 11 اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، جہاں سیکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ باہمی رابطے اور مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے سیکیورٹی پلان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ جلوسوں اور مجالس کی سیکیورٹی کے لیے پیشگی اقدامات کے ساتھ مسلسل نگرانی کا مؤثر نظام بھی برقرار رکھا جائے۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ باہمی رواداری، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تمام مکاتبِ فکر کے اکابرین کا تعاون قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امن خراب کرنے یا اشتعال انگیزی پھیلانے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محرم الحرام کے دوران عوام کو پرامن اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

Keywords : Muharram Security, Balochistan Government, Sarfraz Bugti, Law and Order